حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب میں اللہ عزوجل کی نافرمانی کررہا ہوتا ہوں تومجھے پتہ چل جاتا ہے کیوں اس کے ” اثر ” سے میرے گدھے اور غلام کی عادتیں بدل جاتی ہیں :رسالہ قشیریہ ص 60

امام جلال الدین السیوطی الشافعی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی ” تاریخ ” میں کئ ایسی روایتیں نقل فرمائ ہیں کہ جس میں سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے دور بھیڑیا اور بکری ایک ساتھ چرتے تھے بھیڑیا بکری پر حملہ نہیں کرتا: ایک دن بھیڑیا ایک بکری کو اٹھا لے گیا تو چرواہے نے کہا یقیناً آج سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا وصال ھوگیا : تاریخ الخلفاء ص 232

حاکم و سربراہان کے اچھے اعمال کا اثر اپنی رعایا ،گھر،بار نوکر ، چاکر پر ضرور پڑتا ہے

موسیقی کو روح کی غذا کا درجہ دینے والے ، جب اپنی بگڑی اولادوں سے تنگ آجاتے ہیں تو باباوں، عاملوں، دو نمبر پیروں سے تعویزات مانگتے ، دم کراتے نظر آتے ہیں تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے ،

یہی بگڑی اولادیں عموما اپنے بوڑھے ماں باپ کو اولڈ ہاوس میں ڈال آتے ہیں قرآن و حدیث و اصلاحی واقعات ان کو اول ہی سے سنائے ہوتے تو آج اپکے پاؤں دھوکر پیتے، ہاتھ چومتے ، پست آواز میں کلام کرتے،نظریں نیچی رکھتے؛؛

اگر یہ یاد رہتا کہ اسکے اصل پیر ، بابا ،عامل تو آپ خود تھے

کہ بچپن ہی سے اچھی تربیت کرتے، اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سکھاتے، صحابہ کی عظمت،

اولیاء کا ادب اسکی گھٹی میں شامل کرتے ،

تو یہی اولاد آپکی آنکھوں کا تارا، دل کا سکون و چین و راحت ھوتی،بڑھاپے کا سہارا، بعد مردن آپکی تجہیز و تکفین

و جنازہ میں سائڈ پر کھڑے ہونے کی بجائے اپنے ہاتھ سے یہ امور انجام دیتی، آپکو ایصالِ ثواب کروانے کی بجائے خود بھی ایصال کرتی !!

یاد رکھئیے ! آپ جو بھی ہیں لاکھ چھپ کر گناہ کرلیں

اسکا اثر آپکی اولاد پر ضرور پڑے گا بظاہر آپ جتنے نیک

نظر آتے ہوں !!!!

اللہ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق بخشے !!!

ابنِ حجر

31/1/2020