رفع الیدین کے تعلق سے ایک تحریر کا علمی جائزہ

ازقلم :اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

ہم نے ایک تحریر پڑھی ہے ایک موصوف کی جسکا عنوان موصوف نے جو یا ہے وہ ہے

 

“سنت کی طرف رجوع”

 

جیسا کہ موصوف لکھتے ہیں :

 

“سنت کی طرف رجوع”

 

جمع، ترتیب و ترجمہ :

حافظ محمد طاهر بن محمد

 

━══════════════━

 

امام أبو الحسن الدارقطنی رحمہ اللہ كے استاد ابو جعفر احمد بن اسحاق بن بہلول الحنفی رحمہ اللہ (المتوفی : 318ھ) ثقہ عالم دین اور حنفی فقیہ تھے جیسا کہ حافظ ذھبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فقیہا حنفیا. (تاریخ الإسلام : ٣٣٥/٧) ان کے متعلق امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے سنا بلکہ انہوں نے ہمیں بطور خاص اپنے بارے میں یہ بات لکھوائی :

 

كَانَ مَذْهَبِي مَذْهَبَ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ يُصَلِّي فَرَأَيْتُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ ثُمَّ إِذَا رَكَعَ ثُمَّ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ.

“پہلے رفع الیدین کے متعلق میرا مذھب بھی اہل عراق (یعنی احناف) والا تھا پھر ایک دفعہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم شروع نماز، رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کر رہے تھے.”

 

📚 (سنن الدارقطنی : 1125 وسندہ صحيح بلا شك)

 

•┈┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈┈•

 

⇚ امام أبو الولید ھشام بن عبد الملک الطیالسی البصری رحمہ اللہ (المتوفی : 227ھ) عظیم محدث و عالم دین تھے ان کے متعلق

علامہ ذھبی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے :

 

قال ابن المديني لأبي الوليد : ما عذرك عند الله، بأي شيء تحتج إذا وفقت بين يديه في ترك رفع اليدين قبل الركوع وبعده؟ فرفع يديه أبو الوليد بعد أن أتی عليه ثمانون سنة لا يرفع.

 

“امام علی بن المدینی رحمہ اللہ نے ایک دفعہ ابو الولید الطیالسی رحمہ اللہ سے کہا کہ جب آپ اللہ تعالٰی کے سامنے پیش ہوں گے تو آپ رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین چھوڑنے پر کونسی دلیل یا عذر پیش کریں گے؟ (اس بات کو سن کر) امام ابو الولید رحمہ اللہ نے رفع الیدین شروع کر دیا حالانکہ وہ 80 سال سے بغیر رفع الیدین کے نماز ادا کر رہے تھے.”

 

📚 (تاريخ الإسلام : ٧١٨/٥ طبع دار الغرب الإسلامي)

 

✺ تنبیہ : اس حکایت کی سند باوجود کوشش بسیار نہیں مل سکی. والله أعلم.

 

•┈┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈┈•

 

⇚ ابو بکر أحمد بن اسحاق بن صبيح الجوزجانی علیہ الرحمہ جو کہ امام محمد بن الحسن الشیبانی تلمیذ امام ابی حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد ابو سلیمان موسی بن سلیمان (المتوفی : 220ھ قریباً) کے شاگرد تھے، ان کے دور میں پیش آنے والے ایک واقعہ کو ابن عابدین الحنفی علیہ الرحمہ (المتوفی : 1252ھ) نے فتاوی تاتارخانیہ (للعلامہ عالم بن العلاء الدہلوی المتوفی : 786ھ) سے نقل کیا ہے :

 

حُكِيَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ أَبِي حَنِيفَةَ خَطَبَ إلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ ابْنَتَهُ فِي عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ الْجُوزَجَانِيِّ فَأَبَى إلَّا أَنْ يَتْرُكَ مَذْهَبَهُ فَيَقْرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ الِانْحِطَاطِ وَنَحْوُ ذَلِكَ فَأَجَابَهُ فَزَوَّجَهُ.

 

“أبو بکر الجوزجانی کے دور میں ایک حنفی شخص نے اپنی بیٹی کے نکاح کے لئے ایک اہل حدیث آدمی کو پیغام بھیجا لیکن اس نے انکار کر دیا (اور شرط رکھی کہ) وہ اپنا حنفی مذھب چھوڑ دے، فاتحہ خلف الامام اور رفع الیدین شروع کر دے، اس حنفی نے شرط قبول کر لی تو اہل حدیث نے اس کی بیٹی سے شادی کر لی.”

 

📚 (رد المحتار على الدر المختار ( يعني حاشية ابن عابدين) : 80/4 طبع دار الفكر بيروت)

 

✺تنبیہ : اس واقعے کی سند نا معلوم ہے. و اللہ اعلم.

 

✺فائدہ : اس حنفی حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آج سے صدیوں قبل، یعنی تیسری صدی ہجری میں بھی اہل حدیث کی پہچان رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام جیسی سنتیں ہی تھی، محدثین ان فروعی مسائل پر باقاعدہ کتب لکھا کرتے تھے، جیسے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی جزء رفع الیدین، جزء القراءة اور امام بیہقی رحمہ کی كتاب القراءة وغیرہ وغیرہ.

اسی طرح ان سنن کو شعار اہل حدیث میں شامل کیا گیا ہے. (شعار أصحاب الحديث لأبي أحمد الحاکم الكبير)

اگرچہ اصل، اساس و بنیاد عقائد ہی ہیں لیکن ہر ملت کی ایک علامت ہوتی ہے اور اہل حدیث کی علامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنتوں پر مضبوطی سے کاربند رہنا اور اس پر سختی ہے…. لہذا دور حاضر میں بعض جدیدیت زدہ “مفکرین” کا ان سنن پر سختی کو برصغیر کے اکابر اہل حدیث علماء کی تنگ نظری قرار دینا بالکل عقل و دانش کے خلاف فیصلہ ہے. هدانا الله وإياهم.

