کلمۂ نجات

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے وقت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اس قدر سخت صدمہ پہونچاتھا کہ بعض صحابہ ٔٔکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دل میں مختلف خیالات پیدا ہوئے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان ہی لوگوں میں تھاحضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے اور مجھے سلام کیا مگر مجھے مطلق پتہ نہ چلاانہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے اس کی شکایت کی اس کے بعد دونوں حضرات ایک ساتھ تشریف لائے اور سلام کیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے دریافت فرمایا کہ تم نے اپنے بھائی عمر (رضی اللہ تعالی عنہ)کے سلام کا بھی جواب نہ دیا (کیا بات ہے ؟)میں نے عرض کیا کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا۔ حضرت عمر( رضی اللہ تعالی عنہ )نے فرمایا ایسا ہی ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو آپ کے آنے کی خبر بھی نہیں ہوئی کہ آپ کب آئے اور نہ ہی سلام کا پتہ چلا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا سچ ہے ایسا ہی ہوا ہو گا۔ غالباً تم کسی سوچ میں بیٹھے ہو گے۔ میں نے عرض کیا واقعی میں گہری سوچ میں تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے دریافت کیا ’’کیا تھا؟‘ ‘میں نے عرض کیا کہ سرکار علیہ السلام کا وصال ہو گیا اور ہم نے یہ بھی نہ پوچھا کہ اس کام کی نجات کس چیز میں ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں پوچھ چکا ہوںمیںاٹھا اور میں نے کہا تم پر میرے ماں باپ قربان واقعی تم ہی یہ دریافت کرنے کے زیادہ مستحق تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ اس کام کی نجات کیا ہے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اس کلمہ کو قبول کرلے جس کو میں نے اپنے چچا (ابو طالب) کوپیش کیا تھا اور انہوںنے رد کردیاتھا وہی کلمۂ نجات ہے۔ (احمد)

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! قربان صحابۂ کرام علیہم الرضوان کی عظمتوں پر ہم گناہ گاروں پران کے کس قدر احسانات ہیں کہ ان کے دل میں ہمیشہ نجات کی فکر رہتی تھی اور ان کے سوالات سے ہمیں سامان نجات ملااگر وہ سوال نہ فرماتے تو ہمیں ان اعمال کی خبر کیسے ہوتی۔ سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ کے سوال پر کہ اس کام کی نجات کیا ہے تو حضور ا نے کلمہ کے قبول کرنے کو فرمایا مراد اس سے یہ ہے کہ اللہ عزوجل ہی کو وحدہ لاشریک عبادت کے لائق مانے اور حضور رحمت عالم اکو اللہ عزوجل کا رسول مانے۔ لہٰذا استقامت کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہے اور کلمئہ طیبہ کو ورد زبان رکھیں۔ اللہ عزوجل ہم سب کا خاتمہ ایمان کے ساتھ فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم