حکایت

حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں فریضۂ حج ادا کرنے کے لئے گھر سے نکل کھڑا ہوا اور اپنی سواری کو رخ قبلہ دوڑانا شروع کیا۔ مگر میری سواری ولایت روم کے ایک شہر قسطنطنیہ کی جانب چل پڑی میں نے اسے کعبہ معظمہ کی جانب لے جانے کی بہت کوشش کی مگر وہ قسطنطنیہ ہی کی جانب بڑھتی رہی یہاںتک کہ میں قسطنطنیہ پہنچ گیاوہاںلوگوں کے ایک جم غفیر پر نظرپڑی جو ایک دوسرے سے محو کلام تھے (باتیں کررہے تھے ) میںنے بعض لوگوںسے صورت حال معلوم کی تو انہوں نے جواب دیاہمارے بادشاہ کی بیٹی پر دیوانگی کا دورہ پڑا ہے اورکسی طبیب کی تلاش کی جارہی ہے میں نے کہا میں اس لڑکی کا علاج کروں گا وہ لوگ مجھے شاہی محل میں لے گئے جب میں دروازے کے قریب پہنچا تو اندر سے آواز آئی۔ اے جنید !(رضی اللہ عنہ)تو اپنی سواری کو کب تک ہماری طرف آنے سے روکتا رہے گاجب کہ وہ تمہیں ہماری طرف لارہی ہے جب میںنے اندر قدم رکھا تو ایک حسین وجمیل عورت کے سراپا پر نظر پڑی جو کہ پا بہ زنجیر تھی۔ اس عورت نے مجھ سے کہا حضرت میرے واسطے دوا تجویز فرمائیںجس سے میں صحت یاب ہو جائوں اور میری دیوانگی جاتی رہے۔ میں نے اس سے ’’لاَاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْ لُ اللّٰہِ ا ‘‘ پڑھنے کو کہا اس نے با آوازبلند کلمہ شریف پڑھا،پڑھتے ہی زنجیر ٹوٹ کر گر پڑی بادشاہ بڑا حیران ہوااور کہنے لگا واللہ کتناپیارا اورکامیاب حکیم ہے کہ ایک پل میں میری بیٹی کی بیماری دور کرکے اسے اچھا کر دیا۔ میںنے بادشاہ سے کہا تم بھی کلمہ شریف پڑھو (تمہا رے دل سے کفرکی بیماری ختم ہو جائیگی )اس نے کلمہ شریف پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔ کلمہ شریف کایہ کمال دیکھ کر بیشمار لوگ اسی وقت حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ (نزہۃ المجالس )

میرے پیا رے آقاﷺ کے پیارے دیوانو ! جب ایک کافر کلمئہ طیبہ پڑھے تو اس کو ایمان کی دولت مل جائے تواگر ایک مومن کلمئہ طیبہ پڑھے تو کیا اسے جہنم سے نجات نہیں مل سکتی اور کیا وہ اللہ عز و جل کی رحمتوں سے مالا مال نہیں ہو سکتا یقیناً ہو سکتا ہے لہٰذا کلمۂ طیبہ کی کثرت کریں اور اس کے فائدہ سے مالا مال ہوں۔ اللہ عز و جل ہم سب کو توفیق رفیق نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم