بےوجہشرعیعورتایذادینا

امام اہل سنت فرماتے ہیں:

ہر چند ﷲ تعالی نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی۔

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ.[النساء ايت ٣٤]

مفھوم: مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لئے کہ ﷲتعالی نے ان میں ایک دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر مال خرچ کئے۔ یہاں تک کہ حدیث میں آیا. [لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا]

(سنن الترمذي | أَبْوَابُ الرَّضَاعِ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : مَا جَاءَ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ.)

مفھوم: اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم کرتا عورت کو حکم دیتا کہ مرد کو سجدہ کرے۔

مگر عورتوں کو بے وجہ شرعی ایذا دینا ہرگز جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ نرمی اور خوش خلقی اور ان کی بدخوئی پر صبر اور ان کی دلجوئی اور جن باتوں میں مخالفت شرع نہیں ان کی مراعات شارع کو پسند ہے جناب رسالت مآب صلی ﷲتعالی علیہ وسلم ازواج مطہر ات کی دلجوئی کرتے اور فرماتے :”ان من اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا والطفھم باھله”

مفھوم: بیشک مومنوں میں سے زیادہ کامل ایمان والاوہ ہے جو ان میں سے زیادہ حسن اخلاقی والا اور اپنی اہل کے ساتھ زیادہ مہر بان ہے۔

(شعب الایمان حدیث ۸۷۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۴۱۵)

اور فرماتے ہیں:”خیرکم خیرکم لاھله وانا خیرکم لاھلي.”

مفھوم: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی اہل کے ساتھ زیادہ اچھا برتاؤ کرنے والا ہے اور میں اپنی اہل کے ساتھ حسن سلوک میں تم سب سے بہتر ہوں۔

(شعب الایمان ۸۷۱۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۴۱۵)

اور ﷲتعالی فرماتا ہے : “وعاشروھن بالمعروف”

اور ان (اپنی بیویوں) کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔

(القرآن الکریم ۴ /۱۹)

امام غزالی احیاء العلوم میں لکھتے ہیں: واعلم انه لیس من حسن الخلق معھا کف الاذی عنھا بل احتمال الاذی منھا والحلم عند طیشھا وغضبھا اقتداء برسول اﷲ صلی ﷲتعالی علیہ وسلم۔

مفھوم: اور توجان لے کہ عورت کے ساتھ حسن خلق یہ ہی نہیں کہ اس کو ایذا نہ دے بلکہ اس کی طرف سے اذیتیں برداشت کرنا ہے اور رسول اقدس صلی ﷲتعالی علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اس (عورت) کے طیش وغضب کے وقت تحمل اختیار کرنا ہے۔

(احیاء العلوم الباب الثالث فی آداب المعاشرۃ المکتبۃ المشہد الحسینی ایران ۲ /۴۳)

اور جس طرح ﷲتعالی نے مردوں کے حق ان پر مقرر فرمائے ان کے حق بھی مردوں پر مقرر کئے “و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف”

مفھوم: اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق۔

(القرآن الکریم ۲ /۲۲۸)

وﷲتعالی اعلم۔

(الفتاوي الرضوية ١٢/٢٧٣ ترميم )

ابو الحسن محمد شعیب خان

2 نومبر 2020