میرے بچپن کی ایک محفل میلاد

ربیع الاول تھا ،گرمیوں کا موسم تھا،گاﺅں کی سب مساجد محافل کروا رہی تھیں۔ ہمارے محلے کی جٹاں والی مسجد بہت چھوٹی سی تھی ۔ قاری اختر علی اویسی امام مسجد تھے ۔نمازیوں کو بتانے لگے کہ موچیاں والی مسجد سے دوپہر کو جلوس کا اہتمام ہے ۔ چیچیاں والی مسجد میں رات کو سیرت کا نفرنس ہوگی ۔ ترکھاناں والی مسجد سے شام کو مشعل بردار جلوس نکلے گا ۔ چوہدریاں والی مسجد میں محفل نعت ہوگی۔پریشان ہو کرکہنے لگے ہر مسجد حضو رنبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں اپنے انداز سے پروگرام کررہی ہے ۔ ہمارے لیے تو کوئی وقت ہی نہیں بچا، مشورہ دو کیا کریں؟ ہم کس طرح اپنے آقا و مولا ﷺ کی خوشی منائیں ۔میں نے کہا قاری صاحب ہمارے لئے ایک وقت ابھی بھی بچ گیا ہے ۔کہنے لگے وہ کونسا ؟

میں نے پوچھا کہ حضور ﷺ کی پیدائش کس وقت ہوئی تھی قاری صاحب فرمانے لگے علما ءلکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی پیدائش صبح صادق کے وقت ہوئی تھی ۔ تو میں نے کہا بس پھر ٹھیک ہے ہمیں اسی وقت کوئی پروگرام کرتے ہیں ۔ نماز فجر کے بعد حضورنبی کریم ﷺ کی آمد کی خوشی میں خصوصی درود وسلام پیش کریں گے ۔ بس فیصلہ ہوگیا ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ صبح کے وقت نمازیوں کے تواضع کیسے کریں گے ۔ تجویز آئی کی حلوہ بنائیں گے اور ناشتہ کروائیں گے ۔ ایک نے کہا میں سوجی لاﺅں گا ۔ ایک جانب سے چینی کا اعلان ہوا ۔ فجر کوحلوہ بنانے کے لئے رات کو تیاری کی ضرورت تھی ۔مجھے کہنے لگے کہ آپ کی حویلی میں حلوہ تیار کروائیں گے ۔ اصغر نائی کوبلالیں ۔میں نے اصغر نائی کو کہا اصغر رات کو حلوہ بنانا ہے فجر سے پہلے پہلے کہیں لیٹ نہ ہوجانا۔

چاچا اصغر نائی رات ایک بجے ہی آ کر ہمارا دروازہ کھٹکھٹانے لگا ۔ میں نے پوچھا اتنی جلدی کہنے لگا چودھری صاحب میلاد کا حلوہ ہے ۔مجھے تواس خوشی میں نیند ہی نہیں آئی میرے لئے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہوگی ۔

قاری صاحب بھی آگئے ۔عباس ماچھی لکڑیاں لے آیا ۔ اور حویلی میں ہم آگ کا بندوبست کرنے لگے ۔ شور ہوا تو چاچا اکرم چیمہ آنکھیں ملتا ہوا دیوار سے جھانکنا شروع ہوگیا پوچھنے لگا او اتنی رات کو کیا کر رہے ہو ۔ ہم نے کہا چاچا میلاد کے لیے حلوہ بنا نے لگے ہیں ۔کہنے لگا کمال ہے مجھے بلایا ہی نہیں ۔

میں نے کہا چاچا اصغر چائے بنالو اب رونق لگنا شروع ہوجائے گی ۔چاچا اصغر کہنے لگا وہ تو ٹھیک ہے لیکن اکرم چیمے نے حلوے میں کوئی نہ کوئی مشور ہ ضرور دینا ہے چاہے شرط لگا لو ۔ چاچا اکرم نے چائے کی پیالی منہ کو لگائی اور پوچھنے لگا اصغر حلوے میں بادام ڈالے ہیں وہ کہنا لگا جی بالکل مجھے پوچھنے لگا کشمش کدھر ہے ۔ میں نے کہا چاچا جی ہے فکر نہ کریں پھر پوچھنے لگا مربعے کدھر ہیں ۔ ہم نے کہا مربعے نہیں ہیں کہنے لگا او چھڈو یار مربعوں کے بغیر کون سا حلوہ ہوتا ہے ۔ اصغرمجھے دیکھتے ہوئے بولا دیکھا ۔

اصغر کہنے لگاچیمہ صاحب ذائقہ بنانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے مربعوں میں نہیں

چاچااکرم نہ مانا کہنے لگا نہیں مربعے لاﺅ ۔ میں نے کہا چاچا اس وقت مربعے کہاں سے لائیں کہنے لگا او توچھڈ چل میرے نال میں نے کہا چاچا ٹائم دیکھا ہے ۔ رات کے اڑھائی بجے ہیں اس وقت کون سی ہٹی کھلی ہے ۔ کہنے لگا او میاں جی دوکان میں ہی سوئے ہوئے ہوتے ہیں جگا لیں گے

