کیا اتا ترک بھی ارطغرل دیکھتے؟
آصف محمود
مصطفی کمال اتا ترک نے جس ترکی سے سلطنت عثمانیہ کے آخری بادشاہ کو بچوں اور خواتین سمیت صرف چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر نکل جانے کا حکم دیا تھا ، آج اسی ترکی سے سلطنت عثمانیہ کے پہلے نقش ارطغرل بے پر بنے ڈرامے نے دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں ۔ کل ارطغرل کی موت کا منظر دیکھا اور اس پر دنیا بھر کے اخبارات میں شائع ہونے والے تبصرے دیکھے تو ایک خیال آیا کہ جناب مصطفی کمال اتا ترک زندہ ہوتے تو کیا وہ بھی اس ڈرامے کو شوق سے دیکھ رہے ہوتے یا ہمارے کچھ دوستوں کی طرح اضطراب سے پہلو بدل کر سگار سلگا کر رہنمائی فرما تے کہ کامریڈ یہ حقیقت تھوڑی ہے ، یہ تو محض ایک ڈرامہ ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آخری سلطان سے میں نے شہزادی صبیحہ کا ہاتھ مانگا تھا اور مجھے انکار کر دیا گیا تھا۔

مصطفی کمال سیکولر تھے ۔ مسلم دنیا میں یہ سیکولرزم کا ابتدائی نقش تھا اور اس میں رد عمل کی غیر معمولی شدت تھی ۔ بادشاہوں اور بادشاہتوں پر دنیا میں زوال آتے رہے، روس میں بھی آئے اور یورپ میں بھی لیکن جس رویے کا مظاہرہ اتا ترک نے سلطنت عثمانیہ کے آخری بادشاہ کے ساتھ کیا وہ انتہائی افسوسناک تھا ۔ بادشاہ ہی کو نہیں اس کی اہل خانہ اور بچوں اور عورتوں تک کو حکم دیا گیا کہ ترکی چھوڑ دیں ۔ یہی نہیں بلکہ انہیں کہا گیا ان کے پاس ترکی چھوڑنے کے لیے صرف چوبیس گھنٹے ہیں۔

کوئی دکھ سا دکھ تھا ۔ قیامت کی گھڑی تھی ۔ صدیوں ترکی پر حکومت کرنے والے خاندان کی شہزادیوں نے اونے پونے داموں زیور بیچے ۔ اس مختصر نوٹس پر مگر کوئی کیا کچھ بیچ سکتا ۔ جائیدادیں اور گھر ادھر ہی رہ گئے ۔ سب سے چھوٹی شہزادی کے کھلونے بھی محل میں پڑے رہ گئے ۔ چند کپڑوں کے ساتھ خالی ہاتھ سلطنت عثمانیہ کے بادشاہ کے گھرانے کو ترکی سے نکال دیا گیا ۔

سلطان نے آخری خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے ترکی سے نکال رہے ہو تو کم از کم یورپ تو نہ بھیجو جن کے ہاتھوں یہ سلطنت تباہ ہوئی ہے ۔ مجھے شام یا مصر کی طرف جلاوطن کر دو ۔ لیکن حکم ہوا کہ آپ کسی مسلمان ملک نہیں جا سکتے ۔ یورپ ہی جانا ہو گا ۔ یہی نہیں سلطان کو مزید اذیت دینے کے لیے یہ اہتمام بھی کیا گیا کہ اسے لے جانے والی ٹرین کا انچارج ایک یہودی تھا۔

شاہی خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا ۔ ان کے پاس کوئی زاد راہ نہ تھا ۔ نہ سیکولرزم کی انسان دوستی کو خیال آیا کہ شاہی خاندان کیسے گزر بسر کرے گا ۔ نہ تر ک قوم پرستی کے جذبات جاگے کہ جیسے بھی ہے، خاندان تو ترک بادشاہوں کا ہے ۔ ایسے تو نہ بھیجا جائے۔ کچھ رقم ہی دے دی جائے تا کہ یہ نئی زندگی شروع کر سکیں ۔ صدیوں اس خاندان نے ترکی پر حکومت کی تھی ۔ اتنا تو کیا جا سکتا تھا کہ شاہی خاندان کی اپنی جائیداد کے بدلے میں اتا ترک صاحب کی حکومت انہیں کچھ رقم دے دیتی ۔ ڈیڑھ سو کے قریب لوگ خالی ہاتھ یورپ روانہ کر دیے گئے ۔ نظام آف حیدر آباد نے شاہی خاندان کو کچھ رقم بھیجی جو شاہی خاندان تک نہ پہنچنے دی گئی۔

سلطنت عثمانیہ جس یورپ سے لڑتی رہی اور جس کے ہاتھوں تباہ ہوئی اس کا آخری بادشاہ سلطان مہمت خالی ہاتھ اسی یورپ میں جلا وطن کیا گیا ۔اٹلی میں جب اس بادشاہ کی وفات ہوئی تو اس کی بیٹی صبیحہ سلطان شاہ بابا کی میت دمشق لائی اور سلطان سلیم مسجد میں دفن کیا۔

یہ وہ صبیحہ سلطان ہے،کمال اتا ترک صاحب جس سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن سلطان نے اس کی اجازت نہیں تھی۔ ہو سکتا ہے شاہی خاندان کی یوں تذلیل کے پیچھے اتا ترک صاحب کے یہ انتقامی جذبات بھی پوشیدہ ہوں۔

شیخ الاسلام سمیت کئی وزراء اور گورنرز بھی جلا وطن کر کے یورپ بھیج دیے گئے۔یہ گویا یورپ کے جذبات کی تسکین کے لیے اٹھایا گیا قدم تھا یہ لو سلطنت عثمانیہ اب خالی ہاتھ تمہارے ہاں رسوا ہونے بھیج رہے ہیں ۔ سلطان کے وزراء نے یہاں نوکریوں کی تلاش کی تو انہیں نوکریاں نہ ملیں۔ The Dynasty in Exile. میں لکھا ہے کہ جنہوں نے دنیا پر حکومت کی تھی وہ گورنر اور وہ پاشا حضرات اٹلی اور فرانس کی گلیوں میں بھیک مانگتے پائے گئے۔

عام حالات میں جسے سلطان اورہان دوم ہونا تھا، وہ شہزادہ برازیل میں مزدوری کرتا رہا اور بعد میں دمشق میں ٹیکسی چلاتا رہا۔شاہی خاندان کا پاسپورٹ یکطرفہ تھا، سلطنت عثمانیہ کا آخری تاجدار اب دنیا میں کہیں آ جا نہیں سکتا تھا۔اس کے لیے ضروری تھا وہ اسی یورپ سے پاسپورٹ کی بھیک مانگتا۔شہزادہ دندار کوایک رات نیویارک میں قتل کر دیا گیا۔

اتا ترک کا سیکولرزم، خلافت کا متبا دل تھا اور مسلم دنیا پہلی بار مشاہدہ کر رہی تھی کہ سیکولرزم کتنا روشن خیال اور کتنا انسان دوست ہوتا ہے اوررشتے سے انکار ہو جائے تو سیکولرزم کا مزاج کتنا برہم ہو جاتا ہے۔

لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ سیکولرزم میں کتنی رواداری ہوتی ہے اور وہ کس طرح ڈنڈا ہاتھ میں ہاتھ میں لے کر بتاتا ہے کہ کون سا ہیٹ پہنا جا سکتا ہے، کون سا ممنوع ہے اور کپڑے کس طرح کے ہوں گے۔

لوگوں نے دیکھا کہ سیکولرزم کس طرح لوگوں کو مذہبی آزادی دیتا ہے اور عربی میں اذان اور قرآن کی تعلیم تک پر پابندی لگا دیتا ہے۔

ایک اہتمام کیا گیا کہ عثمانی سلطنت لوگوں کے ذہن سے محو ہو جائے ۔ شاہی خاندان کی عورتوں تک کو یکطرفہ پاسپورٹ دے کر ملک سے نکال دیا گیا۔ادھر ہم جیسے بھی جنگ عظیم کی کہانیاں پڑھتے تو کہیں یہ ذکر نہ ہوتا کہ ایک سلطنت عثمانیہ بھی تھی جس کے زوال سے اسرائیل کا قیام ممکن ہوا۔ قانون سازی ہوئی اور ترکی کو آئینی طور پر سیکولر بنا کر اپنے تئیں کھیل ختم کر دیا گیا۔

اتفاق دیکھیے برسوں بعد اسی ترکی سے ایک ڈرامہ”ارطغرل“ بنتا ہے اور مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیتا ہے۔ڈرامے کا ایک کردار”ارطغرل“ مرتا ہے اور دنیا بھر کے مسلم معاشروں میں اس کا دکھ محسوس کیا جاتا ہے۔ ایک ڈرامے پر اتنا رد عمل آ رہا ہے کہ ٹائم میگزین نے ترک صدر اردوان پر نئی فرد جرم عائد کی ہے کہ اس نے سلطنت عثمانیہ کا بھلا دینا والا ماضی ہتھیلی پر رکھ لیا ہے اور یہ سلطان سلیم بننا چاہتا ہے۔

سوچ رہا ہوں ان حالات میں اتا ترک حیات ہوتے تو کیا وہ بھی ارطغرل دیکھتے؟انہوں نے جس ترکی میں عربی میں اذان تک پر پابندی لگائی تھی اسی ترکی کے ڈرامے میں وہی اذان اسی عربی میں دی جاتی ہے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کے تار ہل جاتے ہیں۔

انہوں نے جس اسلامی تہذیب کو دیس نکالا دیا تھا انہی کے ملک کا ایک ڈرامہ اسی اسلامی تہذیب کے احیاء کا نقش بن چکا ہے۔

انہوں نے ترکی میں جس پگڑی پر پابندی لگائی تھی اسی ترکی کے ڈرامے نے اسی پگڑی کو عزت کی علامت بنا دیا ہے۔

سوچتا ہوں،کیا وہ بھی ایک ڈرامے سے لطف اندوز ہوتے یا ہمارے کچھ دوستوں کی طرح اضطراب سے پہلو بدل کر سگار سلگا کر رہنمائی فرما تے کہ کامریڈ یہ حقیقت تھوڑی ہے،یہ تو محض ایک ڈرامہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آخری سلطان سے میں نے شہزادی صبیحہ کا ہاتھ مانگا تھا اور مجھے انکار کر دیا گیا تھا۔