أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَيۡبِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ، آسمانوں اور زمینوں کے غیب کا عالم ہے، بیشک وہ سینوں کی باتوں کا جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ آسمانوں اور زمینوں کے غیب کا عالم ہے، بیشک وہ سینوں کی باتوں کو جاننے والا ہے وہی ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلے لوگوں کا) جانشین بنایا، سو جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے اور کافروں کا کفر ان سے ان کے رب کو زیادہ ناراض ہی کرتا ہے اور کافروں کا کفر صرف ان کے نقصان کو زیادہ کرتا ہے آپ کہیے مجھے یہ بتائو کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن شرکاء کی پرستش کرتے ہو، مجھے دکھائو انہوں نے زمین کے کسی حصہ کو بنایا ہے یا آسمانوں کے پیدا کرنے میں ان کا کچھ حصہ ہے، یا ہم نے ان کو کوئی (آسمانی) کتاب دی ہے جس کی دلیل پر وہ قائم ہیں، بلکہ ظالم ایک دوسرے سے صرف فریب کی باتیں کرتے ہیں (فاطر :38-40)

اس اشکال کا جواب کہ کافروں نے متناہی زمانہ میں کفر کیا تھا اس کی دائمی سزا کیوں دی جائے گی 

اس سے پہلے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے عذاب کا ذکر فرمایا تھا، اور قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ کفار کو دائمی عذاب ہوگا جو کبھی منقطع نہیں ہوگا، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ کفار نے جو کفر کیا وہ تو متناہی زمانہ میں کیا ہے، اب اس کو غیر متناہی زمانہ تک سزا دینا عدل و انصاف سے بعید ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے :

جزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا (الشوری : ٤٠) برائی کا بدلہ اتنی ہی سزا ہے۔

اور زمانہ متناہی میں کئے گئے کفر کی سزا غیر متناہی زمانہ تک دنیا اسی کی مثل یا اتنی ہی سزا تو نہیں ہے، اس آیت (فاطر : ٣٨) میں اس اعتراض کا جواب ہے جس کی توضیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کے تمام غیب کو جاننے والا ہے اور سنیوں کی باتوں کو جاننے والا ہے اس کو علم ہے کہ اگر ان کافروں کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا گیا تو یہ پھر دوبارہ کفر کریں گے، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے :

(الانعام ٢٨) اگر ان صکافروں) کو دنیا میں لوٹایا گیا تو یہ پھر ورہی کام کریں گے جن کاموں سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یہ ضرور جھوٹے ہیں۔

اس جواب کی دوسر تقریر یہ ہے کہ ہرچند کہ کافروں نے محدود زمانہ میں کفر کیا تھا لیکن ان کی نیت دائما کفر کرنے کی تھی اگر بالفرض لامحدود اور غیر متناہی زمانہ پاتے تو وہ غیر متناہی زمانہ تک کفر پر ہی قائم رہتے اور اللہ تعالیٰ عالم الغیب اور دلوں کے حالات کو جاننے والا ہے وہ کافروں کی نیت دوام کو جانتا تھا اس لئے ان کو دائمی عذاب دے گا۔

اس آیت سے قطع نظر اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ یہ کوئی عقلی کلیہ یا ملازمہ نہیں ہے کہ جتنے وقت میں کوئی شخص جرم کرتا ہے اس کو سزا بھی اتنے ہی وقت کی دی جائے، بعض صورتوں میں قاتل کو عمر قید کی سزا دی جاتی ہے، حالانکہ قتل کرنے میں پانچ دس منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگتا، علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ مالک علی الاطلاق ہے وہ اپنی ملک میں جس طرح چاہے تصرف کرے کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 35 فاطر آیت نمبر 38