أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَمَا كُـنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر نہ آسمان سے کوئی لشکر نازل کیا اور نہ ہم نازل کرنے والے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر نہ آسمان سے کوئی لشکر نازل کیا اور نہ ہم نازل کرنے والے تھے وہ صرف ایک زبردست چیخ تھی جس سے وہ اچانک بجھ کر رہ گئے (کہا گیا) ہائے افسوس ان بندوں پر جب ان کے پاس کوئی رسول آیا یہ اس کا مذاق اڑانے والے تھے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموموں کو ہلاک کردیا تھا جو اب ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گی اور وہ سب ہمارے ہی سامنے پیش کئے جائیں گے (یٰسین :28-32)

سابقہ امتوں نے کافروں کا خلاف فرشتوں کو نازل نہ کرنے اور ہماری …امت کے کافروں کے خلاف فرشتوں کو نازل کرنے کی توجیہ

قتادہ نے یٰسین :28 کی تفسیر میں کہا جب انہوں نے اس بستی کے رسولوں اور حبیب نجار کو قتل کردیا تو پھر ہم نے اس بستی میں کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو کوئی نعمت عطا کرے اور وہ قوم اس نعمت کی قدر نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس قوم سے نعمت واپس لے لیتا ہے اور پھر اس قوم کو وہ نعمت عطا نہیں کرتا، اندلس کے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے حکومت کی نعمت عطا کی انہوں نے اس نعمت کی قدر نہیں کی اور رقص و موسیقی کی محفلوں اور آپ کی لڑائیوں اور طوائف الملوکی کا شکار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ نعمت واپس لے لی اور آٹھ سو سال اندلس پر حکومت کرنے کے بعد مسلمانوں سے یہ نعمت لے لی گی اور عیاسئیوں نے مسلمانوں کو قتل کردیا، یا جلا وطن کردیا، یا جبراً عیسائی بنادیا اور اب وہاں بہت کم تعداد میں برائے نام مسلمان ہیں، اسی طرح ایک دور تھا جب تین براعظموں میں یعنی یورپ، ایشیا اور افریقہ کے متعدد ممالک میں مسلمانوں کی مستحکم حکومتیں تھیں لیکن جب مسلمانوں کی اکثریت نے اسلام کے احکام پر نہ صرف یہ کہ عمل کرنا چھوڑ دیا بلکہ وہ اسلام کے احکام پر عمل کرنے کو باعث عار سمجھنے لگے تو پھر ان کی حکومتیں غیر مستحکم ہوگئیں اور آج یہ حال ہے کہ مسلم ممالک ہر جگہ امریکا اور برطانیہ سے مرعوب ہیں اور ان کے زیر تسلط ہیں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں۔

اور حسن بصری نے اس آیت کی تفسیر میں کہا پھر ہم نے اس بستی میں وہ فرشتے نازل نہیں کئے جو انبیاء (علیہم السلام) پر وحی لے کر نازل ہوتے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور ہم نے اس کے بعد ان پر آسمان سے کوئی لشکر نازل نہ کیا، اس کی تسیر یہ ہے کہ ان بستی والوں کو ہلاک کرنے کے لئے ہمیں آسمان سے کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ ایک گرج دار چیخ نے ان سب کو ہلاک کردیا۔

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو آسمان سے کوئی لشکر نازل کرنے کی ضرورت نہی ہے تو پھر اس نے غزوہ بدر میں فرشتے کیوں نازل کئے تھے، غزوہ بدر کے متعلق یہ ایٓتیں ہیں :

(الانفال :9-10) اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سیف رما کر رہے تھے اللہ نے تمہاری داع قبول کی (اور فرمایا) میں ایک ہزار لگاتار آنے والے فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا اور اللہ کا ان فرشتوں کو بھیجنا صرف اس لئے ہے کہ یہ بشارت ہو اور تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہوں اور امداد صرف اللہ ہی کی طر سے ہوتی ہے، بیشک اللہ بہت غالب، بڑی حکمت والا ہے۔

(آل عمران :124-126) اور آپ اس وقت کو یاد کیجیے جب آپ مسلمانوں سے یہ فرما رہے تھے کیا تمہارے لئے ہرگز یہ کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تمہارے لئے تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہاری مدد فرمائے کیوں نہیں بلکہ اگر تم صبر کرو اور تم اللہ سے ڈرتے رہو تو یہ فرشتے تمہارے پاس اسی وقت آجائیں گے، تمہارا رب پانچ ہزار نشان زدہ فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور اللہ کا ان فرشتوں کو بھیجنا صرف اس لئے ہے کہ یہ بشارت ہوا اور تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہوں اور امداد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، بیشک اللہ بہت غالب، بڑی حکمت والا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر میں فرشتوں کا یہ لشکر کفار سے جنگ کرنے کے لئے نہیں بھیجا تھا اور نہ کفار کو ہلاک کرنے کے لئے ایک فرشتہ کو نازل کرنا ہی کافی ہوتا، بلکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو بشارت اور مسلمانوں کے اطمینان کے لئے بھجیا تھا، اس سلسلہ میں سورة الاحزاب کی حسب ذیل آیت سے بھی اعتراض ہوسکتا ہے :

