خطبا کے اختلافات!

ایک عزیز کے ہاں ختمِ قل پر بیان کے لیے حاضری تھی، مسجد میں پہنچا تو ایک گستاخی کر بیٹھا جس کپڑے پر تسبیحات پڑھنے کے لیے رکھیں تھیں اس پر پاوں رکھ دیا. بیان کے لیے دس منٹ کا وقت دیا گیا؛ تو تقریباً گیارہ منٹ پر بیان ختم کر دیا.

دوسرے خطیب صاحب کو بھی دس منٹ عطا ہوئے پہلے پانچ منٹ موصوف نے نسبت والی اشیا کے ادب پر تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
کپڑے کو تسبیح سے نسبت ہو گئی اس پر پاوں رکھنا بےادبی اور گستاخی ہے.ہمارے حضور پیر صاحب کے سامنے ایک مرید نے ایسا ہی کیا تو فرمایا : بد بختا تینو نئی پتا ایدا وی ادب اے….. ( ہم تو گئے کام سے)
سکرات الموت پر گفتگو کرتے ہوئے موصوف نے فرمایا : حضور نبی کریم صلی اللہ والہ وسلم کو بھی وصال شریف کے سکرات کی شدت اور تکلیف محسوس ہوئی.
بہر حال تیس منٹ بعد منتظمِ محفل نے پاؤں پکڑے تو پاکستانی ریل گاڑی کی طرح رُکتے رُکتے تقریر رُکی.

وہیں ایک بزرگ سید صاحب صدرِ محفل تھے.
دعا کے دوران سید صاحب نے خطیب صاحب کی کوئی پندرہ بیس منٹ اصلاح فرمائی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ والہ وسلم کی وہ حالت مبارک وصال الہی کی چاہت میں تھی نہ کہ سکرات الموت کی وجہ سے؛ ایسا کہنا بے ادبی اور گستاخی ہے.

محفل اختتام پذیر ہوئی مناظرے کے سماں بن گیا ناچیز وہاں سے نکل گیا.ایسے وقت حیلے بہانے سے ادھر اُدھر ہونے کی سوجھتی ہے کہ میت کے گھر کا کھانا صرف فقرا کے لیے ہوتا ہے.

نوٹ : جب آیت کریمہ ماکان محمد… الخ پڑھی گئی تو میرے علاوہ سب نے بغیر کسی اختلاف کے انگوٹھے چومے.

( جبکہ اس وقت انگوٹھے چومنے کی سخت ممانعت ہے)

نیز شدتِ اختلاف کے باوجود دونوں فریق مجلسِ طعام میں متحد تھے.

روداد سنانے کا مقصد یہ ہے کہ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں..

او جہاں وی ویکھو…..

فرحان رفیق قادری عفی عنہ

17/12/2020