✒️✒️⚜️⚜️تحفظ عقیدۂ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں⚜️⚜️

قادیانی فتنہ اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہے، مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی تشہیر پورے زوروں سے جاری ہے اور مسلمان نوجوانوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے قادیانی بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف امت مسلمہ کی ایک بڑی تعداد قادیانیوں کی ناپاک سازشوں سے بالکل ناواقف ہے، جس سے قادیانی پورا فائدہ اٹھارہے ہیں اور اپنی ارتدادی مہم (مسلمانوں کو قادیانی بنانا) کو بہت تیزی کے ساتھ جاری رکھیں ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر طریقہ سے اس فتنہ کا تعاقب کرے، اور اس فتنہ کے تعاقب، سد باب اور سرکوبی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کرے۔ حالات کی ان سنگینیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، قادیانیت کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ سب سے پہلے اہلسنت کے جید علماء، اسکالرز اور عوام الناس کے درمیان اتحاد کی فضا کو عام کیا جائے, کیونکہ کہ اس فتنہ کو کچلنے کے لئے اتحاد کا بہت بڑا دخل ہے-
2۔ قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے والے نو مسلموں کا تحفظ ضروری ہے تاکہ نو مسلم حضرات دوبارہ ان کے دامِ فریب کا شکار ہوکر قادیانیت قبول کر نہ بیٹھیں –
3۔ اخبارات و رسائل کے ذریعہ مختلف زبانوں میں ختم نبوت کے لٹریچر کو عام کیا جائے جس میں خاص طور پر ختم نبوت، رد قادیانیت، اور حیات عیسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم موضوعات پر روشنی ڈالی جائے، خود صاحب قلم ہیں تو اس عنوان پر مضامین لکھیں یا اوروں سے لکھوائیں۔
4۔قادیانی مصنوعات اور پروڈکٹس کا مکمل بائیکاٹ کریں تاکہ ان کی معیشت کمزور پڑجائے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ ختم نبوت کے خلاف رقم خرچ نہ کر سکیں۔
5۔مسلمانوں میں شعور بیدار کرنے کی غرض سے کانفرنس اور جلسے جُلوس قائم کئےجائیں اور خصوصاً وقفہ وقفہ سے جمعہ کے موقع پر ائمہ وخطباء حضرات اسی عنوان کو جمعہ کا موضوع بنائیں-
6۔آج بھی مسلمانوں اور قادیانیوں کی بیٹیاں آپس میں ایک دوسرے کے یہاں ازدواجی زندگی میں منسلک ہیں (اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت دے) ایسی صورتحال میں محافظ ختمِ نبوت اور مجاہدین ختم نبوت کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ ایسے مسلمانوں سے فوراً رابطہ قائم کریں اور قرآن وحدیث کی روشنی میں بتلائیں کہ قادیانی کافر ہیں اور سمجھائیں کہ ان کے ساتھ مسلمانوں کا نکاح ہرگز نہیں ہوسکتا۔
7۔اگر کسی علاقے میں قادیانی اور مسلمان رہتے ہوں تو مسلمانوں کو قادیانیوں کی شادی اور تقریبات میں شامل نہ ہونے دیں، کیوں کہ مسلمان ان کے کلچر، رہن سہن اور طور طریقوں سے متأثر ہوکر ان کے شکار نہ بن جائے۔
8۔رد قادیانیت کورس رکھ کر طلبہ، وکلاء، ڈاکٹرز،سرکاری وغیر سرکاری ملازمین غرض کہ زندگی کہ ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہر مسلمان کو ہر بستی سے ایک، شہر کے سارے محلوں سے ایک ایک کو کم از کم “عقیدہ ٔ ختم نبوت” کی بنیادی اور اہم باتوں سے واقف کراکر اس کو ذمہ دار بنایا جائیں تاکہ وہ پوری بستی اور سارے محلہ کو قادیانیت کے فتنہ سے محفوظ رکھ سکے۔
9۔”ختم نبوت“ ،”رد قادیانیت“ اور حیاتِ عِیسیٰ علیہ السلام کے موضوعات پر سالانہ ایک عظیم الشان انعامی تحریری اور اگر ممکن ہو تو تقریری مقابلہ کا انعقاد کیا جائے۔
10۔ اخبارات میں”مراسلات “ کا جو کالم ہوتا ہے جس میں ایڈیٹر کے نام خط لکھا جاتاہے جس میں عوام اپنے مذھبی، سماجی، سیاسی، اور اقتصادی مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں ایک آدمی کی آواز پورے ملک میں خواص و عوام اور حکومت تک پہنچتی ہے لھذا”مراسلات“ کے کالم میں ”ختم نبوت“کے عنوان پر لکھا جائے ان شاء اللہ اس کا غیر محسوس طریقہ پر فائدہ ہوگا۔
