رضویات کےتشنہ گوشے

انصار احمد مصباحی:☜ کاش! اس عنوان👇 پر کوئی ماہر

ایک تحقیقی مقالہ پیش کردے تو وہ بہت مفید اور موزوں ہوگا۔

تاریخ میں ایسے کم لوگ پیدا ہوئے ہیں ، جن کی ذات ایک مکمل فن، عنوان سخن اور موضوع تحقیق بن جائے۔ نابغہ عصر، عبقری الشرق، مجدد اعظم، فقیہ، محدث، عاشق رسول ﷺ امام احمد رضا خان ریلوی علیہ الرحمہ کی ذات فقط ایک فن یا موضوع نہیں، ایک ”جہان علوم و فنون“ ہے۔ آج جب کہ خطابات و القاب سے دست درازی عروج پر ہے، عرب و عجم کے ذمہ دار علما نے آپ کے لئے جتنے القاب کا استعمال کیا ہے، آپ کی ذات پر حرف بحرف موزوں ہے۔ اعلٰی حضرت میں، مجدد عرب و عجم ہونے کی ساری خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں؛ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے محققین، دانش ور اور ادبا نے امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات کو موضوع تحقیق بنایا اور اس ذات کو ایک سبجیکٹ ”رضویات“ طور پر تسلیم کیا۔

رضویات:

”رضویات“ امام احمد رضا خان بریلوی کی علمی، فکری، تحقیقی و تصنیفی خدمات کی علمی تحقیق کے لیے استعمال کی جانی والی ”اصطلاح“ ہے۔ اس کے ماہرین ”ماہرین رضویات“ کہلاتے ہیں۔ یہ اصطلاح بطور علم کی فرع، پہلی بار 1989ء میں تحریری طور پر ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا، کراچی کی شائع کردہ کتاب ”آئنیہ رضویات“ میں مولانا سید وجاہت رسول قادری نے استعمال کی۔ اس کے بعد 1992ء سے یہ اصطلاح باقاعدہ ماہنامہ معارف رضا (جو اس وقت سالانہ تھا) میں استعمال کی جانے لگی۔ پروفیسر مسعود احمد نقش بندی کے لیے پہلی بار ”ماہر رضویات“ کا خطاب استعمال کیا گیا۔ سال 2018ء میں کنز الایمان فاؤنڈیشن ، بریلی شریف ، انڈیا نے رضویات کے موضوع پر دنیا کی پہلی اکیڈمک ریسرچ کانفرنس کا انعقاد کیا ، جس کے بعد تنظیم نے رضویات کی فروغ کے لئے ایک ریسرچ شعبے کا اعلان کیا۔ (وکی پیڈیا، ”رضویات“)

رضویات پر اب تک جتنی کتابیں لکھی جا چکی ہیں، پچھلے پانچ سو سالوں میں، کسی مذہبی اسکالر یا رہنما کے لئے لکھی گئیں کتابوں میں سب سے زیادہ ہے۔ رضویات کے فروغ کے لئے رضا اکیڈمی ممبئی / لاہور؛ مرکزی مجلس رضا، لاہور؛ المجمع الاسلامی، مبارک پور؛ امام احمد رضا اکیڈمی ، بریلی؛ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا ، کراچی جیسی تنظیمیں وجود میں آئیں، بڑی سرعت سے کام ہوئے، امام احمد رضا خان بریلوی کی نعتیہ شاعری پر ہزاروں صفحات لکھے گئے، فقہ پر معتد بہ تعداد میں لکھا گیا، علم حدیث پر لکھا گیا، آپ کی تحریر کردہ احادیث چھے ضخیم جلدوں میں جمع کی گئیں، تصوف پر کام ہوا، خطوط جمع اور مرتب ہوئے، ملفوظات شایع ہوئیں، سفرنامے بھی چھپے، فتاوی رضویہ کی عمدہ اشاعت ہوئی، تصانیف و رسائل منشہ شہود پر لائے گئے، عالمی لیبل کے محققین آگے بڑھے، مختلف یونیورسٹیوں نے تحقیقات کر وائیں، ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقش بندی، حکیم موسی امرتسری ، بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی، تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری میاں (رحمھم اللہ) ، پروفیسر اوشا سانیال، پروفیسر مجید اللہ قادری، علامہ سید وجاہت رسول قادری، علامہ حنیف رضا خان بریلوی، مولانا عیسی رضوی، مولانا عبد الحکیم اخترؔ شاہ جہاں پوری، علامہ عبد الحکیم شرفؔ قادری، ڈاکٹر مفتی غلام جابر شمسؔ مصباحی ، مولانا یاسین اختر مصباحی جیسے ماہرین رضویات مردے از غیب کی شکل میں سامنے آئے۔ امید سے زیادہ کام ہوا۔ آخر میں مارہرین کو یہ کہنا پڑا کہ رضویات کا سمندر نا پیدا کنار ہے، یہ وہ جہان ہے، جو تا حد نگاہ وسیع ہے، یہ علوم و معارف کا وہ آسمان ہے، جس میں ان گنت تہیں اور پرتیں ہیں۔

