مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے نبیؐ کی محبت ہمارے دل میں کتنی گہرائیوں میں رچی بسی ہے۔۔۔یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ حضورؐ سے عقیدت اور ہے حضورؐ سے محبت اور شے ہے۔ ہر مسلمان کو حضورؐ سے بے پناہ عقیدت ہے۔ حضوؐرکی شان میں کہیں گستاخی کسی مسلمان کے سامنے اگر کوئی کرے تو بے شک ہر مسلمان اپنی جان حضورؐ پر قربان کرنے میں ایک لمحہ بھی تامل نہ کرے۔۔۔لیکن یہ عقیدت ہے۔۔۔ حضورؐ سے ہمیں بے پناہ عقیدت ہے۔۔۔

لیکن کیا ہم اپنے نبیؐ سے واقعی محبت بھی کرتے ہیں؟

اس سوال پر پوری ایمانداری سے terribly honest ہو کر غور کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ محبت بھی ہے لیکن اتنی نہیں ہے جتنی اپنے ماں باپ سے یا بچوں سے ہے۔ کیا یہ بات سچ نہیں کہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد عشقِ رسولؐ کا دعویٰ رکھنے کے باوجود اسوہ رسولؐ پر کاربند نہیں دکھائی دیتی؟اس محبت کو عقیدت سے الگ کرکے دیکھتے ہیں۔اس کیلئے ہمیں اپنا زاویہ نظر perspective وسیعenhance کرنا پڑے گا۔۔۔فرض کیجئے موت کا وقت شروع ہوگیا۔ کچھ دیر کیلئے اپنی موت کو دیکھیں face کریں۔ غور سے دیکھیے کہ مرتے وقت کیا ہورہا ہے۔ سارے دنیاوی رشتے گم ہورہے ہیں۔ یہ رشتے یہ ناطے سب یہیں رہ جائیں گے اور آپ ہم سب آگے چلے جائیں گے۔۔۔

جہاں ہم جارہے ہیں وہاں یہ رشتے وجود نہیں رکھتے۔ اب دیکھئے کیا نظر آرہا ہے۔ وہاں جہاں سے جا کر کوئی واپس نہیں آتا وہاں کون سے رشتے ہیں؟ وہاں کون سے ایسے رشتے، تعلقات ہیں جو یہاں بھی ہیں اور وہاں بھی ساتھ ہیں؟ اب بات واضح ہوجائے گی۔۔۔بے شک اللہ اور اس کا رسولؐ دنیا میں بھی ہمارے شعور اور لاشعور سمیت ہر جگہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں اور جب ہم مرجائیں گے تو یہی دو رشتے ہیں جوہمیں آگے ملیں گے۔ یہ دو ایسے رشتے ہیں جو انسان سے کبھی گم نہیں ہوسکتے۔۔۔

اللہ کا بندے سے رشتہ تو خالق اور مخلوق کا ہے اور دوسرا رشتہ ہم سے ہمارے نبیؐ کا ہے۔ ہم امتی ہیں۔۔۔ یہ سب سے بڑابلند رشتہ ہے جو کسی انسان کا دوسرے انسان سے ہوسکتا ہے۔۔۔ ہمارے ماں باپ روزِ قیامت ہمارے کام نہیں آئیں گے بلکہ ہم ان سے اور وہ ہم سے چھپتے پھریں گے ۔۔۔ہمارا سب سےقریب کا رشتہ حضورؐ سے ہے۔۔۔ انہی کا قبر میں سوال کیا جائے گا۔۔۔ وہی روز محشر شفاعت کریں گے ۔۔۔اور وہی ہیں جن کو اللہ نے کوثر عطا فرمایا ہے۔۔۔

دنیا میں کسی مسلمان کاحضوؐر سے بڑھ کر کسی اور انسان کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔۔ اس قدر قریب کا رشتہ ہونے کے باوجود اگر انسان حضوؐر کی طرف مائل نہ ہو پائے یہ وہ بد نصیبی ہے جسے دور کرنے کی فکر ہر شے سے زیادہ ضروری کام ہے۔۔۔ اور اتنا ضروری کام مسلمانوں کی اکثریت نے پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔۔۔ اس مقام پر اللہ کی تنبیہ warning بہت سخت ہے اور ڈرا دینے والی ہے۔۔۔

کہہ دے اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیجے، اور اللہ نافرمانوں کو راستہ نہیں دکھاتا۔(التوبہ 24)

جو اللہ سے محبت کرنا چاہے گا وہ ضرورحضوؐر کی محبت سے گزرے گا۔۔۔ یہ شرط اس لیے ہے کیونکہ یہ فطری logical ہے It is bound to happen۔۔۔حضورؐ سے کسی بھی انسان کی محبت کا اس کے پاس ایک ہی ثبوت ہے اور وہ یہ کہ اسے اس کی زندگی اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھلتی ہوئی نظر آتی ہو۔ کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو وہ سیرتؐ اور حدیث سے رجوع کرتا ہو کہ یہ معاملہ اگر میرے نبیؐ کو درپیش آتا تواس معاملے پر آپؐ کا رویہ کیا ہوتا ۔

پھرکچھ لوگ ایسے ہیں جو حدیث کے منکر ہیں۔ ۔۔کھلم کھلا تو نہیں کہتے لیکن ان کے انداز گفتگو سے صاف نظر آتا ہے کہ حدیث کو وہ کوئی اہمیت دینے سے انکاری ہیں۔۔۔ ایسے لوگوں کو سوچنا ہوگا کہ اسلام میں سے سیرتِ رسولؐ جو کہ اپنی اصل میں حدیثِ رسولؐ ہے۔۔۔ اگر منہا کردی جائے تو اسلام میں باقی ہی کیا رہ جاتا ہے؟