میاں جی کی ہٹی مجھے بچپن سے ہی بہت اچھی لگتی تھی اس میں مختلف مرتبان پڑے ہوتے تھے جن میں آملے ، سیبوں اور گاجروں کے مربعے پڑے ہوتے تھے۔ دیکھنے میں تو سب ہی بہت خوبصورت لگتے تھے لیکن مجھے ذاتی طور پر آملے کا مربع بہت اچھا لگتا تھا ۔کیونکہ باپو منشی کہتے تھے پتر آملے کا سوا د اور سیانوں کی مت کی سمجھ بعد میں آتی ہے ۔

کوئی بولا میاں جی وہابی ہیں میلاد کا سنیں گے تومربعے نہیں دیں گے الٹا ڈانٹیں گے، وہ ہمیں کہنے لگا او کوئی گل نہیں چلو تسی میری نال ۔ اب چاچے اکرم چیمہ کوناراض کرنا مشکل تھا کیونکہ مسجد کا سربراہ بھی وہی تھا۔ چاچے نے سوٹا ہاتھ میں پکڑ لیا ۔ میں نے کہا کہ چاچا مربعے لینے جار ہے ہیں یا لڑائی کرنے ۔ کہنے لگا پتر رات کا وقت ہے سوکتا بلا لبھ جاندا ہے ۔

خیرہم میاں جی کی ہٹی پر پہنچے اور دستک دی وہ بھی آنکھ ملتے باہر آگئے ۔ او کی گل اے منڈیو خیر ہے اس وقت ۔ چاچاا کرم کہنے لگا میاں جی مربعے چاہئے ۔میاں جی پوچھنے لگے وہ کس لئے ۔ میں نے کہا اصل میں میلاد کی خوشی میں حلوہ بنا رہے ہیں اور اس میں ڈالنے ہیں ۔

میاں جی نے مربعے تول کر دئےے تو میں نے پوچھا کتنے پیسے ۔ میاں جی کہنے لگے کیا بات کرتے ہو ۔ ہمارے نبی سوہنے ﷺ کی کے میلاد کی خوشی میں تم لوگ حلوہ بنا رہے ہو تو ا سکے بھی تم سے کیا میں پیسے لوں گا ،واپس آئے اور حلوہ تقریبا ً تیار ہوگیا تھا ۔ اس میں سرخ اور سبز رنگ کے مربعے کے چکور ٹکڑے ڈالے گئے ۔ دودھ لایا گیا اور چائے بنائی گئی ، فجر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ۔ نمازی اکٹھے ہوگئے تھے ۔

گاﺅں میں سب سے اچھا سلام قاری شریف صاحب پڑھتے تھے ۔ سر سیدا حمد خاں جیسی سفید داڑھی نوارنی چہرہ اور عشق مصطفی ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔سلام پڑھتے تو رقت طاری ہوجاتی تھی ۔ قاری شریف صاحب کو خصوصی دعوت دی گئی بارہ ربیع الاول کی صبح تھی فجر کی نماز کے بعد سب نمازیوں نے حضورنبی کریم ﷺ کی شان میں سلام پیش کرنے کے لئے ہاتھ باندھے ۔قاری شریف جب اس شعر پر پہنچے ۔ جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند ۔اس دل افروز ساعت پر لاکھوں سلام ۔ تو فرط جذبات میں ان کی گھگھی بندھ گئی ۔ صبح کا وقت ، پرندوں کی چہک اور ہواﺅں کی مہک ایسی فریکوینسی پیدا ہوئی کہ اس سلا م کی لذت آج تک نہیں بھول سکا۔

قاری شریف صاحب کی خاصیت یہ تھی کہ وہ سلا م پڑھتے تو ساتھ میں اس کو نثر میں ترجمہ بھی کر تے انہوں نے جب آخری شعر پڑھا ۔۔۔ مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضا ۔۔۔۔ تو پھر پنجابی میں بولے پترپتہ ہے اس کا کیا مطلب ہے ۔۔ کہ جدوں مینوں فرشتے کہن گے کہ ہاں رضا سانوں وی سنا تے پتہ ہے میں کی کہواں گا ۔۔۔۔ مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام ۔۔۔

میلاد کا ثبوت کتابوں میں نہ ڈھونڈیں ۔ اس کا مشورہ اہل شریعت اور اہل علم سے نہ کریں ۔ یہ خالص دل کی باتیں ہیں انہیں اپنے دل سے پوچھیں کہ وہ کون سی تڑپ تھی جس نے اصغر نائی کو رات کو سونے نہیں دیا، وہ کون سی لگن تھی جس نے چاچے اکرم کو اچھا حلوہ بنانے کے لئے آدھی رات کو باہر نکالا ۔ وہ کون سی چاہت تھی جس نے میاں جی کو مجبور کیاکہ انہوں نے مربعوں کے پیسے نہیں لئے اور ہمارے بچپن میں کس نے ہمیں سمجھا دیا کہ آج کی رات سونے کی رات نہیںہے ۔۔۔۔ میرے آواز قاری شریف جیسی تو نہیں لیکن میری بھی خواہش ہے کہ

کاش محشر میں جب ان کی آمد ہو اور ہم سب بھیجیں ان کی شوکت پر لاکھوں سلام ۔۔۔ ﷺ

بقلم خود محمو داصغر چودھری