فقیر، عنوان ”رضویات کے تشنہ گوشے“ سے انصاف کرنے کا بالکل اہل نہیں ہے ، اکابر کی کتابوں اور مضامین سے چند باتیں اخذ کرکے یکجا کرنے کی نا تمام کوشش کی ہے، میں تو بے بضاعت ہوں، رضویات کی نئی جہات کے حوالے سے ، پاکستان کے مشہور عالم دین اور ماہر رضویات، حضرت علامہ سید وجاہت رسول قادری علیہ الرحمہ نے معارف رضا 1992ء میں چند باتوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔ کچھ اضافے کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ کاش اس عنوان پر کوئی ماہر ایک تحقیقی مقالہ پیش کردے تو وہ بہت مفید اور موزوں ہوگا۔

کنزالایمانکیاشاعت_نو:

میری معلومات کی حد تک، ابھی تک کنز الایمان شریف کی معیاری اشاعت نہیں ہو پائی ہے۔ پڑھنے والے جانتے ہیں، کنز الایمان مع خزائن العرفان پڑھنے میں قارئین کو دقتوں کا سامنا ہوتا ہے، بار بار صفحات پلٹنے پڑتے ہیں، ترجمہ ایک صفحے میں ہے تو تفسیر دوسرے یا تیسرے صفحے میں۔ مجھے تو بہت دقت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی تو اوب جاتا ہوں۔ ضروری ہے کہ ”کنز الایمان مع خزائن العرفان“ کو دو جلدوں میں اس طرح شائع کیا جائے کہ تفسیر، ترجمے کے آس پاس ہی ہوں۔

اعلٰیحضرتکےادبیخدمات:

فاضل بریلوی کی نعتیہ شاعری پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، زبان و ادب پر آپ کی دست رس اور عربی، اردو اور فارسی میں مہارت بھی عوام کے سامنے لائی گئی ہے۔ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی کی شخصیت صرف ماہر ادیب کی نہیں ، وہ ادیب گر اور ادب نواز بھی تھے، وہ امام شعر و ادب ہونے کے ساتھ ساتھ ادیب ساز بھی تھے۔ جسے یقین نہ ہو وہ صرف، حضور غوث اعظم دست گیر سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے قصیدہ خمریہ کی عربیت کے تعلق سے لکھا گیا رسالہ پڑھ لے۔ آپ نے فتاوی، خطوط، تصانیف اور مضامین کے ذریعے، زبان و بیان کے تصنع اور ریا کے دور میں، سادہ اور سلیس زبان کو فروغ دیا، اپنے ہونہار شاگردوں کی شراکت سے کئی رسائل ، ماہنامے اور جریدے جاری کیے اور ان کی اشاعت و تشہیر کی، عربی کلام پڑھنے والے بھارتیوں کو اردو میں عام فہم نعتیں لکھ کر دیں، جو ملک کے ہر کونے میں پڑھی اور سنی گئیں۔ اس پہلو کو بھی اجاگر کیا جانا چاہیے۔

اماماحمدرضاخانکیفارسیادبمیںمہارت:

مجدد اعظم اعلی حضرت فاضل بریلوی نے عربی ، اردو اور فارسی تینوں زبانوں کی پریشان زلفیں سنواری ہے، اردو اور عربی ادب کے حوالے سے کام ہوئے ہیں، عربی مجموعہ کلام شایع ہو چکا ہے، اردو کتابیں عربی قالب میں ڈھالے گئے ہیں؛ لیکن فارسی ادب اب بھی ”رضویات“ کی بہاروں سے محروم ہے۔ اس تشنگی کو سیرابی میں تبدیل کر نے کی ضرورت ہے۔

فاضل_بریلوی، بحیثیت قائد اعظم ہند:

اعلی حضرت نے بھارت کے مسلمانوں کی بر وقت رہنمائی کی تھی اور اپنے وقت میں سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے بھارتیوں کی بہترین قیادت کی تھی۔ آپ کی سیاسی بصیرت کے حوالے سے مضامین و مقالات بھرے پڑے ہیں؛ لیکن آپ کی قائدانہ صلاحیتوں پر کم کام ہوا ہے۔ اس میں کوئی دو راے نہیں کہ اعلی حضرت متحدہ بھارت کے قائد اعظم تھے۔

علیحضرتکےتنظیمیکارنامے:

اس حوالے سے بھی منظم اور محققانہ تحریریں سامنے آنی چاہییں۔ جماعت رضاے مصطفٰی، فاضل بریلوی کی پاکیزہ حیات کا سب سے آخری عظیم کار نامہ ہے، جو آج بھارت کی سب سے قدیم سنی تنظیم ہے۔ تنظیمی حوالے سے آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے؛ نہ صرف اس حوالے سے بات ہو، بلکہ فروغ رضویات کے ایک باب کی شکل میں عالمی جماعت رضاے مصطفی کو فروغ و استحکام دینا، وقت کی اہم ضرورت ہے۔

خاندانرضویہکےباکمالکممشہورافراد:

اس حوالے سے انفرادی اور اجتماعی کام کی ضرورت ہے، تحقیقی اور مستند کام ہونا چاہیے۔

فتاوی_رضویہ:

اس تعلق سے علامہ سید وجاہت رسول قادری صاحب کی چند باتوں کو تلخیص کے ساتھ پیش کر تے ہیں:

بقول ماہر رضویات ڈاکٹر محمد مسعود احمد مجددی صاحب ”ہر فن کے جاننے والے کے لئے فتاوی رضویہ کی ہر جلد میں اس قدر موضوعات ہیں کہ محقق کے لئے یہ فیصلہ کرنا دشوار ہوجاتا ہے کہ کس موضوع کو لیا جائے اور کس کو چھوڑا جائے۔

(ا) فتاوی رضویہ کی کتب فقہ کی نہج پر موضوع کے اعتبار سے ، سوالات حذف کرکے تدوین کی جائے۔

(ب) ہر جلد کے فتاوی کو ، تسہیل، تخریج و ہامش، حواشی و تعلیقات کے ساتھ الگ الگ شائع کی جائے۔

(ج) فتاوی رضویہ کے ”منتخب“ کو ہرسنی مدرسے میں داخل نصاب کیا جائے

(د) قضا کے متعلق تمام فتووں کو یکجا کرکے ایک مبسوط جلد میں جمع کرکے اسے عدلیہ کے جج ، وکلا اور مشہور لائبریریوں میں ارسال کیا جائے ۔

(ھ) فتاوی رضویہ کے عربی، فارسی، روسی، ترکی اور انگریزی ترجمے شائع ہوں۔

(و) بحر العلوم کی ، اصول فقہ کی مشہور کتاب ”فواتح الرحموت“ کو امام اہل سنت کے عظیم حاشیہ کے ساتھ شایان شان شایع کیا جائے۔

(ز) جدید ایڈیشنوں کے ساتھ فتاوی رضویہ کی 12 جلدوں والی اشاعت بھی جاری رہے۔ (تلخیص مکمل ہوئی)

اکابرین نے شاہ راہ عطا کردیا ہے، اسی سے نئی نئی راہیں نکلتی جا رہی ہیں، نئے جہان متعارف ہوتے جا رہے ہیں، ان راہوں پر چلنے کی ضرورت ہے، اس جہان میں آنے کی ضرورت ہے۔ ؎

وقت فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے

نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے


تحریر: انصار احمد مصباحی،

جماعت رضاے مصطفٰی، اتر دیناج پور، بنگال

aarmisbahi@gmail.com +919860664476