 

✍ اخوكم : حافظ محمد طاهر

 

نشر مکرر…

 

الجواب……

 

اور اس تحریر میں موصوف نے یہ نقشہ کھینچا ہے کہ کیسے کچھ صاحب علم لوگ سنت یعنی رفع الیدین کی طرف پلٹے گویا رفع الیدین کرنا ہی سنت ہے اور اسکو ترک کرنا سنت نبوی سے دور جانا ہے

 

یعنی یہ لوگ ایک فروعی مسلے جس پر صحابہ اور تابعین میں اختلاف چلا آرہا ہے ایسے اجتیہادی مسل پر مخالف پر مضالف سنت کا فتوی دینا یا یہ دعوی کرنا جو رفع الیدین کرنے کی طرف پلٹے وہ سنت کی طرف آئے

 

اب ہم کچھ دلائل پیش کرتے ہیں امت مسلمہ کے آئمہ متقدمین سلف صالحین کے عمل کہ جو رفع الیدین نہ کرتے تھے سوائے شروع کے اور اسی پر ہمیشہ رہے انکا کیا ہوگا ؟ جو انکے بقول سنت کی طرف رجوع نہ کر سکے…

 

امام قیس بن ابی حازم جو کبیر تابعی تھے اور حسن بصری سے علم ، فضل اور فقہ و روایات میں مقدم تھے ان سے ثبوت پیش کرتے ہیں :

 

حدثنا يحيى بن سعيد، عن إسماعيل، قال: «كان قيس، يرفع يديه أول ما يدخل في الصلاة، ثم لا يرفعهما»

 

امام قیس نماز میں داخل ہوتے تو رفع الیدین کرتے پھر رفع الیدین نہ کرتے

(مصنف ابن ابی شیبہ و سند صحیح )

 

اب امام قیس بن ابی حازم کا تعارف پیش خدمت ہے :

 

یہ صحابی کے بیٹے تھے جنکی کنیت ابو حازم الجبلی تھی

 

جیسا کہ امام مزی انکے والد کے بارے فرماتے ہیں :

 

أَبُو حازم البجلي الأحمسي، والد قيس بْن أَبي حازم، له صحبة. وقد ذكرنا ما قيل في اسمه ونسبه وبعض ما فِي ذلك من الخلاف فِي ترجمة ابنه قيس بْن أَبي حازم (2) .

رَوَى عَن: النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ (بخ د) .

رَوَى عَنه: ابنه قيس بْن أَبي حازم (بخ د) .

قال مُحَمَّد بْن سعد: قتل يوم صفين (3) .

روى له البخاري في “الأدب”، وأَبُو دَاوُدَ، وقد وقع لنا حديثه بعلو.

 

کہ یہ ابو حازم الجبلی ہیں انہوں نے نبی اکرمﷺ کی صحبت پائی ہے

یہ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے انکا بیٹا قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں

امام ابن سعد نے کہا کہ یہ جنگ صفین میں شہید ہوئے تھے

امام بخاری نے اپنی الادب ، ابو داود ، نے ان سے روایت کیا ہے انکی روایت بہت اعلیٰ ہے میرے نزدیک

 

اب امام مزی سے قیس بن ابی حازم کا تعارف پیش کرتے ہیں :

 

قَيْس بن أَبي حازم

وأبوه أَبُو حازم له صحبة

 

قیس بن ابی حازم انکے والد نے صحابیت کا شرف پایا ہے

 

اسکے بعد امام مزی انکے شیوخ کا نام لکھتے ہیں جو اصحاب رسولﷺ ہیں

 

(تہذیب الکمال)

 

امام ذھبی انکا تذکرہ یوں کرتے ہیں :

 

قيس بن أبي حازم أبو عبد الله البجلي * (ع)

العالم، الثقة، الحافظ، أبو عبد الله البجلي، الأحمسي، الكوفي.

وقيل: إن لقيس صحبة، ولم يثبت ذلك.

 

امام قیس یہ عالم ثقہ حافظ تھے کوفی تھے

اور کہا جاتا ہے کہ قیس نے صحابت رسولﷺ پائی ہے لیکن یہ ثابت نہیں

 

پھر انکے شیوخ میں امام ذھبی درج ذیل صحابہ لکھتے ہیں :

 

روى عن: أبي بكر، وعمر، وعثمان، وعلي، وعمار، وابن مسعود، وخالد، والزبير، وخباب، وحذيفة، ومعاذ، وطلحة، وسعد، وسعيد بن زيد، وعائشة، وأبي موسى، وعمرو، ومعاوية، والمغيرة، وبلال، وجرير، وعدي بن عميرة، وعقبة بن عامر، وأبي مسعود عقبة بن عمرو، وخلق.

 

امام ذھبی کہتے ہیں یہ

حضرت ابو بکر

حضرت عمر

حضرت عثمان

حضرت علی

حضرت عماز

حضرت عبداللہ بن مسعود

حضرت معاویہ

حضرت عائشہ

اور خلق صحابہ سے بیان کیا ہے

 

اہم نکتہ! کیا شان تھی کہ یہ انکے بارے یہ بھی مشہور تھا کہ یہ صحابی ہیں لیکن یہ ثابت نہیں لیکن اس سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت قیس حضور ﷺ کے زمانے کے قریب ترین کے ہیں اور کبیر تابعی ہیں

 

انہوں نے چاروں خلفاء راشدین سمیت کثیر صحابہ کی صحبت پائی ہے

اور یہ رفع الیدین سوائے شروع کے پھر نہیں کرتے تھے

 

اور یہ وہ واحد تابعی تھے کوفہ میں جو سب سے زیادہ صحابہ سے بیان کرنے والے تھے جیسا کہ امام سفیان بن عیینہ انکے بارے فرماتے ہیں

 

وقال سفيان بن عيينة: ما كان بالكوفة أحد أروى عن أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من قيس بن أبي حازم

 

امام سفیان کہتے ہیں کہ کوفہ میں کوئی بھی ایسا نہیں جو اتنے صحابہ سے روایت کرتا ہو مگر قیس بن ابی حازم ہیں

 

اور انکے بارے امام ابو داود کہتے ہیں

 

وقال أبو داود: أجود التابعين إسنادا قيس.

تابعین کی اسناد میں سب سے اعلیٰ سند امام قیس کی ہے

 

اہم نکتہ!

