میلاد پر ایک اعتراض کاجواب

سوال

ربیع الاول تو حضور علیہ الصلوة والسلام کی ولادت کے ساتھ ساتھ آپ کی وفات کا بهی مہینہ ہے لہذا اس میں غم و حزن کی بجائے خوشی و مسرت کا اظہار مناسب نہیں؟؟؟؟

جواب

حضور علیہ الصلوة والسلام کی ولادت، ہم پر اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اور آپ کی وفات ہمارے لئے سب سے بڑی مصیبت مگر شریعت نے نعمتوں پر اظہار شکر کی ترغیب دلائی ہے اور مصائب پر صبر و سکون اور خاموشی کی تلقین کی ہے.

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ متوفی 911 نے اولا سوال نقل فرمایا۔

سوال أن ربيع الأول هو بعينه الشهر الذى توفى فيه النبى صلى الله عليه وسلم، فليس الفرح فيه بأولى من الحزن فيه.؟

مفہوم: ربیع الاول بعینہ وہی مہینہ ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ہے۔تو کیا اس میں خوشی سے غم زیادہ بہتر نہیں؟

امام سیوطی علیہ الرحمہ اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

جوابه ان یقال اولا: ان ولادته صلی اللہ علیه و آلہ وسلم اعظم النعم علینا و وفاته اعظم المصائب لنا، والشریعة حثت علی اظهار شکرالنعم والصبر والسکون والکتم عندالمصائب، و قد امر الشرع بالعقیقة عند الولادة وهی اظہار الشکر و فرح بالمولود و لم یأمر عند الموت بذبح ولا بغیرہ بل نهی عن النیاحة و اظہار الجزع، فدلت قواعد الشریعة علی انه یحسن فی هذا الشهر اظہار الفرح بولادته صلی اللہ علیه و آله وسلم دون اظہار الحزن فیه بوفاته و قد قال “ابن رجب” فی کتاب “اللطائف” فی ذم الروافضة حیث اتخذوا یوم عاشوراء مأتما لاجل قتل الحسین لم یأمر اللہ و لا رسوله باتخاذ أيام مصائب الانبیاء و موتهم مأتما فکیف ممن هو دونهم.؟

یعنی اس سوال کے جواب میں اولا عرض یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوة والسلام کی ولادت ہم پر اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اور اپ کی وفات ہمارے لئے سب سے بڑی مصیبت مگر شریعت نے نعمتوں پر اظہار شکر کی ترغیب دلائی ہے۔ اور مصائب پر صبر و سکون اور خاموشی کی تلقین کی ہے. شریعت نے ولادت کے موقع پر عقیقہ کا حکم دیا ہے۔ جس سے بچے کی ولادت پر خوشی اور مسرت کا اظہار ہوا ہے۔ اور موت کے وقت جانور ذبح کرنے کا حکم نہیں دیا ہے۔ اور نہ ہی ایسی کسی اور بات کا۔ بلکہ نوحہ جزع فزع سے منع فرمایا ہے- لہذا قواعد شریعہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس ماہ مقدس میں حضور علیہ الصلوة والسلام کی ولادت کے سلسلے میں خوشی منانا وفات پر غم کرنے سے بہتر ہے. ابن رجب حنبلی نے کتاب”لطائف المعارف” میں روافض کی مذمت کرتے ہوئے لکها ہے کہ انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شهادت کیوجہ سے عاشورہ کو یوم ماتم بنایا ہے حالانکہ اللہ و رسول نے انبیاء کے مصائب اور وفات کے ایام کو بهی ایام ماتم بنانے سے منع کر دیا ہے۔ چہ جائیکہ ان کے علاوہ کسی اور کے لئے یہ اہتمام کیا جائے.

(الحاوی للفتاوی جلد اول صفحہ 185 رسالہ حسن المقصد)

ابوالحسن محمد شعیب خان

13 نومبر 2018