أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلًا اَصۡحٰبَ الۡقَرۡيَةِ ‌ۘ اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَۚ ۞

ترجمہ:

اور آپ ان کے لئے بستی والوں کی مثال بیان کیجئے جب ان کے پاس کئی رسول آئے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ ان کے لئے بستی والوں کی مثال بیان کیجئے جب ان کے پاس کئی رسول آئے جب ہم نے ان کے پاس دو رسولوں کو بھیجا تو انہوں نے ان کو جھٹلایا، پھر ہم نے تیسرے رسول سے ان کی تائید کی، سو تینوں نے کہا ہم تمہاری طرف پیغام دے کر بھیجے گئے ہیں (یس : 13-14)

انطاکیہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو بھیجنے کے ثبوت میں نقول 

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں انطاکیہ (مغربی شام کا ایک ساحلی شہر) میں ابطحیس بن ابطحیس نام کا ایک بادشاہ تھا جو مشرک اور بت پرست تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف پیغام دے کر تین رسول بھیجے۔ صادق، مصدوق اور سلوم، پہلے ان کی طرف ان میں سے دو رسول بھیجے تھے، جب انہوں نے ان کو جھٹلایا، پھر اللہ تعالیٰ نے تیسرے رسول سے ان کو قوت دی، جب ان رسولوں نے ان کو اپنے دین کی دعوت دی اور اس بادشاہ کی بت پرستی کی مذمت کی تو اس نے کہا کہ ہم تو تم کو بدفال سمجھتے تھے ور اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور ہماری طرف سے تم کو دردناک عذاب پہنچے گا۔

ان رسولوں نے ان بستی والوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ نے ہمیں تمہاری طرف پیغام دے کر بھیجا ہے کہ تم اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کی عبادت کرو، اور جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو ان سے بیزاری کا اظہار کرو۔

(جامع البیان جز 22 ص 187، دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

امام عبدالرحمن بن محمد ابن ابی حاتم متوفی 327 ھ لکھتے ہیں :

شعیب جبائی نے کہا ہے کہ پہلے جن دو رسولوں کو بھیجا تھا ان کا نام شمعون اور یوحنا تھا اور بعد میں جس تیسرے رسول کو بھیجا اس کا نام بولص تھا۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتمی ج 10 ص 3192، رقم الحدیث : 18050، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ 1417 ھ)

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم اثعلبی المتوفی 427 ھ لکھتے ہیں :

یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رسول تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں میں سے دو رسول انطاکیہ کی طرف بھیجے، جب وہ اس شہر کے قریب پہنچے تو وہاں انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو بکریاں چرا رہا تھا، اس نے پوچھا تم دونوں کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہمیں حضرت عیسیٰ نے بھیجا ہے انہوں نے تم کو یہ دعوت دی ہے کہ تم بتوں کی عبادت ترک کرکے رحمن کی عبادت کرو، اس شخص نے پوچھا کیا تمہارے پاس کوئی نشانی (معجزہ) ہے ؟ ان دونوں نے کہا ہاں ! ہم اللہ کے حکم سے بیماروں کو تدرست کردیتے ہیں، مادرزاد اندھوں کو بینا کرتے ہیں، برص زدہ لوگوں کو ٹھیک کردیتے ہیں، اس بوڑھے شخص نے جس کا نام حبیب تھا کہا : میرا ایک بیٹا بیمار ہے وہ کئی سالوں سے بستر پر پڑا ہوا ہے، انہوں نے کہا ہمیں اس کے پاس لے چلو ہم اس کا حال دیکھتے ہیں، وہ ان کو اپنے گھر لے گیا، انہوں نے اس کے بیٹے کے جسم پر ہاتھ پھیرا، وہ اللہ کے حکم سے اسی وقت تندرست ہو کر کھا ہوگیا، یہ خبر اس شہر میں پھیل گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں سے بہت مریضوں کو شفا دی اس شہر کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام سلاحین تھا اور وہب بن منبہ نے کہا اس کا نام ابطحیس تھا اور یہ روم (شام) کے بادشاہوں میں سے تھا اور بتوں کی پرستش کرتا تھا، یہ خبر اس تک بھی پہنچ گئی اس نے ان سے پوچھا تم دونوں کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ کے رسول ہیں ؟ اس نے پوچھا تمہارے پاس کوئی نشانی ہے ؟ انہوں نے کہا ہم مادر زاد اندھوں، برص میں مبتلا لوگوں اور بیماروں کو اللہ کے حکم سے تندرست کرتے ہیں، اس نے پوچھا تم کس لئے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم اس لئے آئے ہیں کہ تم ان کی عبادت ترک کردو جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور اس کی عبادت کرو جو سننے والا ہے اور دیکھے والا ہے، بادشاہ نے پوچھا کیا ہمارے خدائوں کے علاوہ اور بھی کوئی خدا ہے ؟ ان دونوں نے کہا ہاں ! خدا صرف وہی ہے جس نے تم کو اور تمہارے خدائوں کو پیدا کیا ہے ! اس نے کہا تم دونوں یہاں سے اٹھو، حتیٰ کہ میں تمہارے متعلق غور کرکے فیصلہ کروں، پھر شہر کے لوگوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کو پکڑ کر بازار میں مارا پیٹا۔