 

ایسے عظیم تابعی جنکی سند سب سے اعلیٰ ہے تابعین میں سے کیونکہ انکا سماع سب سے زیادہ صحابہ سے جو تابعی ہیں

 

تو وہ کتنے بڑے فقیہ ہونگے اور وہ اگر رفع الیدین نہیں کر رہے تو کیا یہ حجت نہیں ؟

 

امام یعقوب بن شیبہ کا فرمان

 

وقال يعقوب بن شيبة: أدرك قيس أبا بكر الصديق، وهو رجل كامل … ، إلى أن قال:

وهو متقن الرواية؛

 

وہ کہتے ہیں کہ قیس نے حضرت ابو بکر کو دیکھا ہے اور یہ ایک کامل شخص ہیں اور متقن ہیں روایت میں

 

ابن خراش کہتا ہے :

 

وقال عبد الرحمن بن خراش: هو كوفي جليل، ليس في التابعين أحد روى عن العشرة إلا قيس بن أبي حازم

 

کہ کوفہ کے جلیل تابعین میں کوئی بھی ایسا نہیں جس نے عشرہ صحابہ سے روایت کیا ہو سوائے قیس کے

 

جیسا کہ امام ذھبی سیر اعلام میں امام یحییٰ بن معین سے نقل فرماتے ہیں :

 

وروى: معاوية بن صالح، عن يحيى بن معين، قال:

قيس بن أبي حازم أوثق من الزهري، ومن السائب بن يزيد

 

معاویہ بن صالح امام یحییٰ بن معین سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا

 

قیس بن ابی حازم زیادہ ثقہ ہیں زہری سے ،اور سائب بن یزید سے

 

وروى: أحمد بن أبي خيثمة، عن ابن معين: ثقة.

وكذا وثقه غير واحد.

 

اور امام ابن ابی خثیمہ کہتے ہیں ابن معین سے کہ ثقہ ہیں قیس

اور بے شمار لوگوں نے انکو ثقہ قرار دیا ہے

(سیر اعلام النبلاء برقم:۸۱)

 

آگے چلتے ہیں

 

سب سے پہلے ہم حضرت عبداللہ بن مسعودؒ کی سند کو دیکھتے ہیں :

 

حدثنا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمہ قال : قال عبداللہ بن مسعود بلخ۔۔۔

 

پھر آگے حضرت ابن مسعودؒ فرماتے ہیں کہ کیا میں تم کو جناب رسول الکرمﷺ کی نماز نہ پڑھ کر دیکھاوں ؟

پھر راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ سوائے شروع کے پھر رفع الیدین نہ کیا حتیٰ کہ نماز سے فارغ ہو گئے

 

اس کی سند پر اعتراض محدثین ،شارحین اور مجتہدین میں سے کسی نے کیا ہی نہیں ہے

یہ بیماری سب سے پہلے زبیر زئی کے بھوسے میں پلنے والے ایک کیڑے کی وجہ سے رونما ہوئی تھی جسکو یہ شیطانی خیال آیا اور امیر المومنین امام سفیان الثوری پر تدلیس کا بہانہ بنا کر چڑھ دوڑا جس پر اسکے اپنے شیوخ نے اسکی اچھی بھلی درگت بنا دی تھی

 

خیر مقصد یہ تھا کہنے کا کہ اسکی سند پر کسی کو نہ تدلیس کا اعتراض متقدمین سے متاخرین تک تھا نہ کسی راوی پر

بلکہ امام اعظم اور انکے اصحاب کے بعد جب امام شافعی ، امام احمد و بخاری کا دور آیا تو کسی نے سفیان الثوری کا وھم بنا دیا

کسی نے سفیان سے اثق کسی اور راوی کو ترجیح دی وغیرہ وغیرہ

جنکا جواب احناف کے محدثین و مفسرین دلائل سے دیتے آرہے ہیں لیکن یہ تحریر اس مسلے پر نہیں ہے

 

اس کی سند میں ایک راوی

سفیان الثوری

جو امام اعظم کے ہمر عصر فقیہ لیکن ثبت محدث تھے

اور دوسرے اصحاب ابن مسعودؒ میں سے

یعنی امام علقمہ

 

سب سے پہلے ان ددونوں حضرات کے عمل کو دیکھ لیتے ہیں

امام سفیان الثوری کے بارے میں امام ترمذی ترک رفع الیدین کی روایت درج کرنے کے بعد کہتے ہیں امام سفیان الثوری کا بھی یہی قول ہے (یعنی نماز میں سوائے شروع کے پھر رفع الیدین نہیں کرنا چاہیے )

 

امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں ایک باب قائم کرتے ہیں : کہ وہ حضرات جو سوائے شروع میں پھر نماز میں رفع الیدین نہ کرتے تھے

پھر یہ روایت اپنی سند لا باس بہ سے لاتے ہیں :

 

– حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، «أَنَّهُمَا كَانَا يَرْفَعَانِ أَيْدِيَهُمَا إِذَا افْتَتَحَا ثُمَّ لَا يَعُودَانِ»

(مصنف ابن ابی شیبہ)

امام وکیع شریک (لین الحدیث مگر جید فقیہ مجتہد) سے وہ جابر سے روایت کرتے ہیں کہ الاسود اور علقمہ یعنی یہ اصحابہ عبداللہ بن مسعود نماز میں پہلی رفع الیدین کے بعد پھر رفع الیدین کی طرف نہ لوٹتے

 

اسکا مطلب جو یہ الاسود و علقمہ ابن مسعود سے روایت بیان کرتے ہیں اسی روایت سے یہ احتجاج کرتے ہوئے اپنی نمازوں میں ترک رفع الیدین پر عمل کرتے تھے

 

کوئی سند میں شریک کی وجہ سے بہانا بنائے تو اسکا رد بھی کردیتے ہیں :

 

امام ابن ابی شیبہ اسی باب میں ایک سند جید صحیح سے بروایت ثقات ایک اور روایت لاتے ہیں :

 

2446 – حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَصْحَابُ عَلِيٍّ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، قَالَ وَكِيعٌ،، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ»

(مصنف ابن ابی شیبہ)

امام وکیع اور امام ابو سامہ امام شعبہ (جو خود مسائل میں امام اعظم کی طرف رجوع کرتے ) وہ ابی اسحاق السبیعی(جو صحیحین کے متفقہ جید راوی الحدیث اور بڑے فقیہ تھے اور کثیر صحابہ کے شاگرد ہیں )

 

وہ فرماتے ہیں :

کہ حضرت عبداللہ بن مسعوؓ اور حضرت مولا علی علیہ السلام کے اصحاب نماز کے شروع کے علاوہ رفع الیدین نہ کرتے تھے ، اور وکیع نے ان الفاظ سے کہا کہ پھر رفع الیدین نہ کرتے تھے

 

حدیث بن مسعود کے راویان سمیت یہ تو ثابت ہو کہ ابن مسعود ؒ اور انکے اصحاب ترک رفع الیدین کے قائل تھے

لیکن حضرت مولا علی کے اصحاب کیوں ترک رفع الیددین کے قائل تھے ؟

اسکا جواب بھی دیتے ہیں

 

امام ابن ابی شیبہ نے اسی ہی باب میں اپنی سند صحیح سے روایت کرتے ہیں :

 

2442 – حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قِطَافٍ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ عَلِيًّا، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَا يَعُودُ»

 

امام عاصم بن کلیب (جو ابن مسعود کی ترک رفع الیدین کی روایت کے راوی ہیں ) وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں :

کہ حضرت علی علیہ السلام نماز کے شروع میں رفع الیدین کرتے پھر نہ کرتے (و سند صحیح رجال ثقات)

 

معلوم ہوا کہ مولا علی علیہ السلام اور انکے اصحاب جو کہ گننے میں بھی شمار نہیں ہو سکتے اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے اصحاب جنکی گنتی بھی نا ممکن ہیں وہ سب کے سب ترک رفع الدین کے قائل تھے

اور کیوں قائل نہ ہوتے جب مولا علی جیسی ہستی اور حضرت ابن مسعود جیسا قرآن کا مفسر کا عمل ایسا ہو

 

دوسری مزے کی بات یہ قول بیان کرنے والے کون تھے ؟؟؟

 

جی یہ قول بیان کرنے والے صحیحین کے متفقہ علیہ ثقہ جید مجتہد راوی امام ابو اسحاق البیعی ہیں

اور امام سبیقی چونکہ مجتہد اور حضرت علی کے اصحاب سمیت کئی دیگر اصحاب رسول کے شاگرد خاص ہیں

اور یہ قول انکا ہے

اور اگر یہ قول انکا ہے تو پھر انکا عمل کیا ہوگا ؟؟؟

 

تو انکا عمل بھی پیش کرتے ہیں :

اب پھر امام ابن ابی شیبہ کی ہی روایت پیش کرتے ہیں باسند صحیح :

 

2454 – حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ»

 

امام الاسود (وہی راوی ہیں جو اصحاب ابن مسعود میں سے ہیں اور یہ ترک رفع الیدین پر عمل کرتے تھے )

وہ فرماتے ہیں : کہ میں نے حضرت عمر ؓ کے ساتھ نماز پڑھی وہ کہیں بھی رفع الیدین نہیں کرتے تھے نماز میں سوائے شروع کے

 

اس روایت کو بیان کرنے کے بعد امام ابن ابی شیبہ اس حدیث کے راوی عبدالملک جس سے متصل سند سے مروی یہ روایت بیان کی اسکے بعد انکا یہ قول بیان کرتے ہیں :

قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: «وَرَأَيْتُ الشَّعْبِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَأَبَا إِسْحَاقَ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا حِينَ يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ»

 

کہ میں نے امام الشعبیٰ ، امام ابراہیم النخعی اور امام ابو اسحاق السبیعی کو دیکھا کہ وہ کہیں بھی رفع الیدین نہ کرتے نماز میں سوائے افتتاح کے

 

تو معلوم ہوا : امام ابو اسحاق السبعی جو کہ صحیحین کے کہ متفقہ جید راوی ثقہ ثبت اور مجتہد اور کثیر صحابہ کے شاگرد ہیں وہ رفع الیدین نہ کرتے

 

لیکن یہ کیا ہم تو ریوڑی کی تلاش میں تھے اور مل گیا رس گلہ!!! 

 

یعنی امام ابی اسحاق السبعی کا عمل تو تھا ہی لیکن امام الشعبی جو حضرت عمر کے دور میں پیدا ہوئے تھے اور 500 اصحاب رسول سے انکا سماع ہے (اور یاد رہے امام اعظم ابو حنیفہ جیسا مجتہد بھی انکا شاگرد جا بنا تھا )

اور انکے ساتھ ابراہیم النخعی جو اصحاب ابن مسعود کے شاگرد تھے اور کوفہ میں ان جیسا کوئی فقیہ مجاہد نہ پیدا ہوا تھا

اور انکے شاگرد امام حماد بن ابی سلیمان ، اور انکے شاگرد جا کر امام اعظم ابو حنیفہ ؒ بنے تھے

 

تو چونکہ امام ابو اسحاق ،امام شعبی اور امام ابراہیم النخعی سوائے شروع کے پھر نماز میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے

کیوں نہ سب سے پہلے کا بھی تعارف کروایا جائے کہ یہ کتنی بڑی علمی شخصیات تھے

 

۱۔ امام الشعبیٰ انکا تعارف کرتے ہوئے امام ذھبی ؒ سیر اعلام میں فرماتے ہیں :

 

امام شعبیٰ یہ حضرت عمر بن خطاب کے دور میں ۲۱ ھ کو پیدا ہوئے

اسکے بعد امام ذھبی کہتے ہیں : میں کہتا ہون انہوں نے حضرت علی کو پایا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے

اور کئی عدد کبیر صحابہ سے سماع کیا ہے پھر اسکے بعد امام ذھبی کثیر صحابہ جو جلیل القدر اور مشہور و معروف صحابہ تھے اسکے بعد لھکتے ہیں وغير هؤلاء الخمسين من الصحابة کہ یہ ۵۰ صحابہ کرام ہیں

