ایک روایت ہے

” اہلِ قبلہ کی تکفیر نہ کرو”

یعنی جس نے کلمہ پڑھ لیا اسے مسلمان جانو اور اسے کافر نہ کہو

مگر اس روایت کی گہرائ میں جائیں تو عقدہ کھلے گا کہ

اس کے مطلب وہ نہیں جو بدمذہب لیتے ہیں۔

مثلاً آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مانو

اور “دجال اعظم” کو بھی نبی مانتے رہو۔۔۔

پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو سب نبیوں میں

افضل جانو مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان سے

افضل مانو۔۔۔۔۔

کلمہ پڑھتے رہو ، انبیاء پر بھونکتے رہو، صحابہ پر تبرا کرتے

رہو، اولیاء کی شان گھٹاتے رہو، نماز و روزہ کو اشارةً و کنایتہ ہلکا جانتے رہو،

کلمہ پڑھو ، اور زنادقہ و جبریہ و قدریہ و جہمیہ و متعزلہ

کا دفاع کرتے رہو۔۔

نہ نہ ایسا ہر گز نہیں ۔۔۔۔ بلکہ کلمہ کے تحت جس جس کا

ماننا ضروری و لازم ہے اسے مانو

اب اس کلام کو اس سے سمجھیں !

قرآن میں ہے ” رکوع کرنے والوں کیساتھ رکوع کرو”

اسکا ظاہر کلام تو یہ ہے کہ نہ قیام کرو، نہ تلاوت، نہ تسبیحات پڑھو، جیسے ہی امام و مقتدی رکوع میں

جائیں فوراً رکوع کرلو ، جیسے ہی سر اٹھائے آپ

ان سے علیحدہ ہوجاؤ؟

ظاہر ہے اس آیت میں ہر گز یہ مراد نہیں ، کوئ جاہل ہی ایسا سوچ سکتا ہے بلکہ ” رکوع” کہہ کر یہاں ” جماعت”

مراد ہے کبھی جُز کہہ کر کُل مراد لی جاتی ہے

ورنہ اس اصول سے نہ مرزئ کافر نہ ماتمی قمی۔۔

ابنِ حجر

1/2/2021ء