قصر کےبجائےنماز پوری پڑھنا،پڑھانا……..؟؟
سوال:
بھولے سے امام نے سفر میں قصر کے بجائے پوری نماز پڑھا دی کیا حکم ہے باحوالہ جواب دیں
.
جواب:
الحدیث:
صدقة ، تصدق الله بها عليكم ، فاقبلوا صدقته
مسافری قصر نماز اللہ کا دیا ہوا تحفہ ہے تو اس تحفےکو قبول کرو
[مسلم حدیث1573]
.
الحدیث:
إِنَّ اللَّهَ قَدْ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ
بےشک اللہ عزوجل نے میری امت سے وہ گناہ و لغزیشیں معاف کر دی ہیں جو بھول و خطاء اور اکراہ سے ہوں
[ابن ماجه ,1/659حدیث2043]
.
اگر بھولے سے پوری پڑھا دی اور مقتدی بھی مسافر ہی تھے اور دوسری رکعت کے بعد تشھد بھی ادا کیا تو گناہ نہیں مگر نماز واجب الاعادہ ہے،اور اگر نماز ہی میں یاد آگیا کہ بھولے سے پوری پڑھا رہا ہوں تو سجدہ سہو کرے نماز ہوجائے گی،واجب الاعادہ بھی نہ ہوگی
اور
اگر جان بوجھ کر پوری پڑھے(یا پڑھائے)تو اللہ کریم کے تحفے کو ٹھکرانا ہے،سخت گناہ ہے اور نماز واجب الاعادہ ہے، توبہ واجب اور آئندہ احتیاط و توجہ لازم
.
(نوٹ:اعادہ مطلب دوبارہ پڑھنا)
.
فَإِنْ صَلَّى أَرْبَعًا وَقَعَدَ فِي الثَّانِيَةِ قَدْرَ التَّشَهُّدِ أَجْزَأَتْهُ وَالْأُخْرَيَانِ نَافِلَةٌ وَيَصِيرُ مُسِيئًا لِتَأْخِيرِ السَّلَامِ وَإِنْ لَمْ يَقْعُدْ فِي الثَّانِيَةِ قَدْرَهَا بَطَلَتْ
ترجمہ:
اگر مسافر نے قصر کے بجائے چار رکعت نماز پڑھ لی(یا پڑھا دی)اور دوسری رکعت میں تشہد کی مقدار بیٹھا تھا تو نماز ہو جائے گی اور آخری دو رکعت نفل ہو جائیں گے اور یہ گناہگار ہوگا کیونکہ اس نے سلام کو تاخیر سے ادا کیا اور اگر دوسری رکعت میں نہ بیٹھا تھا تو نماز باطل ہوجائے گی
[مجموعة من المؤلفين ,الفتاوى الهندية ,1/139]
.
فَلَوْ أَتَمَّ مُسَافِرٌ إنْ قَعَدَ فِي) الْقَعْدَةِ (الْأُولَى تَمَّ فَرْضُهُ وَ) لَكِنَّهُ (أَسَاءَ) لَوْ عَامِدًا
ترجمہ:
اگر مسافر نےقصر کرنے کے بجائے پوری نماز پڑھ لی تو اگر وہ قعدہ میں بیٹھا تھا تو اس کے فرض پورے ہوگئے لیکن وہ گناہگار ہوگا اگر اس نے ایسا جان بوجھ کر کیا
[در مختار مع رد المحتار ,2/128]
.
فإذا أتم الرباعية و” الحال أنه “قعد القعود الأول” قدر التشهد “صحت صلاته۔۔۔وتصير الأخريان نافلة له “مع الكراهة” لتأخير الواجب وهو السلام عن محله إن كان عامدا فإن كان ساهيا يسجد للسهو “وإلا” أي وإن لم يكن قد جلس قدر التشهد على رأس الركعتين الأوليين “فلا تصح” صلاته
ترجمہ:
اگر مسافر نے چار رکعت والی نماز کو پورا پڑھ لیا اور تشہد کی مقدار قعدہ اول کیا تھا تو اس کی نماز صحیح ہوگئ اور آخری دو رکعت نفل ہو جائیں گی لیکن اگر ایسا جان بوجھ کر کیا تو کراہیت و گناہ ہوگا کہ واجب یعنی سلام کو اس کے جگہ سے مؤخر کر دیا
اور اگر بھول کر قصر نماز کو پورا پڑھ لیا(یا پڑھا دیا)اور قعدہ اول کیا تھا تو سجدہ سہو کرلے اور اگر دو رکعت پر قعدہ اول نہ کیا تھا تو اس کی نماز صحیح نہ ہوگی
[مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ص 163بحذف یسییر]
.
إن قام إلى الثالثة يسجد سجدتي السهو…إذا صلى أربعا متعمدا أعادها
اگر مسافر نے بھولے سے قصر کرنے کے بجائے تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہوگیا تو سجدہ سہو کرلے۔۔۔۔اور اگر جان بوجھ کر چار رکعت پڑھیں تو نماز واجب الاعادہ ہے
ترجمہ:
[البناية شرح الهداية ,3/9ملخصا]
.

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت سیدی احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن تحریر فرماتے ہیں :
جس پر شرعاً قصر ہے اور اس نے جَہْلاً(یا عمدا پوری) پڑھی, اس پر اس نماز کا پھیرنا(اعادہ کرنا)واجب ہے
(فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 270ملخصا)
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
facebook,whatsApp nmbr
00923468392475
03468392475