وہب بن منبہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ نے ان دو رسولوں کو انطاکیہ بھیجا اور کچھ مدت کے بعد ان دونوں کی بادشاہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کی، اس پر وہ بادشاہ غضب ناک ہوگیا اور اس نے حکم دیا کہ ان کو گرفتار کرکے قید کیا جائے اور اس نے ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے، پھر جب ان دونوں رسولوں کی تکذیب کی گئی اور ان کو مارا پیٹا گیا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں کے سردار حضرت شعمون کو ان کے پیچھے ان کی مدد کے لئے بھیجا۔

پھر حضرت شمعون بھیس بدل کر اس شہر میں داخل ہوئے اور بادشاہ کے کارنوں کے ساتھ مل جل کر رہنے لگے، حتیٰ کہ وہ ان کے ساتھ مانوس ہوگئے، پھر ان کے آنے کی خبر بادشاہ تک بھی پہنچ گئی، وہ بھی ان کے طور طریقہ سے مانوس ہوگیا اور ان کی عزت کرنے لگا، ایک دن انہوں نے بادشاہ سے کہا : اے بادشاہ ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے دو آدمیوں کو قید کر رکھا ہے اور جب انہوں نے آپ کو اپنے دین کی دعوتدی تو آپ نے ان کو زدوکوب کیا، کیا آپ نے ان سے گفتگو کی تھی اور ان کا پیغام سنا تھا، بادشاہ نے کہا میرے اور ان کے درمیان غضب حائل ہوگیا تھا، حضرت شمعون نے کہا اگر بادشاہ کی رائے موافق ہو تو ان کو بلایاجائے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ وہ کیا پیغام دے رہے ہیں ! پھر بادشاہ نے ان دونوں کو بلایا، حضرت شمعون نے ان سے پوچھا تم کو کس نے یہاں بھیجا ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ نے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، حضرت شمعون نے کہا اختصار کے ساتھ اللہ کی صفات بیان کرو، انہوں نے کہا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو ارادہ کرتا ہے وہ حکم دیتا ہے، حضرت شمعون نے کہا تمہاری کیا نشانی ہے ؟ انہوں نے کہا آپ جو خواہش کریں، پھر بادشاہ نے حکم دیا تو ایک ایسے لڑکے کو لایا گیا جس کی آنکھوں کی جگہ پیشانی کی طرح بالکل سپاٹ تھی، پھر وہ دونوں اپنے رب سے دعا کرتے رہے، حتیٰ کہ اس کے چہرے پر آنکھوں کی جگہ نکل آئی اور دو گڑھے بن گئے، پھر انہوں نے مٹی سے آنکھوں کے دو ڈھیلے بنائے اور ان کو ان گڑھوں میں رکھ دیا اور وہ لڑکا ان ان آنکھوں سے دیکھنے لگا، بادشاہ کو اس سے بہت تعجب ہوا، حضرت شمعون نے بادشاہ سے کہا یہ بتایئے کہ اگر اب اپنے معبود سے اس طرح دعا کریں اور وہ بھی اس کی مثل کوئی کام کر دے تو اس سے آپ کو بھی عزت حاصل ہوگی اور آپ کے معبور کو بھی ! بادشاہ نے حضرت شمعون سے کہا میرے نزدیک یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ ہمارا وہ معبود جس کی ہم عبادت کرتے ہیں، دیکھتا ہے نہ سنتا ہے، وہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے، پھر