آگے امام ذھبی ابن عساکر کے حوالے سے سند کے ساتھ نقل کرتے ہین :

 

روى: عقيل بن يحيى، حدثنا أبو داود، عن شعبة، عن منصور الغداني، عن الشعبي، قال:

أدركت خمس مائة صحابي، أو أكثر، يقولون: أبو بكر، وعمر، وعثمان، وعلي

امام شعبیٰ فرماتے ہیں : کہ میں نے پانچ سو صحابہ رضی اللہ عنہم کو پایا یعنی ان سے ملاقات کی۔

 

اسکے بعد امام ذھبی الفسوی کے حوالے سے صحیح سند سے لکھتے ہیں :

الفسوي في (تاريخه (4)) : حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا ابن شبرمة، سمعت الشعبي يقول:

ما سمعت منذ عشرين سنة رجلا يحدث بحديث إلا أنا أعلم به منه، ولقد نسيت من العلم ما لو حفظه رجل لكان به عالما.

امام حمیدی سفیان سے اور وہ امام شعبی سے سنا ہے کہ : امام شعبی کہتے

کہ میں نے بیس سال کے عرصہ میں کسی سے کوئی ایسی نئی حدیث نہیں سنی کہ اس سے بیان کرنے والے سے زیادہ واقف نہ رہا ہوں

 

پھر امام ابن عساکر کے حوالے سے نقل کرتے ہیں

قال ابن ابی لیلیٰ : كان إبراهيم صاحب قياس، والشعبي صاحب آثار

امام ابن ابی لیلیٰ کہتے تھے کہ ابراہیم النخعی صاحب قیاس یعنی مجتہد تھے اور امام شعبیٰ صاحب آثار یعنی آثار صحابہ کے بڑے عالم ہیں

 

اور امام شعبیٰ کی وفات ۱۰۳ سے ۱۰۹ ھ کے درمیان وفات ہوئی

(سیر اعلام النبلاء)

 

امام ذھبی انکا ذکر تذکرہ حفاظ میں یوں کرتے ہیں :

 

الشعبی تابعین میں علامہ تھے یہ حضرت عمر کے دور خلافت میں ۲۱ھ کو پیدا ہوئے یہ امام حافظ فقیہ یعنی مجتہد متقن ثبت تھے انہوں نے حضرت علی ، عمران بن حصین، جریر بن عبداللہ ، ابی ھریرہ، ابن عباس ، حضرت عائشہ ، عبداللہ بن عمر ، عدی بن حاتم ، مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے

اور ان سے روایت کرنے والے امام ابی حنیفہ یہ اما م ابو حنیفہ کے بڑے کبیر شیخ تھے ، اور ابن عون ، یونس بن ابی اسحاق ، وغیرہ ہیں

اور امام عجلی کہتے ہیں شعبی کی مراسل صحیح کے علاوہ روایت نہ کرتے

(تذکرہ الحفظ امام ذھبی)

 

۲۔ امام ابو اسحاق السبیعی

انکا ترجمہ بیان کرتے ہوئے امام ذھبیؒ سیر اعلام النبلاء میں فرماتے ہیں :

کہ یہ اجلہ تابعین میں سے ہیں یہ کوفی حافظ عالم و محدث ہیں اور یہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی خلافت دور میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے مولا علی کو دیکھا بھی ہے اور ان سے روایت بھی کیا ہے

 

– أبو إسحاق السبيعي عمرو بن عبد الله * (ع)

ابن ذي يحمد.

وقيل: عمرو بن عبد الله بن علي الهمداني، الكوفي، الحافظ، شيخ الكوفة، وعالمها، ومحدثها، لم أظفر له بنسب

متصل إلى السبيع، وهو من ذرية سبيع بن صعب بن معاوية بن كثير بن مالك بن جشم بن حاشد بن جشم بن خيران بن نوف بن همدان.

وكان -رحمه الله- من العلماء العاملين، ومن جلة التابعين.

قال: ولدت لسنتين بقيتا من خلافة عثمان، ورأيت علي بن أبي طالب يخطب.

 

اسکے بعد آگے امام ذھبیؒ نے انکے ان شیوخ کا ذکر کیا جو اصحاب رسولﷺ تھے

 

وروى عن: معاوية، وعدي بن حاتم، وابن عباس، والبراء بن عازب، وزيد بن أرقم، وعبد الله بن عمرو بن العاص، وأبي جحيفة السوائي، وسليمان بن صرد، وعمارة بن رويبة الثقفي، وعبد الله بن يزيد الأنصاري، وعمرو بن الحارث الخزاعي، وغيرهم من أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

ورأى أيضا: أسامة بن زيد النبوي.

وقرأ القرآن على: الأسود بن يزيد، وأبي عبد الرحمن السلمي.

وكان طلابة للعلم، كبير القدر.

 

وهو: ثقة، حجة بلا نزاع.

وقد كبر وتغير حفظه تغير السن، ولم يختلط.

 

جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے کیسے بڑے میں ائمہ حدیث جیسا کہ امام شعبہ ، امام ابو بکر بن عیاش ، سفیان بن عینہ ، شریک القاصی ، وکیع بن الجرح ، الحسین بن واقد ، زھیر بن معاویہ ،

یونس بن ابی اسحاق (یہ ابو اسحاق کے بیٹے ہیں )

وغیرہ وغیرہ !!!

 

۳۔ حضرت ابراہیم النخعی

 

امام ذھبی انکا ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 

اسکے بعد امام ذھبی فرماتے ہیں :

وہ علم کی بہت بصیرت رکھنے والے تھے جو ابن مسعود سے مروی تھا انکی روایات کے زریعے اور یہ بہت بڑے بڑی شان والے فقیہ تھے

یہ کبار تابعین سے روایت کرنے والے ہیں لیکن انہوں نے کثیر صحابہ کو تو نہیں دیکھا البتہ البراء ، ابو حجیفہ اور عمرو بن الحارث کے

اور امام ابن معین فرماتے ہیں ابراہیم النخعی کی مراسیل مجھے امام شعبی کی مراسیل سے زیادہ پسند ہیں

 

(سیر اعلام النبلاء )

 

تو معلوم ہوا جو حضرت عمر ، حضرت ابن مسعود ، حضرت مولا علی سمیت ۵۰۰ صحابہ کرام کے پیچھے نمازیں پڑھیں اور خلفاء کے دور میں پید ا ہوئے وہ تو رفع الیدین کرتے ہی نہیں تھے

اگر انہوں نے کچھ صحابہ کو دیکھا ہوتا کرتے تو کبھی کبھار کرتے کبھی نہ کرتے بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ نماز میں کہیں بھی رفع الیدین نہیں سوائے شروع کے

اور پھر خود بھی ایسی نمازیں پڑھتے

 

حضرت ابراہیم النخعی کے سامنے رفع الیدین کے اثبات کی دلیل پیش کی جاتی تو وہ کیا جواب دیتے :

احناف کے فخر اعظیم محدث و فقیہ بے مثل امام ابو جعفر الطحاوی اپنی تصنیف شرح معانی الاثار میں باسند صحیح روایت لاتے ہیں :

 

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: دَخَلْت مَسْجِدَ حَضْرَمَوْتَ، فَإِذَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ الرُّكُوعِ، وَبَعْدَهُ۔ فَذَكَرْت ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَغَضِبَ وَقَالَ رَآهُ هُوَ وَلَمْ يَرَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ رضي الله عنه وَلاَ أَصْحَابُهُ

(شرح معانی الاثار : برقم: ۱۳۵۱)

 

سفیان مغیرہ سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے کہاکہ وائل بن حجرکی روایت میں ہےکہ میں نے جناب رسول اﷲﷺ کو نماز شروع کرتےاوررکوع میں جاتےاوررکوع سےسراٹھاتےہوئےرفع یدین کرتےدیکھاتو

امام ابرہیم النخعی نے جواب دیا،

اگروائلؓ نے آپﷺ کو ایک مرتبہ ہاتھ اٹھاتے دیکھا ہے تو ابن مسعودؓ نے جناب رسول اﷲﷺ کو پچاسوں مرتبہ ہاتھ نہ اٹھاتے دیکھا

 

یعنی کہ امام ابراہیم الںخعی جو شاگرد خاص ہیں امام شعبیٰ کے (امام شعبی کے شاگرد امام ابو حنیفہ بھی ہیں )

اور امام شعبیٰ شاگرد خاص ہیں حضرت علی اور 500 صحابہ کے وہ انے سے فیض یافتہ فقیہ ابراہیم النخعی نے وائل بن حجر کی روایت کے مقابلے فرمایا کہ اگر وہ صحابی رسول نے نبی کو ایک بار رفع الیدین کرتے دیکھا ہے تو حضرت جناب عبداللہ بن مسعود ؓ نے 50 بار نبی پاک ﷺ کو رفع الیدین کو ترک کرتے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ہے

 

اور حضرت ابراہیم النخعی نے یہ بات اس لیے کہی کہ ان تک اصحاب ابن مسعود جنکی تعداد بھی ہم نہین گن سکتے سب نے ترک رفع الیدین کی روایت بیان کی اور ابن مسعود وہ صحابہ رسول ہیں جو اول اسلام لانے والے صحابہ میں شمار ہیں اور یہ نبی پاک کےساتھ ہر مشکل و جنگ ، امن ہر ماحول میں نبی کریم کے ساتھ رہے

اور جب انکا عمل یہ ہے تو وائل بن حجر جو شاز ناظر نبی کریم کو کو پایا انکی بات کیسے مانی جا سکتی ہے ؟

 

اسی طرح یہی بات امام ابراہیم النخعی سے ایک اور متن سے بھی امام طحاوی نے پیش کی ہے جیسا کہ :

 

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: دَخَلْت مَسْجِدَ حَضْرَمَوْتَ، فَإِذَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ الرُّكُوعِ، وَبَعْدَهُ۔ فَذَكَرْت ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَغَضِبَ وَقَالَ رَآهُ هُوَ وَلَمْ يَرَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ رضي الله عنه وَلاَ أَصْحَابُهُ

 

حضر موت‘‘ کی مسجد میں گیا، وہاں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت علقمہ اپنے والد گرامی کے حوالے سے یہ حدیث سنا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے قبل ،اور بعد از رکوع رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ تو یہ حدیث سن کر میں ابراہیم النخعی کے پاس آیا اور یہ حدیث سنا کر اس کے متعلق ان سے پوچھا۔ تو وہ یہ حدیث سن کر غصہ میں آگئے۔ اور کہنے لگے کہ: وائل بن حجر ؓ نےرسول اﷲﷺ کو دیکھ لیا اورعبد اللہ بن مسعود ؓ اوران کے ساتھی نہ دیکھ سکے

 

یہ تو تھے بالکل ہی مختصر وجوحات جسکی بنیاد پر ترجیح دی گئی حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت کو

 

اور ہاں یاد رہے جن محدثین و فقیہ سے ترک رفع الیدین کی ترجیح اور احادیث کے موافق انکا عمل اور استدلال بیان کیا گیا ہے

 

اس وقت ترک رفع الیدین کی احادیث کو ضعیف قرار دینے والے محدثین ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے

 

جیسا کہ امام بخاری ، امام احمد ، امام شافعی ، امام ابن حبان ، امام ابی داود وغیرہ

 

کیونکہ ان محدثین کا وقت تو بہت بعد کا ہے ہم تو ابھی صحابہ اور تابعین کبیر کے دور میں ان کی تحقیق پیش کی جنہوں نے 500 صحابہ سے علمی فیض لیا اور مولاعلی جو علم کادروازہ ہیں انکے استدلال پر بھی بھلا کوئی اشکالا وارد کر سکتا ہے ؟؟؟؟

 

اب حدیث رسول میں سجدہ میں بھی رفع الیدین آیا ہے

 

اب ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ

غیر مقلدین کب اس سنت کی طرف پلٹے گیں…..

