روزہ نہ رکھ سکیں توکیا احکامات ہیں }

کوئی شخص بیمار ہو روزہ نہ رکھ سکے جتنے روزے وہ پالے وہ رکھ لے جو رہ جائیں صحت یابی کی بعد اس کی قضاء کرے مسافر پر روزے کی وقتی طور پر چھوٹ ہے ۔

مسئلہ : ایک شخص کے مسافری میں تین دن کے روزے رہ گئے مثلاً تیسواں چاند تھا ستائیس روزے اس نے رکھے تین رہ گئے توکوشش کرے کہ وہ عید کے فوراً بعد رکھ لے ۔

مسئلہ : عورت کے یہاں بچہ پیدا ہوا وہ ناپاک ہے نفاس والی ہے وہ روزہ نہیں رکھے گی اِسی طرح کسی عورت کو حیض آتا ہو وہ بھی روزے نہیں رکھے گی لیکن یہاں کچھ ابہام ہے کہ عورت کو جتنے دن حیض آئے اگر اسے عادت مسلسل سات دن کی ہے اورچھ دن میں حیض بند ہوجائے تووہ ساتوے دن کا بھی انتظار کرے اپنی عادت کو پورا کرے ۔

مسئلہ : نفاس کی مدّت چالیس دن نہیں جیسا کہ عورتوں میں مشہور ہے بچے کی ولادت کے ایک ہفتے بعد عورت مطمئن ہوگئی کہ خون بند ہوگیا ہے اس کے بعد وہ روزے بھی رکھے اورنمازیں بھی پڑھے اگر بیس کے بعد مطمئن ہوجائے کہ اب خون نہیں آرہا تووہ بیس دن کے بعد غُسل کرکے نمازیں بھی پڑھے اورروزے بھی رکھے۔

مسئلہ : چالیس دن کے بعد بھی اگر عورت کو خون آئے تو اب ہم اس کو نفاس نہیںکہیں گے بلکہ اس کا نام فقہاء نے استحاضہ رکھا ہے استحاضہ اصل میں بیماری ہے ۔

مسئلہ : کینسر جب ایسی حد کو چُھو جائے جہاں سے مریض کی صحت یابی ممکن نہیںیعنی مریض اب پوری زندگی روزے نہیں رکھ سکے گا ایسی صورت میں ایسا مریض فدیہ دے گا۔

مسئلہ : ایک شخص شوگر کے مرض میں مبتلا ہے اس مرض میں بھوکا رہنا شوگر کو بڑھاتاہے ایسی صورت میں بھی وہ فدیہ دے گا۔

مسئلہ : آج کل ہلکا سابُخار ہوجائے ڈاکٹر نماز اور روزے کا منع کردیتے ہیں ان ڈاکٹر وںکی بات نہیں مانی جائے گی شرعی اعتبار سے ڈاکٹر کا دیندار ہونا ضروری ہے کیونکہ دیندارڈاکٹر ہلکی پھلکی بیماری میں نماز ،روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں دے گا۔

مسئلہ : فدیہ کتنا ہے علمائِ کرام نے اس کی مقدار سواد و سیر آٹے کی قیمت بتائی اس زمانے جو دوکلو اورکچھ اُوپر بنتا ہے آپ ایک روزے کا فدیہ دوکلو اوردو سو گرام آٹا یا اس کی قیمت دے دیں یہ ایک روزے کا فدیہ ہے ۔

مسئلہ : فدیہ رقم کی شکل میںبھی دے سکتے ہیں اِسی طرح تیس روزے کا فدیہ ایک ہی شخص کو بھی دیا جاسکتاہے ۔

مسئلہ : فدیہ صحیح العقیدہ سُنّی مسلمان کو دیں بد مذہبوں کو دینے سے فدیہ ادا نہ ہوگا۔

مسئلہ : فدیہ شرعی فقیر کو دیں شرعی فقیر وہ ہے جو زکوٰۃ کا مستحق ہو اس کو فدیہ دیا جاسکتاہے ۔

مسئلہ : ماں باپ اگر بہت زیادہ ضعیف ہیں کہ ان میں روزہ رکھنے کی طاقت نہیں اورنہ ہی آئندہ طاقت آنے کی امید ہے تواُن کی اجازت اُن کی نیت شامل کرکے اُولاد اُن کی طرف سے فدیہ دے سکتی ہے ۔ پھر اگر طاقت آگئی توان کو سارے روزے قضا کرنے ہوں گے۔