امام ابو یعلی الموصلی الحنفی (المتوفی 307ھ)

امام ذھبی سیر اعلام میں انکا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں

الإمام الحافظ ، شيخ الإسلام أبو يعلى ، أحمد بن علي بن المثنى بن يحيى بن عيسى بن هلال التميمي الموصلي ، محدث الموصل ، وصاحب المسند والمعجم .

انکے شیوخ میں امام ذھبی نے 50 سے بھی شاید زیادہ شیوخ کے بقائدہ نام لکھے ہیں

ہم چند ایک کے نام لکھتے ہیں انکے شیوخ خو کہ درج ذیل ہیں

امام یحیی بن معین الحنفی

امام احمد بن منیع

امام علی بن جعد الحنفی

امام علی بن مدینی

امام اسحاق بن ابی اسرائیل

امام ابو معمر

امام ابو بکر بن ابی شیبہ

امام عمرو بن الناقد

امام ابن ابی عاصم النبیل

امام بشر بن ولید الکندی الحنفی

امام حفص بن عبداللہ الحوانی

امام سریج بن یونس

وغیرہم

انکے تلامذہ کے چند ایک نام درج ذیل ہیں

امام نسائی

امام ابن حبان

امام ابو الفتح الازدی (متعنت ناقد الرجال)

امام طبرانی

امام ابن عدی

امام ابن السنی

اسکے بعد امام ذھبی نے کثیر محدثین سے مداح بھی نقل کی ہے

اسکے بعد امام عبدالغنی کا قول نقل کرتے ہیں :

وقال الحافظ عبد الغني الأزدي : أبو يعلى أحد الثقات الأثبات ، كان على رأي أبي حنيفة .

امام حافظ عبد الغنی الازدی فرماتے ہیں

ابو یعلی جو کہ ثبت و ثقات میں سے ایک تھے

یہ امام ابو حنیفہ کی رائے پر تھے

(یعنی امام اعظم ابو حنیفہ کےمذہب فروع پر تھے)

اسکو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی فرماتے ہیں

قلت : نعم ; لأنه أخذ الفقه عن أصحاب أبي يوسف

میں (الذھبی) کہتا ہوں : بالکل انہوں نے فقہ حاصل کی امام ابی یوسف کے اصحاب سے ۔ ۔ ۔ ۔

(سیر اعلام النبلاء)

اتنے بڑے ففاظ و مسند درجے کے محدثین بھی امام اعظم کے مذہب پر تھے

لیکن بر صغیر کے اوچھے لونڈے بخاری کا ترجمہ پڑھ کر اہللل حدیث بن جاتے ہیں انکو کسی امام کی رائے کی ضرورت نہیں رہتی

پر کیا وجہ ہے اپنے وقت کے بڑے بڑے امام و حفاظ الحدیث و ناقد الرجال امام اعظم کی رائے پر فتوی دیتے اور انکے مذہب پر چلتے

جیسا کہ

امام ابن القطان

مام ابن معین

امام زفر

امام اسد بن عمرو

امام قاسم بن معن

امام علی بن جعد صاحب مسند

امام اسحاق بن اسرائیل

امام ابومنصور المعلی محدث الکبیر

امام ذیلعی

امام قاسم بم قطلوبغہ

امام مغلطائی

وغیرہم

محدثین حنفی و غیر حنفی آج کے دور میں وہابیہ اور انکے مولاویوں کی جہالتیں دیکھ لیتے تو انکو اجھل قوم میں شمار کرتے

دعاگو: اسد الطحاوی