امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ “امیرِ شام” نہیں، “امیرِ عالَمِ اسلام” اور “امیر المؤمنین” تھے۔ !!

امیرِ معاویہ جب تک ملکِ شام کے گورنر اور حکمراں تھے تب تک وہ ملکِ شام کے امیر و حاکم تھے۔ لیکن مولا علی -کرَّم اللہ وجہہ- کی شہادت کے بعد ان کے شہزادے سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے بشارت نبوی کے مطابق جب امیر معاویہ سے صلح فرمائی تو صلح کے بعد سیدنا معاویہ “امیرِ عالَمِ اسلام” اور “امیر المؤمنین” ہو گئے تھے، اور پھر امتِ محمدی نے آپ کی وفات تک تقریبا ۲۰ سال پورے اتحاد و اتفاق کے ساتھ آپ کو “امیرِ دنیاے اسلام” اور “امیر المومنین” مانا۔ ان میں صحابہ بھی تھے اور اہلِ بیت بھی۔ حتی کہ عشرۂ مبشرہ اور بدری صحابہ جو اس وقت حیات تھے ان سب نے اس مبارک وحدت و اتفاق کا ساتھ دیا اور امیر معاویہ کو “امیرِ عالَمِ اسلام” مانا۔
مگر چوں کہ سیدنا امام حسن نے انھیں “امیرِ شام” سے “امیرِ عالَمِ اسلام” اور “امیر المؤمنین” بنایا تھا, اس لیے امام حسن کے جتنے بھی نئے پرانے دشمن ہیں وہ امیرِ معاویہ کو “امیر المؤمنین” اور “امیرِ عالَمِ اسلام” نہیں مانتے, بلکہ امام حسن کے بنانے سے پہلے وہ جس عہدے پر تھے اسی عہدے “امیرِ شام” کے ساتھ اُن کا ذکر کرتے ہیں.
خدا ہی جانے کہ ان لوگوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک یعنی میرا بیٹا حسن سردار ہے، یہ مسلمانوں کے دو “عظیم” گروہوں میں صلح کرائیگا (حدیث صحیح کی بشارت) سے اور امام حسن سے کون سی دشمنی ہے جو اس فیصلے کو یہ لوگ نہیں مانتے اور ان کے بنائے ہوئے “امیرِ عالَمِ اسلام” کو بطورِ طنز و اہانت “امیرِ شام” کہتے ہیں۔

نثارمصباحی

۲۸ جنوری ۲۰۲۱ء