افغانستان میں جنگی جرائم کے حوالے سے آسٹریلین فوجیوں کی رپورٹ ہوش ربا ہے

نوجوان فوجیوں کو ان کے پہلے قتل کی ٹریننگ دینے کے لئے معصوم افغانی قیدی ، کسان یا عام شہری کو بطور ٹارگٹ دیا جاتا

اسے کہا جاتا کہ ٹریننگ لے لو کہ بندہ کیسے مارا جاتا ہے تاکہ تمہارا ڈر نکل جائے

قتل کر چکنے کے بعد اس افغانی شہری کے پاس اسلحہ رکھ کر تصویر بنوائی جاتی کہ یہ شہری ہم پر حملہ کرنے آرہا تھا

بلاشبہ آسٹریلین وزیر اعظم اور فوج کے چیف نے ٹی وی پر آکر معافی مانگی ہے اور یہ بھی حیران کن بات ہے کہ ملکی مفادات کے نام پر اس رپورٹ کو چھپایا بھی نہیں گیا

لیکن اس کے باوجود ثابت ہوا کہ اس دنیا میں انسان صرف وہی ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں پیدا ہوتے ہیں غریب ممالک میں پیدا ہونے والے انسان نہیں بلکہ کیڑے مکوڑے ہیں جسے فوجی ٹارگٹ بنا کر نشانہ پکا کرسکتے ہیں ☹️

محموداصغرچودھری