أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَ قۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ لَئِنۡ جَآءَهُمۡ نَذِيۡرٌ لَّيَكُوۡنُنَّ اَهۡدٰى مِنۡ اِحۡدَى الۡاُمَمِۚ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ نَذِيۡرٌ مَّا زَادَهُمۡ اِلَّا نُفُوۡرًا ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے اپنی قسموں میں سے اللہ کی بہت پکی قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی عذاب سے ڈرانے والا آگیا تو وہ کسی نے کسی امت کی بہ نسبت ضرور زیادہ ہدیات قبول کرنے والے ہوں گے، پھر جب ان کے پاس کوئی عذاب سے ڈرانے والا آگیا تو اس کی آمد نے صرف ان کی نفرت ہی کو زیادہ کیا

بری سازش، فریب اور خیانت کی ممانعت 

فاطر : ٤٢ میں فرمایا : اور انہوں نے اپنی قسموں میں سے اللہ کی بہت پکی قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی عذاب سے ڈرانے والا آگیا۔ الآیۃ 

امام عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں ،

ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے کفار مکہ نے قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ اگر ہمارے پاس کوئی عذاب سے ڈرانے والا رسول آگیا تو ہم یہود، نصاریٰ اور صائبین سے زیادہ ہدایت کو قوبل کریں گے اور جب ان کے پاس ڈرانے والے رسول یعنی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے تو آپ کے آنے کے بعد وہ ہدایت سے اور دور ہوگئے، انہوں نے اللہ کے سامنے سرکشی کی اور ایمان لانے سے تکبر کیا۔

مکر السی کی دو تفسیریں ہیں ایک تفسیر یہ ہے کہ انہوں نے شرک کیا اور دسوری تفسیر یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازش کی، ان کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازش یہ تھی کہ آپ کو العیاذ باللہ قتل کردیا جائے یا قید کردیا جائے یا مکہ سے نکال دیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ان کے اوپر الٹ دیا، یہ لوگ جنگ بدر میں قتل کئے گئے اور قید کئے گئے۔

القرآن – سورۃ نمبر 35 فاطر آیت نمبر 42