انھیں جانا ، انھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد میں دُنیا سے مسلمان گیا

کسی نے پوچھا ہے کہ اِس شعر میں لفظ: اِنھیں پڑھنا چاہیے ، یا اُنھیں ۔
( یعنی الف پر پیش درست ہے ، یا زیر ؟ )

میں نے عرض کی:

دونوں طرح ٹھیک ہے ۔

جو حضور کو مدینے تشریف فرما سمجھ کر پڑھتا ہے ، وہ ” اُنھیں ” کہے ۔

اور

جو حضور کو اپنے دل میں جلوہ فرما سمجھ کر پڑھے ، وہ دل کی طرف اشارہ کر ” اِنھیں ” کہے ۔ اور یہ درجۂ کمال ہے ۔ ؎

اِنھیں جانا ، اِنھیں مانا ، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحَمْد ، میں دُنیا سے مسلمان گیا !

✍️لقمان شاہد
22-11-2020 ء