نزول سکینہ

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو!انسان کی زندگی کا مقصد یاد الٰہی ہے ساری مخلوق اللہ عزوجل کی یاد میں ہے انسان اشرف المخلوقات ہو کر اس کی یاد سے غافل رہے تعجب کی بات ہے۔ اللہ عزوجل نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا۔

وَاذْکُرُوْااللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا اللہ عزوجل کو بہت بہت یاد کرو

ذکرکی فضیلت میں میرے پیارے آقاﷺ کی حدیث پاک سماعت فرمائیں۔

حضرت ابو ہریرہ اورحضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ تاجدار کائنات ﷺ نے فرمایا۔ ایسی کوئی جماعت نہیں جو ذکرالٰہی کے لئے بیٹھے مگر انہیں فرشتے گھیر لیتے ہیںرحمت ڈھانپ لیتی ہے ان پر سکینہ اترتا ہے اور اپنے پاس والے فرشتوں میں اللہ عزوجل ان کا ذکر فرماتا ہے۔ (مرأت ج ۲ ص۳۰۴)

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو!ذکر کے چند معانی ہیں (۱) یاد کرنا (۲)یاد رکھنا (۳) چرچاکرنا وغیرہ۔

اللہ عزوجل کو ہر جائز کام کی ابتدا میں یاد کرنا چاہئے اور ہم کچھ بھی کریں وہ دیکھ رہاہے اس تصور سے اسے یاد رکھنا چاہئے۔ اور اس کی تسبیح وتحمید وغیرہ کرکے اس کا چرچا کرنا چاہئے۔ رحمت عالم ا کے اس ارشاد پرغور فرمایئے اور ناز کیجئے اس اعجاز پر جس سے اللہ کریم نے ہمیں نوازا۔ بشرطیکہ ہم اسے ہر حال میں یاد رکھتے ہوں زبان سے، دل سے، اور اپنے اعمال سے، ذاکرین کو یہ شرف حاصل ہوتا ہے کہ فرشتے ان کو گھیرے میں لے لیتے ہیں تاکہ جن وانس کے ہر خطرے سے وہ محفوظ رہیں۔ رحمت الٰہی ان پر سایہ فگن رہتی ہے جس سے وہ دنیا ومافیہا کی ساری الجھنوں سے آزاد ہوجاتے ہیں ان پر سکینہ کا نزول ہوتا ہے جن سے ان کے دلوں کو چین نصیب ہوجاتاہے۔ اللہ عزوجل سرکارﷺ کے صدقہ و طفیل ہم سب کو ذکرالٰہی کی توفیق نصیب فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم