امام اعظم سے جاہل اجھل ہی حسد کرتے تھے !!!!!

امام خطیب بغدادی اپنی سند لا باس بہ سے امام عبداللہ بن داودؒ کا قول نقل کرتے ہیں:

اخبرنا علي بن القاسم البصري الشاهد، حدثنا علي بن إسحاق المادراني قال:

ذكر أبو داود- يعني السجستاني ولم أسمع منه- عن نصر بن علي قال: سمعت ابن داود يقول: الناس في أبي حنيفة حاسد وجاهل، وأحسنهم عندي حالا الجاهل.

علی بن قاسم (ثقہ) کہتے ہیں مجھے بیان کیا علی بن اسحاق(ثقہ) نے انہوں نے کہا ابو داود یعنی السجستانی کا ذکر ہوا میں نے ان سے سماع نہیں کیا

وہ نصر بن علی (ثقہ) سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن داود کو کہتے سنا:

ابو حنیفہؓ کے بارے لوگ حاسد اور جاہل ہیں ان (حاسدین) میں زیادہ تر لوگوں کا حال میرے نزدیک جہالت ہے

(تاریخ بغداد و سند صالح)

رجال کا تعارف

۱۔ پہلا راوی :

النجاد علي بن القاسم بن الحسن البصري *

الشيخ، الثقة، العالم، أبو الحسن علي بن القاسم بن الحسن البصري، النجاد، مسند البصريين مع أبي عمر الهاشمي

(سیر اعلام النبلاء برقم:۱۴۶)

۲۔ دوسرا راوی :

علي بن إسحاق بن البختري، أبو الحسن المادرائي البصري.

محدث مشهور ثقة.

(تاریخ الاسلام ، برقم:۱۴۳)

۳۔تیسرا راوی :

نصر بن علي بن نصر بن علي بن صهبان بن أبي، أبو عمرو الأزدي الجهضمي البصري الحافظ

قال أحمد بن حنبل: ما به بأس.

وقال أبو حاتم: هو أحب إلي من أبي حفص الصيرفي وأوثق منه وأحفظ.

وقال النسائي: ثقة

(تاریخ الاسلام برقم:۵۵۳)

۴۔ چوتھا راوی :

عبد الله بن داودالكوفي المعروف بالخريبي

امام ذھبی انکا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں :

الإمام، الحافظ، القدوة، أبوعبد الرحمن الهمداني، ثم الشعبي، الكوفي، ثم البصري، المشهور بالخريبي؛ لنزوله محلة الخريبة بالبصرة.

وكان أحد من عني بهذا الشأن، ورحل فيه.

قال ابن سعد: كان ثقة، عابدا،

وروى: معاوية بن صالح، عن يحيى بن معين: ثقة، مأمون، صدوق.

وقال عثمان بن سعيد: قلت ليحيى: فعبد الله بن داود؟

قال: ثقة، مأمون.

قلت: فأبو عاصم؟

قال: ثقة

وقال أبو زرعة، والنسائي: ثقة.

وقال أبو حاتم: كان يميل إلى الرأي، وكان صدوقا

وقال الدارقطني: ثقة زاهد.

(سیر اعلام ، برقم:۱۱۳)

اسی لیے ہم کہتے ہیں جو امام اعظم کے علم اور معرفت کو جانتے پہچانتے جرح کر بھی دی کچھ محدثین نے تو وہ حاسدین میں سے تھے

اور

جنہوں نے امام اعظم پر جرح انکو جانے بغیر کی تو وہ امام اعظم کے اصول و قوائد سے جاہل تھے

اس لیے امام ابن عبدالبر نے امام بخاری ، ساجی ، امام مالک ، احمد بن حنبل وغیرہم کی جروحات نقل کی اور پھر دوسری جگہ تصریح کی ہے کہ امام اعظم پر جرح کرنے والے وہ ہیں جو امام اعظم کے اصول ، مذہب اور اسلوب سے جاہل ہیں

اور کچھ اہل حدیث لوگوں کے بارے کہا یہ تو امام اعظم اور انکے اصحاب کے لیے دشمن کی حیثیت رکھتے تھے

اور اسی طرح امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب(ناقدین) امام اعظم اور انکے اصحاب پر جرح کرنے میں بے انصافی کرتے ہیں

ّیعنی حق جان کر بھی باطل کلام کرتے ہیں امام اعظم کی عزت کو مجروح کرنے کے لیے باطل جروحات کرتے جس میں اللہ نے انکو کامیاب نہ ہونے دیا

آج بھی امت سلف و صالحین ، محدثین و شارحین و مفسرین نے

امام بخاری، مسلم ، ابن عدی ، ابن حبان ، و دارقطنی کی کلمات کو امام اعظم کی شخصیت کے سامنے ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے اپنی کتب کو ان سے پاک رکھا

جیسا کہ امام نووی

امام مزی

امام ذھبی

امام ابن حجر

امام سمعانی

امام شعرانی

امام ابن کثیر

امام سیوطی

امام محمد بن یوسف

امام ابن حجر ہیتمی

سے لیکر آج تک

تحقیق: دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی