أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِۚ وَاللّٰهُ هُوَ الۡغَنِىُّ الۡحَمِيۡدُ ۞

ترجمہ:

اے لوگو ! تم سب اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی بےنیاز ہے، ستائش اور حمد کیا ہوا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے لوگو ! تم سب اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی بےنیاز ہے ستائش اور حمد کیا ہوا اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق لے آئے اور یہ اللہ پر بالکل دشوار نہیں ہے (فاطر :15-17)

اپنے وجود اور بقا میں ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہے اور جو جس قدر زیادہ کمزور ہے وہ اس قدر زیادہ اللہ کی طرف محتاج ہے، انسان کے متعلق فرمایا :

وخلق الانسان ضعیفاً (النسائ :28) اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

اللہ الذی خلقکم من ضعف (الروم : ٥٤) اللہ ہی ہے جس نے تم کو کمزوری کی حالت سے پیدا کیا۔

اور اللہ ہی بےنیاز ہے اور وہ جواد مطلق ہے جو اس کے محتاج ہیں وہ ان کی ضروریات پوری کرتا ہے اور ان کو اپنے انعام اور اکرام سے نوازتا ہے، اس لئے وہ لائق حمد اور ستائش ہے اور مخلوق اختیار سے یا اضطرار سے اس کی حمد کرتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 35 فاطر آیت نمبر 15