تحریک لبیک کے مرحوم قائد اور ان کا نام لینے پر ہی بندہ ناچیز کو 30 دن
کے لئے فیس بک پر بین کر دیا گیا جبکہ دوسری طرف سارا یورپ آزادی اظہار کا واویلا کرتا نہیں
تھکتا۔ اس آزادی اظبار سے بھلے کروڑ ہابلکہ ارب ہا مسلمانوں کے دل چھلنی چھلنی ہو جائیں۔ اس پر
یہ یورپین میڈیا پابندی نہیں لگائے گا۔ لیکن کوئی مسلمان اپنے راہنما کا نام تک نہ زبان سے نکال
سکتا ہے نہ قلم سے تحریر کر سکتا ہے۔ کیا یہ دوہرا معیار نہیں ہے ۔ کیا مسلمانوں کو علم غیب اور
حاضر و ناظر کے چکروں سے نکل کر اپنی توانائیاں جدید ٹیکنالویی پر صرف کرنے کی ضرورت
نہیں ہے کیا ہم ساری زندگی قل چہلم اور عرس کو ثواب اور کفر و شرک ثابت کرنے میں
گزار دیں گے۔ مسلمانو! اب بھی وقت ہے کہ چھوٹے موٹے مسائل سے نکل کر ٹیکنالوجی کی دنیا
میں اپنا مقام پیدا کرو اور اس میدان میں سکہ جمارو۔ تا کہ اظہار رائے کے لئے تو کم از کم آپ کو
غیروں کی طرف نہ دیکھنا پڑے ۔ عقائد اور اصولی مسائل سمیت فروعی مسائل پر پچھلی ڈیڑھ
صدی میں ہزاروں کتب لکھی جا چکی ہیں۔ حسام الحرمین پر سو فیصد یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ
سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان کے شہسوار بن جاؤ۔ احمد بدررضوی