 

جیسا کہ حدیث رسول میں ہے

 

کیا نبی کریمﷺ سے سجود میں بھی رفع الیدین ثابت ہے؟

 

امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں ایک روایت بیان کرتے ہیں جسکی سند و متن درج ذیل ہے :

 

2434 – حدثنا الثقفي، عن حميد، عن أنس، «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه في الركوع والسجود»

 

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ رکوع اور سجود میں رفع الیدین کرتے تھے

 

*******

ہم پہلے رجال کا تعارف

 

۱۔سند کا پہلا راوی: امام الثقفی

 

امام ذھبی فرماتے ہیں امام عبدالوھاب الثقفی الحافظ اور حجت ہیں

 

(سیراعلام النبلاء)

 

۲۔ سند کا دوسرا راوی: حمد بن طویل

 

78 – حميد بن أبي حميد * (ع)

امام الحافط حمید بن ابی طویل یہ صاحب حدیث اور معرفت والے سچے ہیں

امام ابن معین فرماتے ہیں کہ ثقہ ہیں

امام عجلی انکو بصرہ کے ثقہ تابعین میں شمار کیا ہے

اور امام ابی حاتم کہتے ہیں یہ ثقہ ہیں ان میں کوئی حرج نہیں

 

(سیر اعلام النبلاء)

 

۳۔ سند کےتیسرے راوی صحابی رسول حضرت انس بن مالک ہیں جو نبی کریمﷺ کا عمل بیان کرنے والے ہیں :

 

******************************

 

اور البانی صاحب کا موقف بھی یہی تھا جیسا کہ ہو لکھتے ہیں

 

زاد النسائى: ” وإذا رفع رأسه من السجود فعل مثل ذلك ” وسنده صحيح.

وفى أخرى له بلفظ:

 

” أنه رأى النبى صلى الله عليه وسلم رفع يديه فى صلاته إذا ركع , وإذا رفع رأسه من الركوع , وإذا سجد , وإذا رأسه من السجود حتى يحاذى بهما فروع أذنيه “.

وكذلك رواه أحمد (3/436 , 437) وسنده صحيح أيضا.

وفى أخرى له مختصرا بلفظ: ” كان يرفع يديه حيال فروع أذنيه فى الركوع والسجود “.

وكذلك رواه أبو عوانة فى ” صحيحه (2/95) .

وقال الحافظ فى ” الفتح ” (2/185) بعد أن ساقه من طريق النسائى: ” وهو أصح ما وقفت عليه من الأحاديث فى الرفع فى السجود “.

وله شاهد من حديث أنس بلفظ:

” أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه فى الركوع والسجود “.

رواه ابن أبى شيبة (1/91/1) بإسناد صحيح.

 

وہ امام نسائی کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا رکوع اور سجود میں رفع الیدین کی روایت نقل کرتے ہیں

اور تخریج کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

اسکو بیان کیا ہے امام احمد نے اپنی مسند میں سند صحیح سے

اور مختصر الفاظ سے امام ابی عوانہ نے بھی نقل کیا ہے اپنی صحیح میں کہ نبی کریم کانوں تک ہاتھ آٹھاتے جب رکوع کرتے اور سجود کرتے

یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں :

امام نسائی نے جو طریق بیان کیا ہے وہ سب سے صحیح ترین ہے ان احادیث کے حوالے سے جس میں سجود میں رفع الیدین آیا ہے

 

اسکے بعد البانی صاحب لکھتے ہیں

کہ اس روایت کا شاھد بھی موجود ہے حضرت انس کی روایت میں ان الفاظ کے ساتھ

جسکو امام ابن ابی شعیبہ نے باسند صحیح بیان کیا ہے

(إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل جلد 2 ص67 ، البانی )

 

نیز امام نسائی کی روایت کو امام ابن حجر نے صحیح ترین قرار دیا ہے جس میں سجود میں رفع الیدین کا ذکر ہے اور قتادہ سے سعید بیان کرنے میں منفرد نہیں بلکہ ابی عوانہ میں انکی متابعت دوسرے راوی نے کر رکھی ہے بقول ابن حجر

 

اور البانی صاحب بھی سجود کی روایات کو صحیح اور ثابت مانتے یہں

نیز وہ سجود میں رفع الیدین کرنے کے قائل بھی تھے

اور

 

ایسے ہی امام ابن عبد البر نے فرمایا ہے کہ فقھاء کی ایک تعداد سجود میں رفع الیدین کے قائل ہیں….

 

نیز امام بخاری اپنی جز میں فرماتے ہیں

 

امام سفیان الثوری اور امام وکیع بن جرح رفع الیدین سوائے شروع کے پھر نہیں کرتے تھے

(جز رفع الیدین للبخاری)

 

امام خلیلی رحمہ اللہ الارشاد میں نقل کرتے ہیں اپنے شیخ الشیخ سے وہ کہتے ہیں میں نے امام طحاوی سے پوچھا کہ آپ شافعی سے حنفی کیسے ہوئے..

تو امام طحاوی علیہ رحمہ فرماتے ہیں جب میں خالو امام مزنی (صاحب شافعی) سے دقیق سوال کرتا تو وہ امام ابو حنیفہ کی کتب کی طرف نظر کرتے تھے …

 

اسکو نقل کرنے کے بعد امام خلیلی فرماتے ہیں کہ بیشک امام طحاوی حدیث کے عالم تھے

(الارشاد للخلیلی)

 

اب ہم چند ان محدثین کا ذکر کرتے ہیں جو حنبلی و شافعی سے حنفی مذہب پر منتقل ہوئے

 

سیر اعلام النبلاء سے ان محدیث کا تعارف امام ذھبیؒ کی زبانی جو محدثین بعد میں حنفی مذہب پر منتقل ہوئے

 

ہم نے راویان کے ترجمہ میں اختصار کیا ہے سوائے اہم باتوں کے باقی حذف کیا ہے غیر ضروری تفصیل کو ۔۔

 

۱۔ پہلے امام عبد الخالق بن اسد دمشقی:

 

315 – عبد الخالق بن أسد بن ثابت أبو محمد الدمشقي *

الفقيه، الإمام، المحدث، المفتي، أبو محمد الدمشقي، الحنفي، الطرابلسي الأصل.

كان فقيها شافعيا، ثم تحول حنفيا، وتفقه على البلخي.

