مفتی اعظم پاکستان اور رؤیت ہلال
چاند دیکھ کر اس کے مطابق عبادات کا معاملہ کوئی عام نہیں بلکہ انتہائی حساس معاملہ ہے. رؤیت ہلال کے ساتھ 20 کروڑ عوام کی شرعی عبادات وابستہ ہیں. اگر خدا نخواستہ چاند کے اعلان کے سلسلے میں تھوڑی سی بھی کوتاہی ہو جائے تو کروڑوں مسلمانوں کی عبادات داؤ پہ لگ جاتی ہیں، جس سے پوری قوم اجتماعی طور پر گناہ گار ہوتی ہے.
یہ منصب تقاضا کرتا ہے کہ اس کی ذمے داری کسی انتہائی اہل اور معتبر مفتی کے سپرد کی جائے.
مفتی اعظم پاکستان علامہ مفتی منیب الرحمن پاکستان ایک ایسی معتبر، معتمد، متدین، متقی بین الاقوامی شخصیت ہیں جنہیں ساری قوم کا زبردست اعتماد حاصل ہے.
وہ 19 سال سے رؤیت ہلال کی ذمے داری کو خوش اسلوبی سے نبھاتے چلے آ رہے تھے. عوام پر یکدم یہ خبر بجلی بن کر گری کہ انہیں اس منصب سے ہٹا کر ایک بالکل ہی غیر معتبر فرد کو ان کی جگہ بٹھا دیا گیا ہے.
اس پر عوام کی طرف سے بالکل وہی رد عمل سامنے آیا جس کی ان سے توقع تھی. انہوں نے مفتی صاحب کی معزولی کے فیصلے کو کلیتا مسترد کر دیا.
اگر مفتی صاحب کی جگہ کوئی ان کے برابر درجے کا اہل بندہ سامنے لایا جاتا تو پھر بھی یہ کسی حد تک قابل برداشت تھا، لیکن یہاں تو ہیرو کی جگہ زیرو کو بٹھا دیا گیا. قوم کی عبادات کے ساتھ اس سے زیادہ سنگین مذاق شاید ہی کوئی اور ہو. صورت حال بے حد تشویش ناک اور گھمبیر ہے.
ضرورت اس امر کی ہے کہ یا تو مفتی اعظم پاکستان کو معذرت کر کے دوبارہ واپس لایا جائے یا پھر ان کو برطرف کرنے کی اصولی وجوہات سامنے لا کر کسی اہل اور معتبر شخصیت کو ان کی جگہ تعینات کیا جائے.

عون محمد سعیدی مصطفائی