أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

تاکہ آپ اس قوم کو عذاب سے ڈرائیں جس کے آبائو اجداد کو نہیں ڈرایا گیا تھا سو وہ غافل ہیں

اس کی توجیہ کہ اہل مکہ کے پاس آپ کے سوا کوئی عذاب سے ڈرانے والا نہیں آیا 

یٰسین : ٦ میں فرمایا تاکہ آپ اس قوم کو عذاب سے ڈرائیں جس کے آبائو اجداد کو نہیں ڈرایا گیا تھا سو وہ غافل ہیں۔

اس سے مراد اہل مکہ اور عرب ہیں جن کی طرف ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نبوت کا سلسلہ خاندان ابراہیمی میں رہا اور ان کی بعثت بنی اسرائیل ہی کی طرف ہوتی رہی، بنو اسماعیل یعنی عربوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے نبی تھے اور سلسلہ نبوت کے خاتمے تھے۔ البتہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس سے مستثنیٰ ہیں۔

یٰسین : ٦ میں جو فرمایا ہے جس کے آبائو اجداد کو نہیں ڈرایا گیا تھا اس سے مراد اہل مکہ کے قریبی آبائو اجداد ہیں ورنہ ان کے سلسلہ نسب میں جو زیادہ اوپر کے اور بعید آباء ہیں ان کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تھا اور انہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت پہنچائی تھی اور ان میں سے بعض لوگ وہ تھے جنہوں نے مکمل طریقہ سے حضرت ابراہیم علیہ اسللام کی شریعت کی پیروی کی تھی، پھر اس پر کافی زمانہ گزر گیا اور بےعملی اور جاہلیت ان میں نفوذ کرتی رہی حتیٰ کہ جس زمانہ میں مارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوئی اس زمانہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کا صرف نام رہ گیا تھا۔

علامہ ابوالحیان اندلسی متوفی 754 ھ نے لکھا ہے کہ ہر امت کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی گئی ہے یا تو ان کی طرف انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث کیا گیا ہے یا ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک کسی نہ کسی عالم کے ذریعہ ان کو تبلیغ کی جاتی رہی اور جن آیات میں یہ ذکر کیا گیا کہ اہل مکہ کے آباء کے پاس کوئی عذاب سے ڈرانے والا نہیں آیا اس سے مراد ان کے سلسلہ نسب میں قریب کے آباء ہیں اور مطلقات عذاب سے ڈرانا کسی زمانہ میں بھی منقطع نہیں ہو اور نہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری نہیں ہوگی، اور جب ڈرانے والوں کی تبلیغ کے آثار مٹ گئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا گیا اور وہ جو متکلمین نے زمانہ فترت کا ذکر کیا ہے جس زمانہ میں کوئی نبی نہیں ہوتا اور اس زمانہ کے لوگ مکلف نہیں ہوتے وہ محض ایک فرضی اصطلاح ہے۔

اس تفسیر کی بناء پر اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اہل مکہ کے پاس عذاب سے ڈرانے الا کوئی رسول نہیں آیا اور اس آیت کا یہ معنی نہیں ہغے کہ ان کے پاس مطلقاً کوئی عذاب سے ڈرانے والا نہیں آیا، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان کو کسی عالم نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہو جو نبی نہ ہو، جیسے زید بن عمرو بن نفیل اور قس بن ساعد غیرہ، اس تقریر کے اعتبار سے یٰسین :46 کا حسب ذیل آیت سے کوئی تعارض نہیں رہے گا۔ وان من امۃ الاخلا فیھا نذیر (افطر : ٤٢) اور ہر امت (گروہ یا جماعت) میں ایک عذاب سے ڈرانے والا گزر چکا ہے۔

اس سے مراد ہے کہ گزرے ہوئے زمانوں میں سے ہر زمانہ میں جو بھی لوگوں کا کوئی بڑا گروہ یا جماعت رہی ہے اس میں کوئی نہ کوئی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا گزرا ہے، خواہ وہ نبی ہو یا عالم ہو، اس آیت میں بشیر کا ذکر نہیں ہے صرف نذیر کا ذکر ہے کیونکہ ڈرانا تو عقلی دلائل سے بھی ہوسکتا ہے، لیکن مخصوص اجر وثواب کی بشارت بغیر وحی کے نہیں ہوسکتی، اس لئے بشارت دینا صرف نبی کا کام ہے اور نذیر چونکہ نبی کے علاوہ عالم بھی ہوسکتا ہے اس لئے اس آیت میں صرف نذیر کا ذکر فرمایا ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید میں فترۃ (انقطاع نبوت کے زمانہ) کا بھی ذکر فرمایا ہے :