ورحل في الحديث، وصنف، وخرج، ودرس بالمعينية وبالصادرية ، ووعظ الناس، وكان يلقب تاج الدين

.

 

امام ذھبی انکا تعارف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

 

فقیہ ، امام محدث اور صاحب فتویٰ ابو محمد دمشقی الحنفی طبرابلسی تھے

یہ مذہب شافعی کے فقیہ تھے لیکن پھر یہ حنفی مذہب کو اپنا لیا اور انہوں نے فقہ البلخی سے پڑھی

 

انہون نے حدیث و تدریس، میں لکھنے میں وقت صرف کیا اور اور عوام میں واعظ کرنے یہان تک کہ انکا لقب تاج الدین پڑ گیا

 

۲۔ امام الکندی ابو الیمن

 

28 – الكندي أبو اليمن زيد بن الحسن بن زيد *

الشيخ، الإمام، العلامة، المفتي، شيخ الحنفية، وشيخ العربية، وشيخ القراءات، ومسند الشام، تاج الدين، أبو اليمن زيد بن الحسن بن زيد بن الحسن بن زيد بن الحسن بن سعيد بن عصمة بن حمير الكندي، البغدادي، المقرئ، النحوي، اللغوي، الحنفي.

 

امام ذھبی انکا ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

شیخ امام علامہ صاحب فتویٰ اور احناف کے شیخ اور عرب کے شیخ اور قراءت کے شیخ

اور شام کے مسند کی حیثیت رکھنے والے تاج الدین ابو الیمن ابن عصمہ الکندی البغدادی نحوی و لغوی حنفی تھے

پھر آگے جاکر انکے مذہب کے بارے یوں رقم دراز ہوتے ہیں :

 

، وكان حنبليا، فانتقل حنفيا، وبرع في الفقه، وفي النحو، وأفتى، ودرس، وصنف، وله النظم، والنثر، وكان صحيح السماع، ثقة في نقله، ظريفا، كيسا، ذا دعابة وانطباع.

 

یہ حنبلی تھے پھر یہ حنفی مذہب کی طرف منتقل ہوئے ، اور یہ بہت عمد تھے فقہ ، نحو، فتویٰ دینے میں ، درس میں ، اور لکھنے میں

یہ صحیح السماع ثقہ تھے نقل کرنے میں ، ظریف اور صاحب اثر تھے

 

۳۔ امام ابن عیسی بن عبدالعزیز الشریشی

 

191 – ابن عيسى عيسى بن عبد العزيز الشريشي *

شيخ القراء بالإسكندرية، هو مطول في (طبقات القراء) ، الإمام، أبو القاسم عيسى ابن المحدث عبد العزيز بن عيسى بن عبد الواحد الشريشي.

مولده: بالثغر، سنة بضع وخمسين.

وسمع الكثير من: السلفي، وغيره.

وتلا على جماعة بالمتواتر والشاذ، وصنف في القراءات، وهو متهم ليس بثقة، وسماعه من السلفي صحيح، وأما في القراءات فكثير الدعاوي.

حدثنا عنه حسن سبط زيادة.

مات: سنة تسع وعشرين وست مائة

 

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں :

شیخ القراءت ، سکندریہ امام ابو القاسم عیسی بن محدث عبدالعزیز الشریشی ہیں

انہون نے امام سلفی سے بہت زیادہ سماع کیا ہے

اور یہ جماعت کے پر بہت زیادہ تلاوت کرتے انہوں نے قراءت کے بارے لکھا ہے ،

انکو تکذیب کی طرف منسوب کیا گیا ہے یہ ثقہ نہیں ہے

(یہ مذہب تبدیل کرنے کی وجہ سے ہوا اسکا رد آگے امام ذھبی کرینگے )

اور انکا سماع السلفی سے صحیح ہے

یہ قراءت کے امام تھے اور کثرت سے دعا کرتے تھے

 

امام ذھبی مذید فرماتے ہیں :

 

وسمع (الصحيح) من أبي الوقت، وسمع من: أبي زرعة المقدسي، وأبي علي أحمد بن الخراز، ومعمر بن الفاخر، وأبي الفتوح الطائي، وعدة.

وحدث بمكة في آخر عمره، وكان أولا حنبليا، ثم تحول شافعيا، ثم حنفيا، وكان من جلة الفقهاء، ذا دين وورع وبصر بالعربية.

 

انکا سماع صحیح ہے انکے والد کے دور میں اور ان میں بھی جن میں ابی زرعہ المقدسی ، ابی علی احمد الخزاز اور معمر بن الفاخر اور ابی فتوح الطائی اور کئیوں سے

 

اور انہوں نے آخری عمر میں کہ میں احادیث بیان کیں ، یہ پہلے حنبلی علماء میں سے تھے ، پھر یہ شافعی مذہب اپنا لیا اور پھر یہ حنفی مذہب پر پابند ہو گئے ،

یہ بہت اجلہ فقھا میں سے تھے ،

یہ اچھے دین والے ، اور عربی میں بہت عمدہ و اہل نظر والے تھے

 

قال ابن النجار: كان عالما، متدينا، حسن الطريقة، له معرفة بالنحو، كتب الكثير من التفاسير، والحديث، والتاريخ، وكانت أوقاته محفوظة.

قال ابن الحاجب: رأيتهم يرمونه بالاعتزال، فكتب تحته ابن المجد: قصر ابن الحاجب في وصف شيخنا هذا، فإنه كان إماما عالما، لم نر في المشايخ مثله إلا يسيرا.

 

امام ابن نجار نے کہا : یہ عالم تھے اور دیندار تھے ، اچھے طریقے والے تھے یہ اہل معرفت والے تھے نحو میں ، انکی کثیر کتب ہیں جن میں تفاسیر و حدیث ، تاریخ کی ہیں ،

 

ابن الحاجب نے کہا کہ میں نے دیکھا انکو نکال دیا گیا چناچہ ابن المجد نے لکھا کہ ابن حاجب نے انکا ترجمہ بہت چھوٹا کر دیا

یہ امام اور عالم تھے ہم نے اپنے مشائخ میں ان جیسا کوئی شازو ناظر ہی دیکھا

 

تحقیق دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی