مولی علی ؓکی زبانی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی منفرد فضیلت!!!

تاج المحدثین امام ابو عبداللہ البخاری اپنی مشہور تصنیف الادب میں ایک روایت بیان کرتے ہیں :

حدثنا قبيصة قال: حدثنا سفيان، عن سعد بن إبراهيم قال: حدثني عبد الله بن شداد قال: سمعت عليا رضي الله عنه يقول: ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يفدي رجلا بعد سعد، سمعته يقول: «ارم، فداك أبي وأمي»

حضرت عبداللہ بن شداد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ سے سنا آپ ؓ نے بتایا کہ میں نے حضرت سعدؓ کے بعد حضورﷺ کو کسی کے بارے فدائیہ الفاظ فرماتے نہیں سنا ۔ آپ ﷺ صرف ان کے بارے میں فرمایا تھا

” چلو تم پر میرے ماں باپ قربان”

(الادب المفرد ، حدیث برقم: 804، وسند صحیح)

سند کے رجال کا مختصر تعارف!

۱۔ امام قبيصة بن عقبة بن محمد بن سفيان السوائي

امام ذھبی انکی تعدیل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : الحافظ، الإمام، الثقة، العابد، أبو عامر السوائي، الكوفي

(سیر اعلام النبلاء، برقم:۱۶)

۲۔ امام سفیان الثوری امیر المومنین فی حدیث ہیں جو کہ متفقہ علیہ ثقہ ثبت ہیں

۳۔ امام سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف الزهري

امام ذھبی انکی تعدیل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : الإمام، الحجة، الفقيه، قاضي المدينة،

(سیر اعلام النبلاء ، برقم:۱۸۴)

۴۔امام عبد الله بن شداد

امام ابن حجر عسقلانی انکی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں : کہ یہ نبی اکرمﷺ کے دور میں پیدا ہوئے اور امام عجلی نے انکو کبار تابعین ثقات میں درج کیا ہے

عبد الله ابن شداد ابن الهاد الليثي أبو الوليد المدني ولد على عهد النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وذكره العجلي من كبار التابعين الثقات

(تقریب التہذیب ، برقم : 3382)

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی سہروردی