(الاحزاب : ٩) اے ایمان والو ! اللہ نے تم پر جو احسان کیا ہے اسے یاد کرو، جب تمہارے مقابلہ میں فوجیں آئیں، پھر ہم نے ان کے خلاف تندو تیز آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھیجے جن کو تم نے نہیں دیکھا اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اللہ اس پر بصیرت رکھنے والا ہے۔

اعتراض کی تقریر یہ ہے کہ یہاں یٰسین :28 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نازل نہیں کیا اور نہ ہم نازل کرنے والے تھے، حالانکہ غزوہ احزاب میں فرمایا ہے اور ہم نے ایسے لشکر بھیجے جن کو تم نے نہیں دیکھا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو فرشتوں کے لشکر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے، صرف ایک فرشتہ ہی پورے شہر اور پوری بستی کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک سکتا ہے، حضرت لوط (علیہ السلام) کی پوری بستویں کو حضرت جبریل نے اپنے پر سے اٹھا کر پلٹ ڈالا تھا اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم اور ثمود کے شہر، ان کی ایک چیخ سے ملیا میٹ ہوگئے اور صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے اور حضرت اسرافیل صور پھونکیں گے تو قیامت آجائے گی اور کائنات کی ہر چیز فنا ہوجائے گی، اس کے باوجود غزوہ بدر میں ایک ہزار سے پانچ ہزار فرشتے مسلمانوں کے اطمینان کے لئے نازلکئے گئے اور غزوہ احزاب میں فرشتوں کے لشکروں نے کفار کی فوجوں کے خیموں کی رسیاں کاٹ کر اور میخیں اکھاڑ کر ان کے دلوں میں رعب اور خوف طاری کیا، تو یہ صرف ہمارے نبی سیدنا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعزاز اور اکرام کو اور آپ کی فضیلت کو ظاہر کرنے کے لئے تھا کہ پچھلی امتوں کے کفار کو ہلاک کرنے کے لئے صرف ایک فرشتہ کو نازل کیا جاتا تھا اور یہ آپ کی خصوصیت ہے کہ آپ کے زمانہ کے کافروں کے دلوں پر صرف رعب طاری کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے صرف ایک فرشتہ کو نہیں بلکہ فرشتوں کے پورے لشکر بھیجا۔

حبیب نجار کی طرف قوم کی نسبت کرنے اور بعد کی تخصیص کی توجیہ

اس آیت میں دوڑ کر آنے والے شخص (حبیب نجار) کی طرف اس قوم کو نسبت کی گئی ہے جس پر عذاب نازل کیا گیا تھا، اور نبیوں کی طرف نسبت نہیں کی گئی حالانکہ بہ ظاہر رسولوں کی طرف اس قوم کی نسبت کی جانی چاہیے تھی کیونکہ ایک شخص کی قوم اس کی آل اور اس کے اصحاب ہوتے ہیں اور رسول کی قوم پوری جماعت ہوتی ہے کیونکہ وہ اس پوری آبادی کا رسول ہوتا ہے جس کی طرف اس کو بھیجا جاتا ہے اور وہ پوری آبادی اس کی قوم ہوتی ہے، اس صورت میں حبیب نجار کی طرف قوم کی نسبت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ وہ انکے نسب سے تھا اور رسول باہر سے بھیجے گئے تھے، دوسری وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں پر عذاب آیا وہ حبیب نجار کے رشتہ دار تھے اس لئے فرمایا اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر نہ آسمان سے کوئی لشکر نازل کیا اور نہ ہم نازل کرنے والے تھے۔

اس پر دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ نص نے رسولوں کی تکذیب اور حبیب نجار کو قتل کرنے سے پہلے بھی کسی پر آسمان سے فرشتوں کا لشکر نہیں بھیجا تھا پھر یہاں پر یہ تخصص کیوں فرمائی کہ ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر نہ آسمان سے کوئی لشکر نازل کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس بستی کے لوگ ان نبیوں اور رسولوں کی تکذیب اور قتل کئے جانے اور حبیب نجار کے قتل کئے جانے کے بعد عذاب کے مستحق ہوئے تھے اس وجہ سے بیان واقعہ کے طور پرف رمایا ہے کہ ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر نہ آسمان سے کوئی لشکر نازل کیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 28