أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ ۞

ترجمہ:

(یہ قرآن) بہت غالب بڑے مہربان کا نازل کیا ہوا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ : (یہ قرآن) بہت غالب بڑے مہربان کا نازل کیا ہوا ہے تاکہ آپ اس قوم کو عذاب سے ڈرائیں جس کے آبائو اجداد کو نہیں ڈرایا گیا تھا سو وہ غافل ہیں (یٰسین : ٦-٥)

العزیز اور الرحیم کے ذکر کی حکمت 

یٰسین : ٥ میں العزیز (غالب) اور الرحیم کا ذکر فرمایا ہے، یعنی جن لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجا ہے اگر انہوں نے اس رسول کی تعظیم اور تکریم نہیں کی اور اس کے پیغام کو قبول نہیں کیا تو وہ ان سے انتقام لینے پر قادر ہے کیونکہ وہ بہت غالب ہے، اور جن لوگوں نے اس کے رسول کی تعظیم اور تکریم کی اور اس کے پیغام کو قبول کیا تو وہ ان کی خطائوں کو بخش دے گا اور ان کو بہت اجر وثواب عطا فرمائے گا کیونکہ وہ بہت رحیم ہے۔

اس آیت کے الفاظ کے زیادہ قریب معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور اس میں عقائد اور احکام کو بیان فرمایا سو جو شخص ان عقائد پر ایمان نہیں لایا اور اس نے ان احکام پر عمل نہیں کیا وہ ان سے انتقام لینے پر قادر ہے کیونکہ وہ بہت غالب ہے اور جو شخص ان عقائد پر ایمان لے آیا اور اس نے ان احکام پر احکام پر عمل کیا تو وہ اس کو بخش دے گا اور اس کو اجر و بہت غالب ہے اور جو شخص ان عقائد پر ایمان لے آیا اور اس نے ان احکام پر عمل کیا تو وہ اس کو بخش دے گا اور اس کو اجر وثواب عطا فرمائے گا کیونکہ وہ بہت مہربان ہے 

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 5