روزے کی قسمیں }

فرض کی دوقسمیں ہیں (1) فرض معیّن (2) فرض غیر معیّن۔

واجب کی دوقسمیں ہیں (1) واجب معیّن (2) واجب غیر معیّن ۔

رمضان کے روزے فرض معیّن ہیں ان کی قضا غیر معیّن ہے اگر کسی نے یہ کہا میرا فلاں کام ہوگیا توپیر کے دن روزہ رکھوں گا یہ واجب معیّن ہے ۔

اگر کسی نے یہ کہا کہ میرا یہ کام ہوگیا تومیں تین روزے رکھوں گا یہ واجب غیر معیّن ہے ۔

مسئلہ : ذی الحجہ کی دس ، گیارہ ، بارہ ، تیرہ تاریخ اورایک عید الفطر کے دن یہ پانچ روزے رکھنا حرام ہیں۔

مسئلہ : جھوٹ، غیبت ، چغلی ، گالی دینا ، بیہودہ باتیں کرنا، کسی کو تکلیف دینا یہ چیزیں ویسے بھی ناجائز وحرام ہیں روزہ میں اورزیادہ حرام اوران کی وجہ سے روزہ بھی مکروہ ہوتاہے ۔

مسئلہ : روزہ دار کو بِلا عذر کسی چیز کا چھکنا یا چبانا مکروہ ہے چکھنے کے لئے عذر یہ ہے کہ مثلاً شوہر یا آقا بد مزاج ہے نمک کم وبیش ہوگا تواس کی ناراضگی کا باعث ہوگا تواس وجہ سے چکھنے میں حرج نہیں چبانے کے لئے یہ عُذر ہے کہ اتنا چھوٹا بچہ ہے کہ روٹی نہیں کھا سکتا اورکوئی نرم غذا نہیں جو اسے کھلائی جائے نہ اورکوئی اور ایسا ہے جو اسے چبا کر دے دے تو بچہ کو کھلانے کے لئے روٹی وغیرہ چبانا مکروہ نہیں ۔ (درمختار)

چکھنے کے معنی وہ نہیں جو آج کل بولا جاتاہے کہ کسی چیز کا مزہ معلوم کرنے کے لئے اس میں سے تھوڑی کھالیا کہ ایسے چکھنے سے مکروہ ہونا کیسا روزہ ہی جاتا رہے گا بلکہ اگر کفارہ کے شرائط پائے جائیں توکفارہ بھی لازم ہوگا بلکہ چکھنے سے مُراد یہ ہے کہ زبان پر رکھ کر مزہ پہچان لیں اوراُسے تھوک دیں اس میں سے حلق میں کچھ نہ جانے پائے ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ : کوئی چیز خریدی اور اس کا چکھنا ضروری ہے اگر نہ چکھے گا تو نقصان ہوگا توچکھنے میںحرج نہیں ۔(درمختار)

مسئلہ : منہ میں تھوک اکٹھا کرکے نگل جانا بغیر روزہ کے بھی درست نہیں اورروزے کی حالت میں ایسا کرنا مکروہ ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ : ایک آدمی دن بھر روزہ رکھنے کے بعد وہ یہ سمجھ کر کہ جتنی تکلیف زیادہ ہوگی ثواب اس قدر ملے گا تووہ افطار کے وقت نہ افطار کرے اورنہ سحری کے وقت سحری کرے اورجان بوجھ کر دوسرے دن روزہ رکھ لے اس کو علماء نے مکروہ تنزیہی لکھا ۔

مسئلہ : اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے یہ کہہ دیا کہ تومیری ماں جیسی ہے یہ الفاظ اگر طلاق کی نیت سے کہے تو طلاق واقع ہوجائے گی یہ الفاظ اگر غُصے میں اپنی بیوی سے کہہ دئیے توعلماء نے اس کا نام ظہار رکھا ، ظہار کے معنی یہ ہیں کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو ماں کہہ دیا تو اس پر اس کی بیوی حلال نہیں۔

ایسے شخص کو اب ساٹھ روزے پے درپے رکھنے ہوں گے ساٹھ روزے رکھنے کے بعد اب اس کی بیوی اس کے لئے حلال ہوگی اگراس نے اُنسٹھ روزے رکھے اور ایک روزہ چھوڑ دیا تو پھر وہ شروع سے دوبارہ ساٹھ روزے رکھے گا۔