{جمعہ کابیان}

جمعہ فرضِ عین ہے اس کی فرضیت ظہر سے زیادہ مؤکدہے اس کا مُنکر کافر ہے ۔(درمختار وغیرہ)

جمعہ کا وقت وقتِ ظہر ہے یعنی جو وقت ظہر کا ہے اس وقت کے اندر جمعہ ہونا چاہیے ۔

مسئلہ : جو شخص بیمار کا تیماردار ہو وہ جانتاہے کہ جمعہ کی نماز کوجائے گا تومریض کاکوئی پُرسانِ حال نہ ہوگا جس کی وجہ سے وہ مصیبت میں مُبتلا ہوجائے گا تواس تیماردار پر بھی جمعہ فرض نہیں۔ (درمختار)

مسئلہ : غلام پر جمعہ نہیں اوراس کا آقا منع کرسکتاہے ۔ (عالمگیری)

مسئلہ : عورت پر جمعہ فرض نہیں۔

مسئلہ : اندھے پر جمعہ فرض نہیں مگر اُس اندھے پر فرض ہے جو شہر کی تمام گلیوں کو چوں میںبِلا تکلف گھومتا پھرتاہواوربغیر پوچھے اوربغیر کسی مددگار کے جس مسجد میں چاہے پہنچ جاتاہو۔

مسئلہ : اپاہج پر جمعہ فرض نہیںہے لیکن ایسا اپاہج جو مسجد تک جاسکتا ہو تواس پر فرض ہے ۔

مسئلہ : ظالم بادشاہ ،سامان چوری ہونے یا قید ہونے کا ڈر ہو تواس پر بھی جمعہ فرض نہیں۔

مسئلہ : آندھی ،طوفان یا سخت سردی جس سے نقصان کا اندیشہ ہو توبھی جمعہ فرض نہیں ہے ۔

نماز جمعہ کے لئے پہلے سے جانا اورمسواک کرنا ،ا چھے اورسفید کپڑے پہننا، تیل اورخوشبو لگانا اور پہلی صف میں بیٹھنا مستحب ہے جمعہ کے دن غُسل کرنا سنت ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ : جو چیزیں نماز میںحرام ہیں جیسے کھانا ،پینا ، سلام وجواب ، بات چیت کرنا وغیرہ یہ سب خُطبہ کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ امر بالمعروف بھی نہ کرے ہاں صرف خطیب امر بالمعروف کرسکتاہے جب خُطبہ پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سُننا اورچُپ رہنا فرض ہے اگرکسی کو بُری بات کرتا دیکھیں توہاتھ یا سر کے اشارے سے منع کرسکتے ہیں زبان سے ناجائز ہے ۔ (درمختار)

مسئلہ : دورانِ خُطبہ نمازیوں کے کندھے پھلا نگنا گناہ ہے حضور ﷺارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص دوران خُطبہ نمازیوں کے کندھے پھلانگتا ہے وہ جہنم کا پُل بنایا جائے گا ۔

مسئلہ : خطیب نے مسلمانوں کے لئے دُعا کی توسامعین کو ہاتھ اُٹھانا یا آمین کہنا منع ہے ۔

مسئلہ : نامِ محمد ﷺپر انگوٹھے چومنا موضاتِ کبیر کی روایت کے مطابق حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی سنت ہے لیکن دوران خُطبہ حضور ﷺکے نام محمد پر بھی انگوٹھوں کو نہ چوما جائے البتہ خطیب چوم سکتاہے ۔

مسئلہ : دوران خطبہ حضور پاک ﷺکانامِ مبارک آئے تو حاضرین درود شریف زبان سے نہ پڑھیں بلکہ دل میں پڑھیں ۔

مسئلہ : خطبۂ جمعہ کے علاوہ عیدین ونکاح کابھی خُطبہ سُننا واجب ہے ۔(درمختار)

مسئلہ : جمعہ کی پہلی اذان ہوتے ہی سعی واجب ہے اورخرید و فروخت وغیرہ ان چیزوں کا جو سعی کے منافی ہوں چھوڑ دینا واجب ہے یہاں تک کہ راستہ چلتے ہوئے اگر خریدو فروخت کی تویہ بھی ناجائز ہے ۔

مسئلہ : خطیب جب منبر پر بیٹھے تواس کے سامنے دوبارہ اذان دی جائے سامنے سے یہ مُراد نہیں کہ مسجد کے اندر منبر کے پاس ہواسی لئے مسجد کے اندر اذان کہنے کو فقہائے کرام نے مکروہ لکھا ہے ۔

(خلاصہ وعالمگیری وقاضی خان)

مسئلہ : خُطبہ ختم ہوجائے توفوراً اقامت کہی جائے کیونکہ خُطبہ واقامت کے درمیان دنیاوی بات کرنا مکروہ ہے ۔(درمختار وبہار)