11۔مسلم مینیجمنٹ عصری اسکولوں، کالجوں، ،یونیورسٹیوں، دینی مدارس، دارالعلوم اور ان کے دفاتر میں نیز دوکانوں، فیکٹریوں اور رفاہی تنظیموں کے دفاتر میں ”اَنَا خَاتَمُ النَبِیّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ“ اور ”تاجدار ختم نبوت زندہ باد“ کے چارٹ دیواروں اور اہم جگہوں پر آویزاں کیا جائے، تاکہ بار بار اس پر نظر پڑنے کی وجہ سے ”عقیدہ ختم نبوت “ہر ایک کے دل میں مضبوطی کے ساتھ راسخ و پیوست ہوجائے۔
12۔قصبات، گاؤں، دیہات میں رہنے والوں پر خصوصاً محافظ ختمِ نبوت خاص نظر رکھیں اگر ممکن ہو تو اپنی تنظیم کے تحت مالی امداد اور ضروری سامان ان تک مہیا کرایا جائے، نیز معاشی اعتبار سے ان کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں تاکہ قادیانی قرض اور مالی وغیرہ کی امداد کے بہانے ان بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے جال میں نہ پھنسالے-
13۔راقم نے بعض علاقوں کی کارکردگی سنی ہے جس میں دیہاتوں میں قادیانی اپنے آپ کو مسلمان بتاکر بحیثیت معلم مسلم بچوں کو قرآن مجید کی غلط تراجم و تشریحات بیان کرکے مرزا قادیانی کی نبوت کو سچا اور قادیانیت کو ثابت کرکے مسلمان بچوں کے دل و دماغ میں قادیانی عقائد و نظریات کو راسخ کرکے قادیانیت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بچے چُوں کہ استاذ کی عزت کرتے ہیں تو اہل حق ان کے مخالف ہوجائے تو یہ بچے ان کے لئے بہت بڑا سہارا بن جاتے ہیں لہٰذا محافظ ختم نبوت ایسے معلمین پر خصوصی نظر رکھیں۔
14۔دیہات اور گاؤں کے غریب طبقہ کے لوگ حصول علم، محنت ومزدوری، ملازمت وغیرہ کے سلسلہ میں شہر کا رُخ کرتے ہیں تو مالدار قادیانی اپنی ذاتی رہائشی عمارت کا مفت یا کرایہ کے کمروں کا انتظام کرتے ہیں،تاکہ ان کو قریب کرکے قادیانیت کے عقائد اور نظریات کی چھاپ چھوڑ کے ان کواپنی طرف مائل کرسکے۔لہذا محافظ ختم نبوت کی ذمہ داری ہے کہ وہ گاؤں کے سروے فارم میں نام، پتہ ،پیشہ، علمی قابلیت کے ساتھ ،دیہات کے لوگوں کے شہر کے رہائشی مقام کا خانہ بھی محفوظ کرے-
15۔ دینی مدارس میں ہفتہ واری انجمنوں میں یا کم از کم ماہانہ اجتماعی انجمنوں میں ختم نبوت کے عنوان سے طلباء کو تقاریر پیش کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ مثبت انداز میں ختم نبوت کے پیغام کو عام کیا جاسکے-
یہ عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے چند تجاویز ہیں جس سے ہر ایک کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے، بہرحال مذکورہ تجاویز پر عمل پیرا ہوکر فتنہ قادیانیت کا قلع قمع کیا جاسکتا ہےان شاءاللہ-
حَرفِ آخر:
قرآن و حدیث کے دلائل اور تمام علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی کافر ہے، نبی کریم ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے آخری رسول اور آخری نبی ہیں، نبوت کے دروازہ کو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بند فرمادیا،اب اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا اور کذاب ہے-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی اور رسول نہیں ہوگا اورآپ کی لائی ہوئی ہدایت ”دینِ اسلام“ آخری ہدایت ہے اور اسی پر انسانیت کی کامیابی کا مدار ہے۔بہرکیف!
اہل علم پر واجب ہے کہ وہ قادیانیت کا تعاقب کرکے اس کی بیخ کَنی کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھیں اور عوام ُالناس کو ان کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچانے کی پوری کوشش کریں۔اہل ثروت اور مالدار حضرات عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کی خاطر ختم نبوت کے تحت چلنے والی تنظیموں کو مالی امداد کے ذریعہ مضبوط و مستحکم کریں-
دعا ہے کے اللہ تعالیٰ فتنۂ قادیانیت سےامت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔

@fb.com/kanzulirfan.11
@ishaateislam.org