عروج کی وجہ اور زوال کا سبب

مسلم محلوں سے گزرتے ہوئے اکثر مجھے اندلس کے معروف فلسفی ابن رشد (١١٢٦ – ١١٩٨)اور ایک عیسائی پادری کے درمیان ہوئے مکالمہ کی یاد آ جاتی ہے جسے اپنے شہر پر بڑا فخر تھا، پادری کہ رہا تھا کہ پورے اندلس میں میرے شہر جیسا کوئی شہر نہیں ہے جواباً ابن رشد نے یہ کہ کر اسے لاجواب کر دیا تھا کہ ہمارے شہر میں جب کوئی گویّا مرتا ہے تو اسکے ساز بکنے کے لیے تمہارے شہر(غالباً اشبیلیہ) جاتے ہیں اور جب کوئی عالم تمہارے شہر میں وفات پاتا ہے تو اسکی کتابیں بکنے کے لیے ہمارے شہر(قرطبہ) آتی ہیں.

یہ تھی ہمارے دور عروج کی داستان مگر آج معاملہ بر عکس ہے: آج وہ لوگ (پادری کے وارث) کھانے پینے کے لئے ہمارے محلوں میں آتے ہیں اور ہم (ابن رشد کے وارث) پڑھنے لکھنے کے لئے انکے علاقوں میں جاتے ہیں۔
وہ تھی ہمارے عروج کی وجہ اور یہ ہے ہمارے زوال کا سبب.

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

Copied