بادشاہ نے ان رسولوں سے کہا تم جس معبود کی عبادت کرتے ہو اگر وہ کسی مردہ کو زندہ کر دے تو ہم تم پر بھی ایمان لے آئیں گے اور تمہارے معبود پر بھی، ان رسولوں نے کہا ہمارا معبود ہر چیز پر قادر ہے، بادشاہ نے کہا سات دن پہلے ایک دہقان کا بیٹا مرگیا تھا میں نے اس کی تدفین موخر کردی تھی، کیونکہ اس کا باپ کہیں گیا ہوا تھا، باشاہ نے اس مردہ لڑکے کو منگوایا اس کا جسم متغیر ہوگیا تھا اور اس سے بدبو اٹھ رہی تھی، وہ دونوں سب کے سامے اپنے رب سے دعا کرتے رہے اور حضرت شمعون دل ہی دل میں آمین کہتے رہے، وہ مردہ لڑکازندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں سات دن سے مرا ہوا تھا، میں چونکہ شرک پر مرا تھا اس لئے مجھے دوزخ کی وادی میں ڈال دیا گیا اور میں تم کو شرک سے ڈراتا ہوں سو تم سب اللہ پر ایمان لے آئو، پھر اس لڑکے نے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ آسمانوں کے دروازے کھول دیئے گئے اور ایک خوب صورت شخص ان تینوں کی سفارش کررہا ہے، اس نے حضرت شمعون اور ان دونوں رسولوں کی طرف اشارہ کیا، بادشاہ کو بہت تعجب ہوا اور جب حضرت شمعون نے جان لیا کہ اس لڑکے کی باتیں بادشاہ کے دل میں اثر کرچکی ہیں تو انہوں نے اس کو اصل بات بتائی اور بادشاہ کو ایمان کی دعوت دی تو بادشاہ اور چند لوگ ایمان لے آئے اور باقی لوگ کفر پر برقرار رہے۔

امام ابن اسحاق نے کعب احبار اور وہب بن منبہ سے روایت کیا ہے کہ بلکہ بادشاہ اپنے کفر پر قائم رہا اور بادشاہ اور اس کی قوم نے اس پر اتفاق کیا کہ ان تینوں کو قتل کردیا جائے، جس وقت حبیب کو یہ خبر پہنچی تو وہ شہر کے پرلے کنارے پر کھڑا ہوا تھا، وہ دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا اور ان کو رسولوں کی اطاعت کرنے کی دعوت دی۔

ان دو رسولوں کے ناموں میں اختلاف ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا ان کا نام تاروص اور ماروص تھا اور وہب نے کہا ان کا نام یحییٰ اور یونس تھا اور مقاتل نے کہا ان کا نام تو مان اور مانوص تھا۔

مقاتل ہے کہا اس تیسرے رسول کا نام شمعان تھا، کعب نے کہا ان دو رسولوں کا نام صادق اور صدوق تھا اور تیسرے رسول کا نام شلوم تھا ان رسولوں کو بھیجنے کی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اس لئے نسبت کی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اللہ عزوجل کے حکم سے بھیجا تھا اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ ان رسولوں کو اہل انطاکیہ کی طرف بھیجا تھا۔

(الکشف و البیان ج 8 ص 125 ۔ 124، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1422 ھ)

امام الحسین بن مسعود البغوی المتوفی 516 ھ نے مذکور الصدر تفصیل اسی طرح بیان کرنے کے بعد یہ اضافہ کیا ہے :

