قاسم سردار بڑا پیارا ہے ، کبھی کبھی کوئی سوال پوچھ لیتا ہے ۔

پرسوں کسی نے اُسے وسوسہ ڈالا کہ:

کیا میلاد شریف کی خوشی میں گلیاں بازار سجانے اور لائٹنگ کرنے کا کسی حدیث سے ثبوت ملتا ہے ؟

میں نے اُسے کہا:

قاسم‌! جس نے تجھ سے یہ بات کہی ہے اسے کہو کہ:

اونچی مسجدیں بنانے ، ان پر مینار نصب کرنے اور زیبائش و زینت کے لیے ٹائل پتھر لگانے کا ثبوت کس حدیث سے ملتا ہے ؟؟

رسول اللہ ﷺ تو فرماتے تھے:

مجھے مسجدیں بلندکرنے کاحکم نہیں دیا گیا ۔

( سنن ابوداود ، ر 448 )

سیدنا ابن عباس فرماتے تھے:

تم‌ مسجدیں ایسے سجاؤ گے جیسے یہودی اور عیسائی سجاتے رہے ۔ ( ایضاً )

تمھیں وہ جو جواب اس سوال کا دے گا ، وہی جواب میلاد مصطفی پر سجاوٹ کرنے کا ہوگا ۔

اللہ پاک‌ نجدیوں سے ہمارے ایمان محفوط رکھے ، اِن کے سوالوں کے جواب دینے سے پہلے ، اِن پر بھی کوئی علمی سوال کیا کریں ۔ ؎

ذِکر روکے ، فضل کاٹے ، نَقص کا جویاں رہے

پھر کہے مَردَک کہ ہوں اُمّت رسول اللہ کی

✍️لقمان شاہد

25-10-2020 ء