• بچوں کو عظیم کیسے بنائیں*


اگر آپ اپنے بچوں کو کامیاب اور عظیم انسان بنانا چاہتے ہیں تو:

  1. انہیں اللہ تعالی کی پہچان کروا کر اللہ سے جوڑنے کی کوشش کیجیے.

  2. انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم اور اپنی مذہبی و قومی ہیروز کی پہچان اور پیروی کروائیں.

  3. انہیں آپ بذاتِ خود ایک بہترین رول ماڈل بن کر دکھائیں.

  4. ان کے دلوں میں انسانی ہمدردی اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کیجیے.

  5. انہیں اپنا دوست بنا کر رکھیں.

  6. ان کے ساتھ مناسب وقت گزاریں.

  7. بچوں میں کم عمری سے ہی احساسِ ذمہ داری پیدا کیجیے.

  8. انہیں پر اعتماد بنائیں.

  9. بچوں سے کیے گئے وعدے ہر قیمت پر پورے کیجیے.

  10. بچوں کو مناسب حد میں آزادی دیجیے. انہیں گھر قیدخانہ نہ لگے.

  11. بچوں کی سرگرمیوں (activities) کا مشاہدہ (observation) کیجیے.

  12. بچوں پر ہر وقت حکم نہ چلاتے رہیں.

  13. بچوں کو احساسِ کمتری اور احساسِ برتری سے بچائیں.

  14. بچوں کو کچھ وقت تنہائی بھی میسر ہونی چاہیئے.

  15. بچوں کی بھی عزتِ نفس (self respect) ہوتی ہے. اسے کسی طور پر بھی مجروح مت ہونے دیجئیے.

  16. بچوں کو زندگی میں کچھ کر دکھانے کے لیے اچھے اور بڑے خواب (dreams) دکھاتے رہیں.

  17. بچوں کو مادی چیزوں کی محبت سے بچاتے رہیں.

  18. بچوں کو ٹی وی ، موبائل فون اور کمپیوٹر وغیرہ کے استعمال کی مناسب تربیت دیں.

  19. بچوں کو قرآن فہمی اور نماز کا پابند بنائیں.

  20. بچوں سے مختلف cمعاملات (matters) میں رائے (advice) لیتے رہیں اور ان کی رائے کا احترام کریں.

  21. ان سے بڑوں جیسی توقعات (expectations) مت رکھیں. بچوں کو بچہ ہی رہنے دیں.

  22. انہیں ہنسی مذاق ، کھیل کود اور شرارتوں کا موقع بھی فراہم کرتے رہیں.

  23. بچوں پر زبردستی کرنے کی عادت نہ ہو.

  24. بچوں کی مثبت سرگرمیوں پر ان کی خوب حوصلہ افزائی (encourage) کیجیے.

  25. بچوں کو گھر کی زیادہ تر چیزوں کو ان کی مرضی سے چھونے دیں.

  26. بچوں کو ایسے اہمیت (importance) دیں کہ گویا وہ کوئی بڑی اہم شخصیت ہیں.

  27. بچوں کو آخرت کی فکر بھی وقتاً فوقتاً (time to time) دلاتے رہیں.

  28. بچوں کو اپنے چھوٹے موٹے کام خود کرنے کی عادت ڈالیں.

  29. بچوں سے کبھی بھی دھمکی آمیز لہجے میں بات نہ کریں.

  30. آپ میاں بیوی کا آپس کا تعلق بہت اچھا اور خوشگوار ہونا چاہیے.

  31. بچوں کے لیے ایسے سکول کا انتخاب کیجیے جس میں تعلیم و تربیت دونوں کو اہمیت دی جاتی ہو.

  32. بچوں سے بلند توقعات وابستہ کیے رکھیں.

  33. بچے کے اساتذہ (teachers) سے باقاعدہ رابطے میں رہیں.

  34. بچے کو آغاز(beginning) سے ہی محنت و مشقت کا عادی بنائیں.

  35. بچوں کی کمیونیکیشن سکلز ( communication skills ) بہتر بنانے پر بھی بھرپور توجہ دیجیے.

  36. بچوں کو v سیر و تفریح (picnic) کے بھی مناسب مواقع (opportunities) فراہم کرتے رہیں.

  37. بچوں کو ٹائم ٹیبل کے مطابق زندگی بسر کرنے کا عادی بنائیں.

  38. بچوں میں امتیاز ( discrimination ) برتنے سے احتیاط کی جائے.

  39. بچوں کو صحت بخش اور معتدل خوراک دی جائے.

  40. کبھی بھی بچوں کی بےجا طرف داری نہ کی جائے.