ایک قول یہ ہے کہ بادشاہ کی بیٹی مرچکی تھی اور مدفون ہوچکی تھی، حضرت شمعون نے بادشاہ سے کہا آپ ان دونوں سے یہ کہیے کہ یہ آپ کی بیٹی کو زندہ کردیں، بادشاہ نے ان سے یہ مطالبہ کیا وہ دونوں کھڑے ہوئے انہوں نے نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور حضرت شمعون بھی دل ہی دل میں آمین کہتے رہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی لڑکی کو زندہ کردیا، اس کی قبر پھٹ گئی اور وہ باہر نکل آئی اور اس نے کہا آپ سب اسلام قبول کرلیں یہ دونوں سچے ہیں اور اس نے کہا مجھے یہ یقین نہیں ہے کہ تم لوگ اسلام لے آئو گے، پھر اس نے ان رسولوں سے کہا کہ وہ اس کو اس کی جگہ پر لوٹا دیں، وہ اپنی قبر میں چلی گئی اور اسی طرح مدفون ہوگئی۔ (معالم التنزیل ج 4 ص 9-10، داراحیاء التراث العربی بیروت 1420 ھ)

مورخین میں سے علامہ محمد بن محمد شیبانی ابن الاثیر الجزری المتوفی 630 ھ نے بھی اسی طرح تفصیل سے بیان کیا ہے۔

(الکامل فی التاریخ ج 1 ص 211-212، دارالکتاب العربی بیروت 1400 ھ)

مفسرین میں سے علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 667 ھ نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔

(الجامع لاحکام القرآن جز 15 ص 16-17، دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابو الحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی 754 ھ اور علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ نے اجمالاً اس واقعہ کا ذکر کیا ہے اور اس پر اعتماد کیا ہے کہ ان رسولوں کو انطاکیہ میں بھیجا گیا تھا، البتہ علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رسول تھے اور حقیقتاً اللہ کے رسول نہ تھے اور ان پر مرسلون کا اطلاق مجازاً ہے، درحقیقت یہ اولیاء اللہ تھے اور ان کا اندھوں کو بینا کرنا اور مردوں کو زندہ کرنا ان کی کرامت تھی اور حضرت ابن عباس اور کعب سے یہ مروی ہے کہ یہ اللہ کے رسول تھے ان کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کے لئے بھیجا گیا تھا جیسا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کے لئے بھیجا گیا تھا۔ (البحر المحیط ج 9 ص 53، روح المعانی جز 22 ص 329)

دیگر قدیم مفسرین نے بھی اس واقعہ کا اسی طرح ذکر کیا ہے، البتہ بعض محققین نے لکھا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رسول نہیں تھے بلکہ مستقل رسول تھے اور نہ ہی یہ واقعہ اہل انطاکیہ کا ہے۔

انطاکیہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو نہ بھیجنے کے دلائل 

حافظ ابوالفداء عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی متوفی 774 ھ لکھتے ہیں :

بہ کثرت متقدمین اور متاثرین میں یہ مشہور ہے کہ جس بستی کا قرآن مجید میں ذکر ہے۔ یہ انطاکیہ ہے اور یہ قول بہت ضعیف ہے کیونکہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اہل انطاکیہ کی طرف اپنے تین حواری بھیجے تھے تو وہ اسی وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے اور انطاکیہ ان چار شہروں میں سے ایک ہے جہاں کے رہنے والے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے، وہ چار شہریہ ہیں : انطاکیہ، القدس، اسکندریہ اور رومیہ اور اس کے بعد قسلنطنیہ کے لوگ ہیں اور ان بستیوں کے لوگوں کو ہلاک نہیں کیا گیا تھا اور جس بستی کے لوگوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے ان کو ہلاک کردیا گیا تھا، ہاں اگر عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے انطاکیہ میں تین رسولوں کو بھیجا گیا تھا اور ان لوگوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو ہلاک کردیا اور پھر اس کے بعد وہ بستی پھر آباد ہوگئی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے وہاں اپنے حواری بھیجے اور وہ حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئے تو اس صورت میں اس بستی کا مصداق انطاکیہ ہوسکتا ہے۔

