کیا خطباء حضرات پیسے لینا ہی جانتے ہیں؟

گذشتہ شب میرے دوست علامہ عرفان چشتی صاحب کی مسجد بہار مدینہ چوہنگ ( بھٹیاں والی مسجد) میں محفل میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد تھا، محفل میں خطاب کرنے کیلئے ہم نے اپنے استاذ شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا ظہیر بٹ صاحب مدظلہ کو بلایا تھا۔

استاذ محترم نے خطاب میں نہایت عمدہ طریقے سے ادب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر گفتگو فرمائی اور تقریر کے آخر میں کافی اصلاحی باتوں سے عوام کی ذہن سازی بھی کی کہ جسکی فی زمانہ اشد ضرورت ھے۔

تقریر کے اختتام پر استاذ محترم نے بہت ہی نرالا اور انوکھا کام کیا اور ہم سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔

استاذ محترم نے میرے دوست سے سب کے سامنے کہا کہ آپ نے میری جو خدمت کرنی ھے وہ پیسے مجھے ابھی ہی دے دیں، استاذ صاحب کی اس بات کو سن کر تمام لوگوں نے ایک لمحے کیلئے حیرت و استعجاب کا مظاہرہ کیا۔

میرے دوست نے پریشانی کے عالم میں جلدی سے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر استادوں کی خدمت میں پیش کردیا، اسکے بعد استاذ محترم نے اپنا بٹوا نکالا اور تین ہزار روپیہ اس سے نکال کر پانچ ہزار میں ایڈ کرلیا

اور فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

میں نے آپکے ھدیے کو قبول کرلیا اب ان 8 ہزار میں سے ایک ہزار روپیہ امام مسجد کی خدمت بقیہ 7 ہزار روپیہ میری طرف سے آپکے محلّے کی ان لوگوں کیلئے تحفہ ھے جو معاشی طور پر تنگدست ہیں۔

اور آخر میں استاذ صاحب نے فرمایا
سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد منانے کا یہ بھی بہترین طریقہ نہیں

کیا ایسا نہیں ہونا چاہیے؟

تمام لوگوں نے حیرت و پریشانی کے عالم میں ہی اثبات میں سر ہلایا۔

استاذ محترم کے اس فعل سے تمام لوگوں پر بہت اچھا تاثر گیا اور انکے اندر ایک نیا جذیہ ایک نئی سوچ پیدا ہوئی ۔

وہ خطیب حضرات جو ایک ایک محفل کا 50 50 ہزار لیتے ہیں اگر محفل کے اندر ہی اسکا کچھ حصّہ دینے کا سلسلہ بھی شروع کردیں تو اس سے معاشی طور پر تنگدست لوگوں کی کافی مدد ہوجائے گی۔

لیکن افسوس نام نہاد خطباء کو صرف پیسے لینے ہی آتے ہیں پیسے دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

احمد رضا رضوی