أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ ؔ‌ۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(کہا گیا) ہائے افسوس ان بندوں پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا۔ یہ اس کا مذاق اڑاتے تھے

حسرت کا معنی اور اس بستی کے کافروں کی حسرت کے اسباب

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (کہا گیا) ہائے افسوس ان بندوں پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا یہ اس کا مذاق اڑانے والے تھے (یٰس ٓ: ٠٣)

اس آیت میں یہ الفاظ ہیں : یحسرۃ علی العباد ‘ کسی چیز کے فوت ہونے یا اس کے جاتے رہنے سے جو غم اور افسوس ہوتا ہے اس کو حسرت کہتے ہیں۔ اسی طرح کسی غلط کام کرنے پر جو ندامت ہوتی ہے اس کو بھی حسرت کہتے ہیں۔ حسر کا معنی منکشف ہونا اور تھکنا بھی ہے گویا اس پر منکشف ہوگیا کہ کس جہالت نے اس کو اس غلطی پر ابھارا تھا یا اس غلطی پر غلم اور افسوس کی وجہ سے اس کا اعضاء مضمحل ہوگئے اور اس کا جسًم نڈھال ہوگیا یا اس کا تدارک کرنے سے وہ عاجز ہوگیا۔(المفردات ج ١ ص ٥٥١۔ ٥٦١‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ٨١٤١ ھ)

طبری نے کہا ہے کہ ان کافروں کو خود اپنے اوپر افسوس ہوا کہ انہوں نے ان رسولوں کا کیوں مذاق اڑایا اور ان کو کیوں قتل کیا اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ لوگ اس محل میں تھے کہ ان کے ظالمانہ افعال پر افسوس کیا جاتا۔ ابو العالیہ نے کہا العباد سے مراد رسول ہیں ‘ کیونکہ جب کفار نے عذاب کو دیکھا تو افسوس کیا اور ان کو قتل کرنے پر اور اپنے ایمان نہ لانے پر نادم ہوئے اور انہوں نے اس وقت ایمان لانے کی تمنا کی جب ان کو ایمان لانے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ ضحاک نے کہا یہ فرشتوں کی کفار پر حسرت ہے کہ وہ رسولوں پر ایمان کیوں نہیں لائے۔

ایک قول یہ ہے کہ جب اس بستی کے کافر ‘ حبیب نجار کو قتل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے تو اس نے کہا ہائے ان بندوں پر افسوس ہے ! کیونکہ اب ان لوگوں پر عذاب کا آنا یقینتی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ رسولوں کا قول ہے اور اس طرح کے اور بھی مختلف اقوال ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 30