اول قطب کون،سیدہ فاطمہ یا سیدنا ابوبکر…اور مفتی چمن زمان کا رد…………..!!

.

مفتی چمن زمان نے اپنی کتاب المحفوظہ میں دو چار وہ حوالے لکھے جس مین تھا کہ سیدہ فاطمہ اول قطب ہیں جمھور و اکثریت علماء و صوفیاء کا کیا نظریہ ہے یہ بتانا گوارا نہ کیا، بتاتے تو * پکڑی جاتی…اتنے سلیس انداز میں لکھتے گئے کہ بندہ یہی سمجھے کہ سیدہ فاطمہ اول قطب ہیں….مگر چونکہ المحفوظہ میں صرف عبارات تھیں، خود مفتی چمن زمان کا مختار کیا ہے دوٹوک نہ لکھا مگر تقریرا یہی سمجھا جائے گا کہ انکا مختار یہی ہے کہ اول قطب فاطمہ ہے پھر چند دن قبل ایک وڈیو میں دوٹوک کہا کہ اللہ نے چونکہ مقام قطبیت سے نوازنہ تھا اس لیے سیدہ فاطمہ کو نسوانی عوارض(حیض و نفاس)سےپاک فرمایا او کما قال….سیدہ فاطمہ کی قطبیت سے کوئی شرعی خرابی لازم نہ آتی تو ہم اس موضوع پر ہرگز نہ لکھتے مگر خود مفتی چمن زمان لکھ چکے جو علماء صوفیاء کا متفقہ فیصلہ بھی ہے کہ قطب اپنے وقت کے تمام مخلوق امتیوں میں افضل ہوتا ہے

لیھذا

*مفتی چمن زمان کے مختار کردہ قول کو مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ نبی پاک کے بعد افضل سیدنا صدیق اکبر نہین بلکہ فاطمہ افضل ہیں*

.

دو چار قابل ذکر اسلاف صوفیاء کی طرف منسوب ہے کہ انہوں نے سیدہ فاطمہ کو اول قطب کہا ہے اور بعض نے انکےقول کی دلیل کشف کو قرار دیا ہے

جبکہ

دوسری طرف صاف صاف دو ٹوک احادیث و صحابہ و اہلبیت تابعین و جمھور اسلاف کے اقوال ہیں کہ افضل بعد الانبیاء سیدنا ابوبکر ہیں پھر عمر پھر عثمان پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین

بلکہ

کتب میں تصریحات موجود ہیں کہ جمھور و اکثریت علماء و صوفیاء کے مطابق اول قطب سیدنا ابوبکر ہیں پھر عمر پھر عثمان پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنھم

.

#کشف کے بارے میں سیدی امام احمد رضا علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

سچا کشف(مراقبہ،خواب)ہمیشہ شریعت کےمطابق ہی آتا ہے،جس کشف(مراقبہ،خواب)کی شہادت کتاب وسنت نہ دیں وہ محض لا شیئ(غیر معتبر) ہے

(فتاوی رضویہ،21/549,555)

.

#اول_قطب کے بارے میں حق چار یار کی نسبت سے چار حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے:

①و فی شرح المواهب اللدنية قال: أول من تقطب بعد النبی الخلفاء الأربعة على ترتيبهم في الخلافة، ثم الحسن هذا ما عليه الجمهور

شرح المواهب اللدنية میں ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جو قطب ہیں وہ خلفائے اربعہ ہیں اس ترتیب پر جو ان کی خلافت کی ترتیب ہے یعنی سب سے پہلے قطب سیدناابوبکر صدیق ہیں پھر سیدنا عمر پھر سیدنا عثمان ہیں پھر سیدنا علی قطب ہیں پھر سیدنا حسن(رضی اللہ تعالیی عنھم اجمعین)اور یہ وہ(نظریہ قول) ہے کہ جس پر جمہور(علماء اور صوفیاء)ہیں

(جلاء القلوب2/265)

.

②وأول من تقطب بعد النبي يَةُ الخلفاء الأربعة على ترتيبهم في الخلافة، ثم الحسن، هذا ما عليه الجمهور

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جو قطب ہیں وہ خلفائے اربعہ ہیں اس ترتیب پر جو ان کی خلافت کی ترتیب ہے یعنی سب سے پہلے قطب سیدناابوبکر صدیق ہیں پھر سیدنا عمر پھر سیدنا عثمان ہیں پھر سیدنا علی قطب ہیں پھر سیدنا حسن(رضی اللہ تعالیی عنھم اجمعین)اور یہ وہ(نظریہ قول) ہے کہ جس پر جمہور(علماء اور صوفیاء)ہیں

(مشتهى الخارف الجاني ص506)

.

