کیا سیدنا ابوھریرہ جنگ صفین میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟؟؟

(ایک روایت کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ)

پچھلے دنوں ہم نے ایک پوسٹ کی تھی کہ سیدنا ابوھریرہ جنگ صفین میں سیدنا معاویہ کے ساتھ تھے جس سے کافی کھلبلی مچی اور ہم سے اصرار کیا گیا کہ اسکی سند پیش کی جائے نیز ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے رجوع کرلیا تھا ہم یہاں روایت کی مکمل تحقیق پیش کرتے ہیں اور اس پر ہونے والے شبھات کا بھی ازالہ بھی کریں گے

چنانچہ امام ابن خیثمہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوف، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَة، عَنْ بِلاَل الْمَكِّيِّ؛ قال: كان أبو هُرَيْرَةَ مع مُعَاوِيَة بصِفِّين، فكان يقول: لئن أَرْمِي فِيهِمْ بسهمٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِن حُمُرِ النَّعم؛ يَعْنِي: أهلَ الْعِرَاقِ.

[ابن أبي خيثمة، التاريخ الكبير = تاريخ ابن أبي خيثمة – السفر الثاني، ٤٩٤/١]

سندا یہ روایت بالکل درست ہے

اس روایت کے پہلے راوی کا نام ھارون بن معروف ہیں ان سے بخاری و مسلم نے بھی روایات لی ہیں اور ثقہ حجت امام ہیں

علامہ شمس الدین الذھبی رحمۃ اللہ علیہ انکے ترجمے میں لکھتے ہیں

ﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ اﻟﻤﺮﻭﺯﻱ اﻹﻣﺎﻡ، اﻟﻘﺪﻭﺓ، اﻟﺜﻘﺔ، ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ اﻟﻤﺮﻭﺯﻱ، ﺛﻢ اﻟﺒﻐﺪاﺩﻱ، اﻟﺨﺰاﺯ، ﺛﻢ اﻟﻀﺮﻳﺮ.ﺣﺪﺙ ﻋﻦ: ﻫﺸﻴﻢ، ﻭﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺯاﺋﺪﺓ، ﻭﺳﻔﻴﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻴﻴﻨﺔ، ﻭﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ اﻟﺪﺭاﻭﺭﺩﻱ، ﻭﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺵ، ﻭﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻭﻫﺐ، ﻭاﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑﻦ ﻣﺴﻠﻢ، ﻭﻣﺮﻭاﻥ ﺑﻦ ﺷﺠﺎﻉ، ﻭﻃﺒﻘﺘﻬﻢ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﺤﺠﺎﺯ، ﻭاﻟﺸﺎﻡ، ﻭﻣﺼﺮ، ﻭاﻟﺠﺰﻳﺮﺓ، ﻭاﻟﻌﺮاﻕ.ﻭﻋﻨﻲ ﺑﻬﺬا اﻟﺸﺄﻥ، ﻭﺟﻤﻊ، ﻭﺻﻨﻒ. ﺣﺪﺙ ﻋﻨﻪ: ﻣﺴﻠﻢ، ﻭﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ، ﻭﺑﻮاﺳﻄﺔ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ، ﻭﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﻭﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ، ﻭﺻﺎﻟﺢ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺟﺰﺭﺓ، ﻭﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺯﻫﻴﺮ، ﻭﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ، ﻭﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ ﻫﺎﺭﻭﻥ، ﻭﺃﺑﻮ اﻟﻘﺎﺳﻢ اﻟﺒﻐﻮﻱ، ﻭﺃﺑﻮ ﻳﻌﻠﻰ، ﻭﺁﺧﺮﻭﻥ.

ﻭﺛﻘﻪ: ﺃﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ، ﻭﻏﻴﺮﻩ

(سیر اعلام النبلا جلد 11ص 138)

اسکے دوسرے راوی ضمرہ بن ربیعہ ہیں جو کہ ثقہ ہیں

چنانچہ سوالات ابی داود میں ہے

ﻗﻠﺖ ﻷﺣﻤﺪ ﺿﻤﺮﺓ ﺑﻦ ﺭﺑﻴﻌﺔ ﻗﺎﻝ ﺛﻘﺔ ﺛﻘﺔ

(سوالات ابی داود لااحمد بن حنبل جلد 1ص250)