اور یہ کہنا کہ قرآن مجید میں جو قصہ ذکر کیا گیا ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں اور ان کے اصحاب کا ہے سو یہ بہت ضعیف ہے کیونکہ قرآن مجید کے سیاق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مستقل رسول تھے، کیونکہ جب ان رسولوں نے یہ کہا کہ ہم کو پیغام دے کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہے تو ان بستی والوں نے یہ کہا کہ تم تو ہماری مثل بشر ہو، انہوں نے بشر ہونے کو رسالت کے منافی سمجھا جیسا کہ ہر دور میں کفار بشریت کو رسالت کے منافی سمجھتے رہے ہیں اور انہوں نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ ہمارا رب خوب جانتا ہے کہ ہم اللہ کے رسول ہیں۔

(البدایہ والنہایہ ج 1 ص 318، 317، ملنصار دارالفکر بیروت، 1419 ھ)

نیز حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس موقف پر حسب ذیل دلائل قائم کئے ہیں :

1 ۔ اس قصہ میں مذکور ہے کہ ان رسولوں نے کہا ہمارا رب خوب جانتا ہے کہ ہمیں تمہاری طرف مبعوث کیا گیا ہے اگر وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری ہوتے تو وہ یہ کہتے کہ ہم کو حضرت مسیح (علیہ السلام) نے تمہاری طرف بھیجا ہے، پھر اگر وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے فرستادہ ہوتے تو بستی والے ان سے یہ نہ کہتے کہ تم تو ہماری مثل بشر ہو۔

2 ۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ کی طرف، اپنے حواریوں کو بھیجا تھا تو وہ پہلے مرحلہ میں ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے اور انطاکیہ ان چار شہروں میں سے ایک ہے جن کے باشندے حضرت مسیح پر ایمان لے آئے تھے، متعدد کتب تاریخ میں اسی طرح مذکور ہے اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ انطاکیہ کے لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے تو پھر انطاکیہ اس بستی کا مصداق نہیں ہے جس کا قرآن مجید میں ذکر ہے، کیونکہ اس بستی کے لوگوں نے تو رسولوں کی تکذیب کی تھی اور ایک زبردست چیخ نے ان کو ہلاک کردیا تھا۔

3 ۔ اور حضرت ابو سعید خدری (رض) اور دیگر متعدد متقدمین نے کہا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تو رات کے نازل ہونے کے بعد کسی امت کو ہلاک نہیں کیا، حتیٰ کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مشرکین سے قتال کرنے کا حکم دیا، 

قرآن مجید میں ہے :

ولقد اتینا موسیٰ الکتب من بعدما اھلکنا القرون الاولیٰ : (القصص : ٤٣) اور بیشک ہم نے پہلے زمانہ والوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی۔

امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے تورات کو نازل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو آسمان سے عذال نازل کر کے ہلاک کیا ہے اور نہ زمین سے، ماسوا ان لوگوں کے جن کو مسخ کر کے بندر بنادیا تھا۔ (جامع البیان جز ٢٠ ص 98 رقم الحدیث :20918، داللفکر بیروت، 1415 ھ)

اس آیت اور اس حدیث سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن مجید میں رسولوں کی تکذیب کرنے کی وجہ سے جس بستی کو ہلاک کرنے کا ذکر ہے وہ انطاکیہ نہیں ہے۔ جیسا کہ بہ کثرت متقدمین نے اس کی تصریح کی ہے اور اگر بستی کا نام انطاکیہ ہی ہے تو یہ وہ بستی نہیں ہے جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں کو بھیجا تھا، بلکہ وہ اس سے بہت پہلے بلکہ نزول تورات سے بھی پہلے اس نام کی کوئی اور بستی تھی جس کے باشندوں کو اس زمانہ میں ہلاک کردیا گیا تھا، اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جس بستی میں اپنے حواریوں کو بھیجا تھا اس بستی کے لوگ تو اسی وقت اسلام لے آئے تھے، ان دلائل سے واضح ہوگیا کہ سورة یٰسین میں جس بستی کی مثال کا ذکر ہے یہ وہ بستی نہیں ہے جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں کو بھیجا تھا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص 624، دارالفکر بیروت، 1419 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 13