أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡقُرۡاٰنِ الۡحَكِيۡمِ ۞

ترجمہ:

قرآن حکیم کی قسم

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی قسم کھانا 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قرآن حکیم کی قسم بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں (یٰسین :2-3)

کعب سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا : اے محمد ! بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں، قرآن حکیم کی قسم !

اگر یہ فرض کیا جائے کہ یٰسین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء میں سے ہے اور یہ صحیح ہو کہ یہ قسم ہے تو اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بہت تعظیم ہے، نیز دوسرے جملہ میں جو فرمایا ہے قرآن حکیم کی قسم اس کا عطف بھی پہلے جملہ پر ہے اور اس عطف سے یہ قسم اور مئوکد ہوگئی، (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کے نام کی اور آپ کی کتاب کی قسم کھائی اور یہ فرمایا کہ آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں اور آپ پر وحی نازل فرما کر آپ کو اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے اور آپ ایسے سیدھے راستے پر ہیں جس میں نہ کوئی کجی ہے اور نہ حق سے انحراف ہے۔

نقاش نے کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سوا اپنے انبیاء میں سے کسی نبی کے نام کی اپنی کتاب میں قسم کھائی نہ اس کی کاتب کی، اور اس میں آپ کی بہت زیادہ تعظیم اور تکریم ہے، یٰسین کا معنی یا سید جو کیا گیا ہے اس پر قرینہ یہ ہے کہ بعض احادیث میں ہے کہ آپ نے خود اپنے آپ کو سید فرمایا ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے : میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سید (سردار) ہوں گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3340-4712)

قشیری نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ کفار قریش نے کہا آپ رسول نہیں ہیں اور اللہ نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرنے کے لئے قرآن حکیم کی قسم کھا کر فرمایا محمد رسولوں میں سے ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٥ ص ٨-٧ دارالفکر بیروت، ٥١٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 2