أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡۤ اَذۡهَبَ عَـنَّا الۡحَزَنَ ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَـغَفُوۡرٌ شَكُوۡرُ ۞

ترجمہ:

اور وہ کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کردیا، بیشک ہمارا رب بہت بخشنے والا بہت قدر دان ہے

اور وہ کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کردیا اور جس عذاب کا ہمیں خوف تھا اس کو ہم سے دور رکھا، ہمیں دنیا کا غم اور آخرت کا خوف تھا۔

امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں پر نہ ان کی قبروں میں وحشت ہوگی اور نہ محشر میں اور گویا کہ میں لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں کے ساتھ ہوں، وہ اپنے سروں سے گرد جھاڑتے ہوئے اٹھ رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔

امام طبرانی متوفی 360 ھ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لا الا الا اللہ پڑھنے والوں کو نہ موت کے وقت گھبراہٹ ہوگی، نہق ربوں میں نہ محشر میں، گویا کہ میں ان کو صور پھونکے جاتے وقت دیکھ رہا ہوں، وہ اپنے سروں سے گرد جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن۔ (المعجم الاوسط ج ١٠ ص 216، رقم الحدیث :9474، مکتبہ المعارف ریاض، 1415 ھ)

اذھب عنا الحزن۔ (المعجم الاوسط ج ١٠ ص 215، رقم الحدیث :9447، مکتبہ المعارف ریاض، 1415 ھ)

اور وہ کہیں گے بیشک ہمارا رب بہت بخشنے والا بہت قدر دان ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کیونکہ ان کا رب ان کے بہت سارے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کی تھوڑی سے نیکیوں کو قبول فرما لے گا اور ان کی قدر کرے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 35 فاطر آیت نمبر 34