اسکے تیسرے راوی بلال المکی ہیں انکو بلال العتکی البلال العکی بھی کہا جاتا ہے بعض ہمارے کرم فرماؤں نے انکے مجھول ہونے کا دعوی کیا تھا حلانکہ امام بخاری اور امام ابوداؤد نے بھی انکی سند سے روایات ذکر کی ہیں انکا ترجمہ بھی موجود ہے۔۔۔

چناچہ حافظ جمال الدین المزی انکے ترجمے میں فرماتے ہیں

بلال بن كعب العکی رَوَى عَن طاووس بْن كيسان،وَقَال: زرنا يَحْيَى بْن حسان فِي قريته، أنا وإبراهيم بْن أدهم، وعبد العزيز بْن قرير وموسى بْن يسار، فجاءنا بطعام، فأمسك مُوسَى وكان صائما، فقَالَ يَحْيَى: أمنا في هذا المسجد رجل من بني كنانة، من أصحاب النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسَلَّمَ يكنى أبا قرصافة أربعين سنة، يصوم فيه فأفطر، فقام إبراهيم فكنسه بردائه وأفطر مُوسَى. وعَن: يَحْيَى بْن أَبي عَمْرو السيباني

رَوَى عَنه: ضمرة بْن ربيعة والوليد بن مسلم.

[ تهذيب الكمال في أسماء الرجال، ٢٩٧/٤]

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں

بلال بن كعب العكي روى عن طاوس وعن يحيى بن حسان عن رجل من بني كنانة يكنى أبا قرصافة له صحبة وعنه ضمرة بن ربيعة* والوليد بن مسلم.

[ابن حجر العسقلاني، تهذيب التهذيب، ٥٠٤/١]

انکے بارے میں اگرچہ صریح کلمہ جرح و تعدیل مروی نہیں لیکن یہ مقبول درجے کا راوی ہے

چناچہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں

بلال ابن كعب العكي مقبول من السابعة

[ابن حجر العسقلاني، تقريب التهذيب، صفحة ١٢٩]

الحمدللہ ہماری پیش کردہ روایت بالکل بے غبار ہے

ابوھریرہ کے بیٹے بھی جنگ صفین میں

سیدنا ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ تو شامل ہی تھے ساتھ انکے بیٹے بھی جنگ صفین میں شامل تھے

چنانچہ علامہ شمس الدین الذھبی بلال بن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنھما کے تذکرے میں فرماتے ہیں

بِلالُ بْنُ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيُّ رَوَى عَنْ أَبِيهِ رَوَى عَنْهُ: الشَّعْبِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلاءَ، وَغَيْرُهُمَا شَهِدَ صِفِّينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، وَبَقِيَ إِلَى خِلافَةِ سُلَيْمَانَ.قَالَ رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ: إِنَّهُ دَخَلَ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَإِلَى جَانِبِهِ بِلالُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ عَلَى السّرير

[الذهبي، شمس الدين، تاريخ الإسلام ت تدمري، ٣٠٥/٦]

رجوع کا شبہ اور اسکا ازالہ

بعض نے کہا تھا کہ انہوں نے بعد میں رجوع کرلیا تھا قطع نظر اس سے کہ موضوع مبحث سیدنا معاویہ کے ساتھ انکی جنگ میں شمولیت تھی گویا معترض نے ضمنا اقرارکرلیا کہ شرکت کرلی تھی بعد میں رجوع کرلیا اور یہی ہمارا دعوی تھا😊

اب اس پر مختصرا عرض ہے کہ اہلسنت کے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اجتھادی خطاء پر تھے سیدنا ابوھریرہ کابالفرض درستگی طرف آنا ثابت بھی ہوجائے تو یہ ایسا ہے جیسے ایک مجتھد کا دوسرے مجتھد کے قول کی طرف رجوع کرنا ہوتا ہے جیسے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کئی مسائل میں صاحبین کے قول کی طرف رجوع فرمایا ہے لہذا سیدنا ابوھریرۃ اولا اگر اجتھادی خطاء پر تھے جس پر ایک اجر کے مستحق تھے لیکن بعد میں رجوع کے بعد دو اجر کے مستحق ہوگئے اس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر کوئی قدح پھر بھی ثابت نہیں ہوتی ہے

(ہم نے طوالت سے بچتے ہوئے زیادہ لمبی گفتگو نہیں کی ہے اپنا مدعا بحمداللہ ثابت کردیا)

✍🏻وقار رضا القادری