③وبعد عصرہ صلی اللہ علیہ وسلم خلیفتہ القطب، متفق علیہ بین اہل الشرع و الحکماء۔۔۔انہ قد یکون متصرفا ظاہرا فقط کالسلاطین و باطنا کالاقطاب و قد یجمع بین الخلافتین کالخلفاء الراشدین کابی بکر و عمر بن عبدالعزیز

اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ مبارکہ کے بعد جو آپ کا خلیفہ ہوا وہی قطب ہے اس پر تمام اہل شرع(علماء صوفیاء)اور حکماء کا اتفاق ہے کہ خلیفہ کبھی ظاہری تصرف والا ہوتا ہے جیسے کہ عام بادشاہ اور کبھی فقط باطنی تصرف والا ہوتا ہے جیسے کہ قطب اور کبھی خلیفہ ایسا ہوتا ہے کہ جو ظاہری تصرف بھی رکھتا ہے اور باطنی تصرف بھی رکھتا ہے(وہ بادشاہ بھی ہوتا ہے اور قطب بھی ہوتا ہے)جیسے کہ خلفائے راشدین مثلا سیدنا ابو بکر صدیق اور عمر بن عبدالعزیز

(نسیم الریاض3/30ملتقطا)

.

④قطب…..وھو الغوث ایضا و ھو سید الجماعۃ فی زمانہ۔۔یحوز الخلافۂ الظاہریۃ کما حاز الخلافۃ الباطنیۃ کابی بکر و عمر و عثمان و علی رضوان اللہ تعالیٰ علھیم…و ذہب التونسی من الصوفیۃ الی ان اول من تقطب بعدہ صلی اللہ علیہ وسلم ابنتہ فاطمۃ و لم ار لہ فی ذالک سلفا

قطب اس کو غوث بھی کہتے ہیں اور وہ اپنے زمانے میں تمام امتیوں کا سردار و افضل ہوتا ہے…خلیفہ کبھی ایسا ہوتا ہے جو ظاہری خلافت بھی پاتا ہے اور باطنی خلافت و قطبیت بھی پاتا ہے جیسے کہ سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر اور سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اجمعین اور صوفیاء میں سے تونسی اس طرف گئے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد اول قطب ان کی بیٹی فاطمہ ہے اور ہم اس مسئلہ میں ان کا کوئی ہمنوا و حوالہ نہیں پاتے

(مجموع رسائل ابن عابدین 2/265ملتقطا)

.

#پہلے صحابہ(ابوبکر و عمر وغیرہ)پھر اہلبیت

حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ»

ترجمہ

ہم صحابہ کرام لوگوں کے درمیان فضیلت دیتے تھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ مبارک میں تو ہم فضیلت دیتے تھے سب سے پہلے ابو بکر صدیق کو پھر سیدنا عمر کو پھر عثمان بن عفان کو ُ(پھر سیدنا علی کو)

[صحيح البخاري ,5/4روایت3655]

.

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: «أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ ہیں میں ہم صحابہ کرام کہا کرتے تھے کہ کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے پہلے افضل ابوبکر صدیق ہے پھر سیدنا عمر سیدنا عثمان(پھر سیدنا علی)

[سنن أبي داود ,4/206روایت4628]

علی…افْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، عُمَرُ

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ

نبی پاک کے بعد تمام امت میں سے سب سے افضل ابوبکر ہیں پھر عمر

(مسند احمد2/201)

.

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:

خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أبو بكر، وخير الناس بعد أبي بكر عمر

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام لوگوں سے بہتر.و.افضل ابوبکر ہیں اور ابوبکر کے بعد سب لوگوں سے بہتر.و.افضل عمر ہیں…(ابن ماجہ روایت نمبر106)

.

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ , ثنا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْخَزَّازُ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا مَعْشَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ نَقُولُ:أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ

ترجمہ:

ہم صحابہ کہا کرتے تھے کہ

نبی پاک کے بعد تمام امت میں سے سب سے افضل ابوبکر ہیں پھر عمر

(مسند الحارث=بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث2/888 روایت959)

.

خَطَبَنَا عَلِيٌّ، فَقَالَ: ” مَنْ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ ” فَقُلْتُ: أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: ” لَا خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ

سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے خطبہ دیا اور ہم سے پوچھا کہ اس امت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل کون ہے راوی کہتا ہے کہ میں نے کہا آپ امیر المومنین….تب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نہیں میں(علی سب سے افضل)نہیں، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین اور افضل ترین شخص ابوبکر صدیق ہیں پھر عمر ہیں

[مسند أحمد ط الرسالة ,2/201 روایت834]

.

الحدیث التقریری:

كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَيَسْمَعُ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُنْكِرُهُ

ہم صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی کہا کرتے تھے کے اس امت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ افضل ابوبکر ہیں پھر عمر پھر عثمان ہیں ( پھر سیدنا علی) حضور علیہ السلام یہ سنتے تھے اور اس کا انکار نہ فرماتے تھے

[المعجم الكبير للطبراني ,12/285حدیث13132]

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,bip nmbr

00923468392475

03468392475