سال 2020 کو بعض ساتھی برا کہتے ہیں کہ ہائے بہت برا سال تھا ایسا نہیں کہنا چاہیے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
زمانے کو برا مت کہو…
(مسند ابی یعلیٰ 10/452)

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
“لا يقولن أحدكم يا خيبة الدهر فإن الله هو الدهر”
“ہائے زمانے کی بربادی،ہرگز کوئی نہ کہے،بے شک اللہ ہی زمانے والا ہے۔”
(حلیۃ الاولیاء 8/258)

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اسکی شرح میں فرماتے ہیں
اﻷﻇﻬﺮ ﺃﻥ ﻣﻌﻨﺎﻩ ﺃﻧﺎ ﻓﺎﻋﻞ ﻣﺎ ﻳﻀﺎﻑ ﺇﻟﻰ اﻟﺪﻫﺮ ﻣﻦ اﻟﺨﻴﺮ ﻭاﻟﺸﺮ ﻭاﻟﻤﺴﺮﺓ ﻭاﻟﻤﺴﺎءﺓ، ﻓﺈﺫا ﺳﺒﺒﺘﻢ اﻟﺬﻱ ﺗﻌﺘﻘﺪﻭﻥ ﺃﻧﻪ ﻓﺎﻋﻞ ﺫﻟﻚ ﻓﻘﺪ ﺳﺒﺒﺘﻤﻮﻧﻲ
اس حدیث کا معنی یہ ہے گویا للہ فرماتا ہے کہ زمانے میں جو کچھ ہوا اچھا،برا،غم،خوشی،اسکا کرنے والا میں ہوں لیکن جب تم اس چیز کو برا کہتے ہو جس کےبارے میں تم یی گمان کرتے ہو کہ اس کی وجہ سے ہوا تو گویا تم نے مجھ برا کہا(کیونکہ حقیقۃ میں ہی سب کچھ کرنے والا ہوں)
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 1ص 86)

اگر سال گزشتہ کو اس وجہ سے برا کہتا ہے کہ اس میں غم تکلیف زیادہ تھی تو اس میں حرج نہیں ہے
علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
ﻭﻣﻦ ﺳﺐ ﻣﺎ ﻳﻘﻊ ﻓﻴہ ﻣﻦ اﻟﺤﻮاﺩﺙ ﻭﺫﻟﻚ ﺃﻏﻠﺐ ﻣﺎ ﻳﻘﻊ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ ﻓﻼ ﺷﻲء ﻓﻲ
اور جو ان چیزوں کو برا کہے زمانے میں واقعہ ہوئیں اور لوگوں میں اغلب کی یہی مراد ہوتی ہے تو اس میں حرج نہیں ہے
(ارشاد الساری شرح صحیح بخاری جلد9ص 106)

لیکن مطلقا سال گزشتہ کو برا کہنے کو محققین علماء نے پھر بھی سختی سے منع کیا
چناچہ علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
و ﺃﻣﺎ ﻣﻦ ﻳﺠﺮﻱ ﻋﻠﻰ ﻟﺴﺎﻧﻪ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ اﻋﺘﻤﺎﺩ ﺻﺤﺘﻪ ﻓﻠﻴﺲ ﺑﻜﺎﻓﺮ ﻭﻟﻜﻨﻪ ﺗﺸﺒﻪ ﺑﺄﻫﻞ اﻟﻜﻔﺮ ﻭاﺭﺗﻜﺐ ﻣﺎ ﻧﻬﺎﻩ ﻋﻨﻪ اﻟﺸﺎﺭﻉ ﻓﻠﻴﺘﺐ ﻭﻟﻴﺴﺘﻐﻔﺮ.
بہرحال جو اسکی زبان پر جاری ہوگیا اور وہ اسکے درستگی کا یقین نہیں رکھتا لیکن پھر بھی اہل کفر سے تشبیہ اور اس ناجائز کام کے ارتکاب کی وجہ سے توبہ اور استغفار کرے
(عمدۃ القاری جلد19ص 167)

لہذا یوں کہنا سال 2020بہت برا تھا سخت ممنوع ہے اگر کہنا ہو تو یوں کہا جائے
“سال گزشتہ میں بہت تکالیف آئی ہیں”

اللہ ہمیں احکام شرع پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

✍🏻وقار رضا القادری