(المائدہ :19) اے اہل کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول فترت (انقطاع نبوت) کے زمانہ میں آگیا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں فترت سے مراد وہ زمانہ ہے جس میں کوئی نبی نہ آیا ہو یہ مراد نہیں ہے کہ اس زمانہ میں اللہ کے عذاب سے ڈرانے کے لئے کوئی عالم بھی نہ آیا ہو۔

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمام مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث ہونا 

اس آیت پر ایک اور اشکال یہ ہوتا ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے کہ آپ اہل مکہ کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں جن کے آبائو اجداد کو نہیں ڈرایا گیا سو اس آیت کا یہ تقاضا ہے کہ یہود کو ڈرانے کا آپ کو حکم نہ دیا گیا ہو، کیونکہ ان کے آبائو اجداد کو تو ڈرایا گیا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم میں رسول کو بھیجتا ہے تو جب تک اس قوم میں ایسے علماء رہیں جو اس نبی کے دین کو بیان کرتے رہیں تو عام طور پر اللہ تعالیٰ اس قوم میں کسی اور رسول کو نہیں بھیجتا اور جب ان میں ایسے علماء باقی نہ رہیں جو اس نبی کے دین کو بیان کرتے رہیں اور سب لوگ گمراہ ہوجائیں اور نبی کے جانے کے بعد کافی زمانہ گزر جائے اور کفر پھیل جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کسی اور رسول کو بھیج دیتا ہے جو اس سے پہلے کے رسول کی شریعت کو ثابت کرتا ہے یا کسی نئی شریعت کو مقرر کرتا ہے، اب اس آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :” تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے آبائو اجداد کو نہیں ڈرایا گیا “ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو قوم پہلے رسول کے طریقہ کو ترک کر کے گم راہ ہوچکی ہو اور اس کے بعد اس کو عذاب سے نہ ڈرایا گیا ہو، تو آپ ایسی قوم کو ڈرانے کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں اور یہود اور نصاریٰ ایسی قوم میں داخل ہیں کیونکہ آپ کے زمانہ میں جو یہود اور نصاریٰ کے قریبی باپ دادا تھے ان کے گم راہ ہونے کے بعد ان کو عذاب سے نہیں ڈرایا گیا تھا اور زمانہ فترت میں ان کو عذاب سے ڈرانے کے لئے قریب کے زمانہ میں کوئی نبی نہیں آیا تھا جس طرح مکہ کے مشرکین کے قریبی باپ دادا کو ڈرانے کے لئے کوئی نبی نہیں آیا تھا، سو جس طرح آپ مکہ کے مشرکین کو عذاب سے ڈرانے کے لئے بھیجے گئے تھے اسی طرح آپ یہود و نصاریٰ کو ڈرانے کے لئے بھی بھیجے گئے تھے اور یہ اس کی دلیل ہے کہ آپ تمام مخلوق کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ اس سے پہلے یہ آیت گزر چکی ہے۔

(السجدہ : ٣) کیا یہ منکرین کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے اس کتاب کو گھڑلیا ہے، بلکہ وہ آپ کے رب کی طر سے برحق ہے، تاکہ آپ اس قوم کو (اللہ کے عذاب سے) ڈرائیں جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی (عذاب سے) ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ ہدایت قبول کرلیں۔ جن نکات پر ہم نے یہاں گفتگو کی ہے ان کو زیادہ تفصیل کے ساتھ ہم مذکور الصدر آیت کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں۔

غفلت کا معنی 

اس کے بعد فرمایا : سو وہ غافل ہیں۔

جو شخص علم کے ابوجود کسی چیز سے اعراض کرے اس کو غافل کہا جاتا ہے، اس میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے پاس کسی رسول کو اسی وقت بھیجتا یہ جب وہ قوم اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل ہوجائے۔ کسی چیز کی طرف ذہن متوجہ نہ رہے تو اس کو غفلت کہتے ہیں اور کسی چیز کی صورت انسان کے ذہن میں ہو اور پھر وہ صورت اس کے ذہن سے نکل جائے تو اس کو نسیان کہتے ہیں اس کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ انسان تین چیزوں میں غفلت کرتا ہے وہ اللہ کے ذکر میں غفلت کرتا ہے، اور وہ طلوع شمس تک صبح کی نماز کو مئوخر کرتا ہے اور وہ قرض ادا کرنے میں غفلت کرتا ہے حتیٰ کہ وہ قرض اس پر سوار ہوجاتا ہے۔ (شعب الایمان ج ١ ص 571، مسند الفردوس للدیلمی رقم الحدیث :4223، الجامع الصغیر رقم الحدیث :5802)

القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 6