اسلامی تقویم (کیلنڈر) کا بیان
اسلام کے بہت سے احکام چاند کے طلوع پر موقوف ہیں۔قربانی اور حج، رمضان اور عید الفطر، عدت وفات کی گنتی چار ماہ اور دس دن، زکوۃ کی ادائیگی کے لئے ایک سال کا تعین، کفارہ کے روزوں کے لیے دو ماہ کا تعین، ان تمام امور میں مدت کا تعین چاند کے طلوع سے ہوتا ہے ۔
تاہم اس سے یہ سمجھنا غلط ہے کہ قمری تقویم اسلامی ہے اور شمسی تقویم غیر اسلامی ھے۔
چاند اور سورج دونوں ہی اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں دونوں کی گردش بھی اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق ہے، بعض عبادات جن کا تذکرہ میں نے پہلے کیا وہ چاند کے نظام کے مطابق ہیں، اور ہر روز کی پانچ نمازیں سورج کے نظام کے مطابق ہیں ۔۔
اللہ تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ۔۔۔
وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا
ترجمہ :۔ اور ہم نے رات اور دن کو نشانیاں بنایا پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا، تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو تاکہ سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو اور( اللہ تعالٰی) ہر بات کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔۔۔۔۔۔
اکثر یہ سوال ہوتا ہے کے قمری تقویم ہماری ہے اور شمسی تقویم ہماری نہیں یہ بنیادی طور پر غلط ہے ۔۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے
فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّیْلَ سَکَنًا وَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعََلِیْمِ۔
ترجمہ۔
اللہ تعالٰی نے صبح (کی سفیدی) کو روشن کرنے والا ہے، اس نے رات کو آرام و سکون کے لئے اور سورج اور چاند کو حساب کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ یہ اللہ کے دانا و توانا کے مقررکردہ (اصول) ہیں۔
اس کے یہ معنی ہیں کہ شمسی حساب رکھنا یا استعمال کرنا ناجائز نہیں ہیں، بلکہ اس کا اختیار ہے کہ کوئی شخص نماز، روزہ ، زکوٰة اور عدت کے معاملہ میں تو قمری حساب شریعت کے مطابق استعمال کرے، مگر اپنے کاروبار تجارت وغیرہ میں شمسی کیلنڈر استعمال کرے۔
مگر شرط یہ ہے کہ مجموعی طور پر مسلمانوں میں قمری حساب جاری رہے، تاکہ رمضان اورحج وغیرہ کے اوقات معلوم ہوتے رہیں، ایسا نہ ہو کہ اسے جنوری فروری کے سوا کوئی مہینے ہی معلوم نہ ہوں ،
یہ سورج ، چاند ، ستارے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے حساب و کتاب اور رستوں کی معلومات کے لئے بنائے ہیں ۔۔۔
قرآن کریم میں ہے۔۔۔
وَھُوَالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ لِتَھْتَدُوْا بِھَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِط قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ۔
ترجمہ۔
اور وہ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے ہیں تاکہ تم خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعہ سے راہ معلوم کرو۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ہم نے اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کر دی ہیں جو آگاہ ہیں اور دانا ہیں۔
قرآن مجید کا یہ معجزہ ہے کہ اس نے عبادت کے لیے ایسا کیلنڈر اختیار کیا جو کہ انسان کی تربیت کے واسطے بہترین تھا۔ ورنہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اللہ گرمیوں کے مہینہ میں رمضان المبارک مقرر کر دیتا اور دنیا کے کسی خطے میں یہ مہینہ مسلمانوں کے لئے سخت ہوتا اور کسی کے لیے ہمیشہ کی سہولت اور راحت کے باعث بہت آسان۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ دنیاکے مختلف
ملکوں میں شمسی مہینوں کا موسم بھی ایک سا نہیں ہوتا ٗ مختلف ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ کسی طور پر مناسب اور انصاف کے مطابق نہ ہوتا کہ مغرب کے ممالک کے رہنے والوں کے لئے روزے آسان ہوتے اور ایشیا والوں کے لیے سخت یا افریقہ والوں کے آسان اور آسٹریلیا اور امریکہ والوں کے لیے سخت۔ انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ ہر ملک اور ہر خطے کے لوگوں پر موسم کی سختیاں اور سہولتیں ایک جیسی ہوتیں۔ یہی وہ حکمت تھی جس کو ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالی نےٰ عبادات قمری مہینوں میں فرض کیں۔۔
سال کی تقسیم
فرمان الہٰی ہے :۔ إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتَابِ اللّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ} [سورة التوبة: 36]
ترجمہ:
خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں 12بارہ ہیں یعنی اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب اللہ میں برس کے بارہ مہینے لکھے ہیں۔
حدیث مبارکہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:«صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته، فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين» رواه البخاری
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کی نماز پڑھو، اگر چاند نہ دیکھ سکو تو شعبان کے ۳۰ دن پورے کرلو پھر روزہ رکھو۔۔۔۔
شرعی احکام کا دارومدار چاند پر ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:۔ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ [البقرة: 189]
ترجمہ۔۔
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے۔۔۔۔۔۔
تحریر:۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی