کل ہونے والی ایک محفل کا کلپ سنا نقیب محفل بیان کر رہے ہیں “سلمان فارسی دوڑے مصطفی کی بارگاہ میں کہ رات کے تھوڑے سے حصے میں باغ بھی لگ گیا کجھوریں بھی لگ گئی ہیں سرکار نے پوچھا آج دن کیا ہے عرض کی بدھ ہے فرمایا ہمارا وعدہ یاد کر ہم نے کہا تھا بدھ کو تمہیں آزاد کروا لیں گے ” قارئین یہ ساری بات من گھڑت ہے اور کئی نقیب و خطیب اس طرح کی روایات بنا کر محافل گرماتے اور نوٹ چھاپتے ہیں یاد رہے اگر جان بوجھ کر اپنی بات کو حدیث بنا کر پیش کیا تو یہ جرم ہے اس لیے اپنی محافل میں مائیک صرف ان کو دیں جو درست روایات بیان کریں اور ٹھیک اشعار پڑھیں وہ نقیب ہو خطیب ہو یا نعت خواں ۔۔۔۔ شکریہ اللہ آپ کو جزا دے
اب درست روایت ملاحظہ فرما لیں
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے دست مبارک سے وہ درخت لگائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا معجزہ تھا کہ سب درخت اسی سال بڑے ہو کر پھل لے آئے مگر ایک درخت نہ پھلا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ درخت کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا لگایا ہوا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دست مبارک کا نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کو نکالا اور دوبارہ اپنے دست مبارک سے لگایا۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ بے موسم لگایا ہوا درخت بھی اسی سال پھل لے آیا۔(شمائل ترمذی،باب مہرنبوت،صفحہ30)
⁦✍️⁩ محمد اشفاق مدنی
23 دسمبر 2020