“امام احمد رضاؒ اور ردِ بدعات و منکرات”

شیخ الاسلام والمسلمین مجدد دین وملت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے فاضل،جید عالم دین،مفتی،مترجم،شاعر ، عاشق رسولﷺ تھے۔ ﷲ تعالیٰ نے آپ کی ذات میں بیک وقت بہت سی خصوصیات کو جمع فرما دیا تھا۔

بعض لوگوں نے مسلکی اختلافات کی آڑ میں ان کوایسے ثابت کرنے کی کوشش کی جیسے ساری بدعات ان کی وجہ سے ہی ہیں، حالانکہ آپ نے ہمیشہ بدعات کا رد فرمایا،آپ کے فتاویٰ جات کی چند جھلکیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) حضورﷺ کے مزار شریف کی سنہری جالیوں کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ خلافِ ادب ہے بلکہ جالی شریف سےچار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاؤ۔ یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کو اپنے حضور بلایا‘ اپنے مواجہ اقدس میں جگہ بخشی۔

(2) روضہ انور کا طواف نہ کرو‘ نہ سجدہ کرو‘ نہ اتنا جھکنا کہ رکوع کے برابر ہو۔ حضور کریمﷺ کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔

(3) مزارات پر چادر چڑھانے کے متعلق دریافت کیا تو جواب دیا جب چادر موجود ہو اور ہنوز(ابھی) پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام (رقم)اس میں صرف کرنی وہ رقم ﷲ تعالیٰ کے ولی کی روح مبارک کو ایصال ثواب کے لئے کسی محتاج کو دیں۔

(4) مزارات پرآتش بازی اسراف ہے اور اسراف(فضول خرچی) حرام ہے‘ کھانے کا ایسا لٹانا (پھینکنا)بے ادبی ہے اور بے ادبی محرومی ہے‘ تصنیع (دکھاوا)مال ہے اور تصنیع حرام۔

(5) مزامیر(آلات موسیقی) یعنی آلات لہو و لعب بر وجہ لہو و لعب بلاشبہ حرام ہیں جن کی حرمت اولیاء و علماء دونوں فریق مقتداء کے کلمات عالیہ میں مصرح(پرمٹ کی حیثیت رکھتے ہیں)‘ ان کے سننے سنانے کے گناہ ہونے میں شک نہیں کہ بعد اصرار کبیرہ ہے اور حضرات علیہ سادات بہشت کبار سلسلہ عالیہ چشت کی طرف اس کی نسبت محض باطل و افتراء ہے۔

(6) مجلس سماع(قوالی) میں اگر مزامیر(آلات موسیقی) نہ ہوں توسماع جائز ہے(1)اور وجد صادق (یعنی سچا)ہے اور(2) حال غالب اور(3 )عقل مستور (یعنی زائل) اور(5) اس عالم سے دورہے تو اس پر تو قلم(یعنی کوئی حکم) ہی جاری نہیں ہوتا۔اور اگر(6) بہ تکلف وجد کرتا ہے تو حرام ہے اور (7)بغیر اس کے ریا و اظہار کے لئے ہے تو جہنم کا مستحق ہے اور اگر(8) صادقین(سچے لوگوں ) کے ساتھ تشبیہ کی نیت خالصہ مقصود ہے کہ بنتے بنتے یہ بھی حقیقت بن جاتی ہے تو حسن و محمود ہے حضور کریمﷺ فرماتے ہیں کہ جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔

(7) غیر اللہ کو سجدے کے بارے فرماتے ہیں ، یقین جان کہ سجدہ اللہ رب العزت جل جلالہ کے سوا کسی کے لئے نہیں غیر ﷲ کو سجدہ عبادت تو یقیناً اجماعاً شرک مہین و کفر مبین(کھلا کفر) اور سجدہ تحیت (تعظیمی)حرام و گناہ کبیرہ بالیقین ہے۔

(8) میت کے گھر انتقال کے دن یا بعد عورتوں اور مردوں کا جمع ہوکر کھانا پینا اور میت کے گھر والوں کو زیر بارکرنا(بوجھ ڈالنا) سخت منع ہے۔۔ جمعرات وغیرہ میں مساکین و فقیر کو کھلائے ، غنی نہ کھائے۔

فتاویٰ رضویہ،احکام شریعت،ملفوظات اعلیٰ حضرت،الزبدۃ الزکیہ لتحریم سجود التحیہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر:۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

TehqiqateRaza🌹