گیارھویں شریف فروش ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ کاش کہ
نوٹ خور واعظین عوام کو حضور غوث پاک کی صرف کرامات اور لنگر کے فضاٸل ھی نہ بتاتے
یہ بھی بتاتے کہ
ان کی والدہ نے انھیں کمسنی میں حالت یتیمی میں دین کی تعلیم کیلٸے اکیلے دور دراز جگہ بھجوایا
عوام اھل سنت 70
کرامتیں سن کر نعرے لگاتے
اور
خوب گھٹنے ٹیک کر لنگر کھاتے رھے
لیکن
حضور غوث پاک کی وقت کے حکمرانوں کو چیلنج کرنے کے کمالات سے لاعلم رہ کر جذبہ و غیرت ایمانی سے محروم ھوتے رھے
اب
بڑی گیارویں بڑے پیر کے پاس کا مکروہ کاروبار شروع ھوگیا ھے
حالانکہ
حضور غوث پاک نے مزاروں کی مجاوری نہیں سکھاٸی
بلکہ
ساری عمر تبلیغ دین کا فریضہ انجام دیا ھے
کاروان بغداد نام کے اڈے کھول کر ایک مولوی کے ساتھ کمیشن طے کرکے اس کی تصویر پوسٹرز اور پینافلیکسز پر لگادی جاتی ھے
اور
شام و عراق میں مزارات کی زیارتوں کے نام پر لاکھوں اینٹھے جاتے ھیں
حالانکہ
یہ لاکھوں روپے سنی مدارس کو ملے تو نوجوان دین سیکھ کر نکلیں

اور
دوسرا ڈرامہ گیارویں کے نام کی گیارہ دیگوں کا ڈرامہ ھے
یعنی
ایک چکن بریانی کی دیگ سات سے آٹھ ھزار
گیارہ دیگیں اور شامیانے دریاں دیگر ضروریات ملا کر بات لاکھ ڈیڑھ لاکھ جا پہنچتی ھے
اب
یہی بھاری رقم حضور غوث پاک کے ایصال ثواب کیلٸے کسی سنی مدرسے یا جامعہ کو دے دی جاٸے تو دین کی کتنی بڑی خدمت ھو

مساجد انتظامیہ
گیارویں کے نام پر لاکھوں روپے تو اڑاتے ھیں
لیکن
اس رقم کو سال کے بارہ مہینوں پر تقسیم کرکے
فی مہینہ کے تناسب سے امام موذن اور خادم مسجد کی تنخواہ میں بطور ھدیہ یا تحفہ شامل کردیں
تو
یقینناً حضور غوث پاک کی روح اس سے شادمان و فرحان ھوگی
لیکن
برا ھو
نوٹ خور واعظین اور نوٹ خور نغمہ نگاروں کہ ان کی طرز کو نعت کہنا بےادبی ھے
کہ
انھوں نے سنیت کو غلط راستے پر ڈال دیا
اور
عوام بھی عمل کے بجاٸےثواب کے شارٹ کٹ راستے سے جنت جانا پسند کرنے لگے
اھل مدارس وساٸل کی کمی کا رونا روتے رھے
رھی سہی کسر ڈیفنس کلفٹن پی ای سی ایچ ایس طارق روڈ بہادر آباد گلشن اقبال اور دیگر امیر ترین علاقوں میں لگے مفت دسترخوانوں نے پوری کردی ھے
حالانکہ
غریب تو یہاں بستے ھی نہیں ھیں
لیکن
دِکھے گا تو بکے گا
ایک خاتون یا صاحب کروڑوں کی چمچاتی گاڑی میں آتے ھیں
شیشہ اتارتے ھیں
دسترخوان کے کارندوں کو بلاتے ھیں
بھاری رقم کا ایک چیک یا نقد رقم کا لفافہ پکڑواتے ھیں
کھانا کھانے والے ایک ھجوم پر نظر ڈالتے ھیں
پھر
دل میں ان کی خدمت کرنے پر فخر کا ایک جذبہ موجزن کرکے خوشی خوشی آگے بڑھ جاتے ھیں
اتنے ھجوم میں اس نیکی سے ان کی انا کو زبردست تسکین پہنچتی ھے
اور
رہ گٸے مدارس کے غریب مسکین و یتیم بچے اللہ تعالی ان بھی رزاق ھے
بھوکے تو وہ بھی نہیں سوتے
لیکن
افسوس
ان علمإ پر بھی ھیں جو نوٹ خور تو نہیں
لیکن
ان کے مخالف بھی نہیں کہ
گیارویں شریف کی محفل میں لاکھوں کا اھتمام دیکھنے کے باوجود یہ تقریر کرکے نہیں آتےکہ
خبردار آٸندہ یہ محفل نہیں ھونی چاھٸے اور
خبردار جو آٸندہ مجھے دعوت خطاب دی
انتظامیہ آٸندہ اپنی مسجد میں درس نظامی کی تدریس کیلٸے
درس گاہ بناٸے
اور
امام و موذن و خادم کی مالی خدمات میں اضافہ کرے
اگر
کوٸی مرد حق اس جرإت رندانہ کا مظاھرہ کرتا تو
آج سنیت اس حال میں نہ ھوتی