ایک بھائی کو انبکس میں مختلف سوالات کے جوابات دئے گئے۔۔۔ جس میں سے ایک جواب نفعِ عام کے لئے شئیر ہے۔

✍ابو محمد عارفین القادری

تیسرا سوال: بس قرآن پڑھو، حدیث میں بھی جو لکھا ہے وہ قرآن میں ضرور ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ اور قرآن کا ترجمہ پڑھو اور جو باتیں کلئیر کلئیر ہیں ان کو سمجھو۔۔۔ ہمارے لوگ قرآن کو اتنا عجیب کیوں لیتے ہیں۔

جواب: قرآن پڑھنے کے دو مطلب ہیں۔۔۔ (1) اسکی قرات کرو یا تلاوت کرو (2) قرآن میں جو بتایا گیا ہے اس کا علم حاصل کرو

دونوں کے لئے استاد کی ضرورت ہے۔۔۔۔

(1) جب تک آپ کو استاد مخارج نہیں بتائے گا حروفِ تہجی نہیں پڑھائے گا آپ قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتے اگر خود سے کوشش کریں گے تو غلطیاں در غلطیاں کریں گے ق اور ک میں فرق نہیں ہوگا، ط اور ت، الف اور ع، د اور ض، ذ، ز اور ظ میں فرق نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ لہذا تلاوت و قرات کے لئے استاد کی ضرورت ہے۔

(2) قرآن میں ہر شے کا بیان موجود ہے۔ سورۃ النحل آیہ 89: وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ترجمہ: اے حبیب ہم نے تم پر قرآن اتارا جس میں ہر شے کا بیان موجود ہے۔

قرآن کے احکام سمجھنے کے لئے جید عالمِ دین کی ضرورت ہوتی ہے، قرآن چڑیا مینے کی کہانی نہیں ہے کہ ہر بچہ پڑھ کر سبق حاصل کرلے، اللہ کے فرمان کا صحیح مطلب سمجھنے کے لئے بہت سی چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ مثلا

الحمد للہ رب العالمین، الرحمن الرحیم، ملک یوم الدین۔

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہے، جو رحمن ہے رحیم ہے، یوم الدین کا مالک ہے۔

1- تمام تعریف میں ’تمام‘ کا لفظ کیوں آیا، یہ ترجمہ کیوں نہیں کیا کہ ’کچھ تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہے‘ ؟

2- اگر تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں تو ہم ایک دوسرے کی تعریفیں کرسکتے ہیں ؟

3- حمد کا مطلب تعریف ہے اور آیۃ میں کہا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے تو ’محمد‘ نام جائز ہے یا ناجائز کیونکہ محمد کے معنی ہے جس کی کثرت سے تعریف کی جائے ؟

4- لفظ ’اللہ‘ کے کیا معنی ہے ؟

5- ’رب‘ کا معنی ہے پالنے والا۔۔۔۔۔ کیا اللہ کے سوا کسی کو ’رب‘ کہ سکتے ہیں ؟ قرآن میں بادشاہ کے لئے بھی ’رب‘ کا لفظ آیا ہے، کیا بادشاہ کو رب کہہ سکتے ہیں ؟

6- ’عالمین‘ کا کیا معنی ہے ؟ عالمین میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں کون کون سی نہیں ؟

7- ’الرحمن‘ ’الرحیم‘ کے کیا معنی ہے ؟ کیا کسی بندے کو رحمن رحیم کہہ سکتے ہیں ؟ قرآن میں حضور ﷺ کے لئے بھی رحیم کا لفظ آیا ہے ؟ کیا حضور ﷺ کو رحمن کہہ سکتے ہیں ؟

8- ’یوم الدین‘ کا کیا مطلب ہے ؟ دین کے بہت سے معنی ہیں مذہب، قانون، جزا وغیرہ۔۔۔۔ یہاں دین سے کیا مراد ہے ؟ جزا کے دن کا مالک ؟ مذہب کے دن کا مالک ؟ قانون کے دن کا مالک ؟

9- اگر روزِ جزا کا مالک مراد لیا جائے تو کس وجہ سے روزِ جزا کا مالک مراد لیا گیا ؟ اور صرف روزِ جزا کا مالک کیوں کہا گیا حالانکہ اللہ تو ہر شے کا مالک ہے۔

10- اگر اللہ ہر شے کا مالک ہے تو کیا ہم اپنی اپنی چیزوں گھر، گاڑی، موبائل وغیرہ کے مالک نہیں ؟ اللہ بھی مالک ہم بھی مالک کیا یہ شرک نہیں ہے ؟

یہ وہ چند سوالات ہیں جو ابتدائی تین آیات سے ذہن میں آئے۔۔۔ ظاہر ہے ان چیزوں کو سمجھنے کے لئے صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین کے اقوال، مفسرین کرام کی تفاسیر اور علماء و صوفیاء کے فرامین کا مطالعہ کرنا ہوگا محض اپنی سمجھ کے مطابق قرآن سے احکام تو نہیں نکال سکتے۔۔۔۔ مزید آسانی سے سمجھنے کے لئے تین سوال پر غور کرلیں۔

1- اگر کوئی کہے کہ اللہ نے کہا ہے الحمد للہ رب العالمین یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہاں کا رب ہے۔۔۔ لہذا کسی انسان کی تعریف کرنا جائز نہیں۔ آپ اسے کیا جواب دیں گے ؟

2- الرحمن الرحیم اللہ تعالی کی صفت ہے لہذا کسی انسان کو الرحمن اور الرحیم کہنا حرام ہے شرک ہوجائے گا، آپ اسے کیا کہیں گے اس نے قرآن پڑھ کر سمجھا ہے ؟

3- مالک یوم الدین یعنی روزِ جزا کا مالک ہے، اگر کوئی کہے میں نے قرآن پڑھا ہے اللہ صرف قیامت کے دن کا مالک ہے باقی کسی چیز کا مالک نہیں، اس کا یہ سمجھنا درست ہے یا نہیں ؟

لہذا یہ کہنا کہ بس قرآن پڑھو اور جو باتیں ترجمہ میں کلئیر کلئیر ہیں اسے سمجھو۔۔۔۔۔ غلط نظریہ ہے یہ بات بعض مقامات پر تو چل جائے گی مگر ہر جگہ اس نظریہ کا استعمال گمراہی کی طرف لے جائے گا۔

نیز یہ کہنا جو حدیث میں ہے وہ قرآن میں ضرور ہوگا اسلئے فقط قرآن پڑھو۔۔۔۔ یہ بھی غلط سوچ ہے، قرآن مجید نے عام اصول بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اطاعت و اتباع کرو۔۔۔ قرآن میں نماز، روزہ، زکوۃ، حج، جہاد وغیرہ کی فرضیت کا حکم تو ہے مگر ظاہرا اسکے تفصیلی احکام موجود نہیں ہیں اسکے لئے رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی جانب متوجہ ہونا ضروری ہیں حدیث ہمیں بتائے گی کہ نماز کب پڑھنی ہے، کتنی رکعتیں پڑھنی ہیں، کیا پڑھنا، کس طرح پڑھنا ہے، روزہ کب ٹوٹے گا کب نہیں، زکوۃ، حج کس طرح ادا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اسلئے قرآن کے ساتھ حدیث اور حدیث کے ساتھ قرآن دونوں پڑھی جائیں گی پھر دین کا صحیح مفہوم معلوم ہوگا ۔۔۔۔۔۔