والدین بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

ایک بچہ چھوٹے سے کمرے میں بند تھا وہاں صرف تین بٹن لگے تھے، کالا ،سبز اور سرخ؛ بچے نے کالے بٹن کو دبایا تو کوئی بھی رسپانس نہ ملا، پھر سرخ کو دبایا تو بچے کو ایک سوئی چُب گئی اور جب سبز بٹن دبایا تو ایک جوس کا گلاس نمودار ہو گیا۔اس کے بعد بچہ مسلسل سبز بٹن دباتا رہا اور انعام پاتا رہا۔

اب سمجھیے!انسانی فطرت میں کام کرنے کی عادت ابتدا سے ہی شامل ہوتی ہے، بچے کو اچھائی اور برائی کے بارے میں معلومات نہیں ہوتی البتہ وہ ہر کام کو نیوٹل دماغ کے ساتھ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔فرضی حکایت میں تین بٹن بچے کے کام تھے اور ان کو دبانے پر ظاہر ہونے والا عمل والدین کا تھا۔

کالا اور سرخ بٹن بچے کا برا کام تھا جس پر اولا تو اگنور کیا گیا پھر اس کو سرزنش کے ذریعے رُوکا گیا۔البتہ سبز بٹن بچے کا اچھا کام تھا جس کی جزا جوس یا انعام کی شکل میں ملی۔بچے کے برے کام پر اگنور کرنا بھی بچے کی عادت کو چھڑوا سکتا ہے البتہ نہ چھوڑنے کی صورت میں سزا دی جا سکتی ہے۔

ہر بچے میں اچھی عادات ضرور ہوتی ہیں افسوس کہ ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ بچے کے برے کام کی سزا تو دی جاتی ہے لیکن اچھے کام پر تعریف اور حوصلہ افزائی کا رجحان کم ہے۔ اسی بنا پر بچے میں ضد اور چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔لہذا بچوں کے اچھے کاموں پر حوصلہ افزائی اور انعام کو اپنی عادت بنا لیجیے۔

ڈائریکٹر دارالنور سکول سسٹم

فرحان رفیق قادری عفی عنہ

ل28صفر المظفر 1442

16 اکتوبر 2020

جمعۃ المبارک