أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِيُوَفِّيَهُمۡ اُجُوۡرَهُمۡ وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ؕ اِنَّهٗ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ۞

ترجمہ:

تاکہ اللہ ان کو ان کا پورا ثواب عطا فرمائے اور اپنے فضل سے ان کو مزید عطا کرے، بیشک وہ بہت بخشنے والا بہت قدر دان ہے

پھر فرمایا : تاکہ اللہ ان کو ان کا پورا ثواب عطا فرمائے اور ان کو اپنے فضل سے مزید عطا کرے۔

اللہ تعالیٰ کا پورا ثواب عطا فرمانا بندہ کے استحقاق کی وجہ سے نہیں ہے یہ بھی محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جو حساب اور شمار سے باہر ہیں وہ اپنی زندگی کے ہر سانس کو بھی عبادت میں صرف کرے پھر بھی اس کی عبادت کا حق ادا نہیں ہوسکتا، پھر عابدت کرنے کے لئے اس کے جسم کو صحیح سالم بنایا، صحت اور توانائی عطا کی، تلاوت قرآن کی ہے تو اس کو بولنے والا بنایا ہے، نماز پڑھی ہے تو اس کے جسم میں یہ صلاحیت رکھی ہے، اس کا پورا جسم مفلوج ہوتا تو کیسے نماز پڑھتا، ظاہر اور پوشیدہ خرچ کیا ہے تو خرچ کرنے کے لئے مال دیا ہے اس کے پاس مال نہ ہوتا تو کہاں سے خرچ کرتا، پھر اس کا جسم بھی صحیح وسالم ہوتا اس کے پاس مال بھی ہوتا لیکن اس کے دل میں عبادت کرنے کی تحریک نہ ہوتی، کوئی داعی اور باعث نہ ہوتا، کوئی جذبہ نہ ہوتا تو وہ کیسے قرآن مجید کی تلاوت کرتا، کیسے نماپزڑھتا کیسے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا تو سب کچھ تو اس نے کیا ہے، بندہ نے کیا کیا ہے، اس کا کس وجہ سے استحقاق ہے ! یہ اس کریم، جواد اور فیاض کا بےحد کرم اور فضل ہے کہ اس نے ان کاموں پر وثاب عطا کرنے کا وعدہ فرما لیا پھر کرم بالائے کرم یہ ہے کہ جتنا ثواب عطا کرنے کا وعدہ فرمایا وہ اپنی رحمت کے خزانوں سے جس کو چاہے اس سے بھی زیادہ عطا فرما دیتا ہے اور یہ زیادہ ثواب عطا فرمانا کبھی محض اس کے فضل سے ہوتا ہے اور کبھی انبیاء کرام اور صالحین کی شفاعت سے ہوتا ہے اور یہ زیادہ ثواب کبھی نیکیوں کو دگنا چوگنا کرنے کی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی اس کے نتیجہ میں اللہ کا دیدارنصیب ہوتا ہے۔ اور فرمایا وہ بہت بخشنے والا بہت قدر دان ہے :

مومنین سے جو تقصیرات اور خطائیں ہوجاتی ہیں ان کو بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے، اور ان کی عبادات کو قبول کرنے والا اور ان کو پوری پوری بلکہ اس سے بھی زیادہ جزا دینے والا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 35 فاطر آیت نمبر 30